ریاض، 14 نومبر 2025 (پریس ریلیز): سعودی عرب میں اپووا کی طرف سے استراحہ مزاحمیہ میں تفریحی ، ثقافتی اور ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مہمان خصوصی مولانا عبیدالرحمن خان ریاضی (سیج کنسلٹینٹ) جو اس وقت سعودی عرب کے دورے پر ہیں نے اظہار خیال کرتے ہوئے عرض کیا کہ مجھے آپ لوگوں کی آپسی ربط وضبط اور میل و محبت کو دیکھ کر غیر معمولی خوشی ہورہی ہے- بچوں کے درمیان جو مسابقہ ہوا آپ نے اس کو سراہتے ہوئے بیان کیا کہ اولاد کی صحیح تربیت کے لیے ایسے مسابقے کلیدی رول ادا کرتے ہیں- صدر محفل ڈاکٹر ظہیر احمد نے اپنے صدارتی خطبے میں یہ بیان کیا کہ اچھے معاشرے کی تشکیل کے لیے کردار سازی پر توجہ ضروری ہے آپ نے مزید عرض کیا کہ اخلاقیات جب عمل میں ڈھلتی ہے تو کردار بنتا ہے-

عزیزم شادن عرفان کی تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا-

عبدالرحمن راشد عمری نے نعت پیش کی "مانا کہ ہوں زمان ومکاں کے حصار میں لیکن خیال وفکر کے غارحرا میں ہوں”

ڈاکٹر عبدالاحد چودھری (صدر اپووا) نے حاضرین کا استقبال کیا اور آپسی اخوت و بھائی چارہ ، تقوی وپرہیزگاری اور بچوں کی تربیت پر زور دیا اور عرض کیا کہ آج کے پروگرام میں تفریحی ، ثقافتی اور ادبی چیزوں کو اس لیے جگہ دی گئی جس کا مقصد ہر قسم کے لوگوں کو لطف اندوز اور محظوظ کرنا تھا-

یاد رہے کہ LKG سے بارہویں کلاس کے بچوں اور بچیوں کا پانچ گروپ تیار کرکے مسابقہ کرایا گیا جس میں طلبہ و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا- پہلے گروپ کے ممتحن محمد عرفان خان اور محمد اکمل خان ، دوسرے گروپ کے ممتحن حسان ابوالمکرم اور فیروز کمال ، تیسرے گروپ کے حافظ محمد مصطفی اور امیراللہ ، چوتھے گروپ کے حافظ زھیر احمد ، ڈاکٹر نعیم الحق اور پانچویں گروپ کے ڈاکٹر حافظ ظہیر احمد ، سراج عالم زخمی نے اپنی ذمہ داریاں بحسن وخوبی انجام دیں- اس مسابقے میں پہلے گروپ میں رحاب زھیر احمد ، دوسرے گروپ میں حفصہ اکمل ، تیسرے گروپ میں جویریہ زھیر احمد ، چوتھے گروپ میں ضحی اکمل اور پانچويں گروپ میں طوبی اکمل نے پہلی پوزیشن حاصل کی-

طلبہ وطالبات میں خوشی کی لہر تھی الحمدللہ ہر عمر کے بچوں کو تشجیعی انعام دیا گیا-

اپووا کے صدر ڈاکٹر عبدالاحد چودھری نے مہمان خصوصی اور صدر محفل کی اپووا کے سرپرست انجنیئر عبدالمعین خان نے پھولوں سے تہنیت کی- مہمان خصوصی کو ایک یادگار شیلڈ بھی پیش کیا گیا-

اولاد کی تربیت کے موضوع پر حافظ محمد مصطفی نے اپنے خطاب میں عرض کیا کہ سب سے پہلے ہمیں ایک دین دار بیوی کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ بچوں کی صحیح تربیت ہوسکے- اسی طرح توحید ، صلاہ اور دینی امور پر اولاد کی مکمل توجہ مبذول کرائی جائے تاکہ ان کے دل ودماغ پر یہ چیزیں نقش ہوجائیں-

اس موقع پر شعری نشست کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں تین شعراء کرام نے حصہ لیا اور ان تمام کا تعلق ہندوستان سے تھا- شعراء کو شہ نشیں پر مدعو کیا گیا جس کے بعد ان کی گلدستوں سے عزت افزائی کی گئی- جنرل سکریٹری سراج عالم زخمی نے شعراء کا خیر مقدم کرتے ہوئے عرض کیا کہ شاعری روح کی ایسی سرشاری ہے جس سے ہر شاعر اپنے ذوق کے مطابق لطف اٹھاتا ہے آپ نے مزید کہا کہ شاعری سخن کی معراج ہے-

آپ نے شروع سے اخیر تک مختلف اشعار پیش کرتے ہوئے اپنے منفرد انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیے-

جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا وہ یہ ہیں:

عبدالاول سنگرامپوری

آرزوئے دل کی یوں توقیر ہونی چاہیے

آپ ہی سے نسبت تقدیر ہونی چاہیے

عبدالرحمن راشد عمری

بے چینیاں ہیں اب بھی غم روزگار کی

یہ اور بات کانٹوں کا بستر بدل گیا

سراج عالم زخمی

تری گلی کو مٹانے کے بعد غور کیا

ہمارے شہر کے نقشے میں کچھ نہیں بچتا

اس موقع پر شہر ریاض کی علیگ ، جامعی ، سلفی ، قاسمی ، ندوی اور فلاحی برادری کی ایک بڑی تعداد موجود تھی نیز وصی اللہ ندوی ، عبدالرب خان ، عبدالمبین ندوی ، انجینئر سید غفران احمد ، محمد یعقوب ، شاہد خان ، عبدالحق ، ظفر عالم ، عبدالمعید ، فضل الرحمن وغیرهم بھی موجود تھے- پروگرام کے اختتام پر فیروز کمال جوائنٹ سکریٹری نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور عشائیے کی دعوت دی-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے