زین العابدین بن عبدالرحمن ۔۔

ممبرا ممبئی

دین کا ٹھیکہ ہم نے فقط حفاظ و علماء کے کندھوں پر رکھا ہوا ہے یہ تو ان کے ذمہ ہے سمجھ آگیا ہے دنیا کا ٹھیکہ کس کے ذمہ ہے ؟ دنیا میں ہر موڑ پر اگر ہم پیچھے رہیں گے تو ملت اسلام کی ترقی کیسے ممکن ہے ؟ اور ظاہر سی بات ہے کہ دنیا کا اقتدار جن کے ہاتھ میں ہے وہ اپنے من سے جیسا چاہیں چلائیں گے اور ہم مذہبی طبقہ انکے پیچھے چلیں گے چاہے مجبوراً ہی کیوں نہ چلیں ۔۔۔یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم میں دینی طبقہ کثرت سے موجود ہے اہل علم بھی ماشاء اللہ ہر گروہ میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ,مسجد و مدارس کے انبار لگے ہیں ,اجتماعی طور پر دیکھا جائے تو دولت میں بھی کوئی کمی نہیں ہے مگر پھر بھی ہم ہر فیلڈ میں سب سے پیچھے ہیں وجہ یہی ہے وقت کی ضرورت جو ہے اس طرف ہم نے دھیان نہیں دیا اور جنہوں نے سوچا تو فقط سوچ کی حد تک محدود ہے ان کی سوچ بیان و کتاب کے اندر قید ہوکر رہ گئی ہے۔۔آپ دین کو چھوڑ کر اپنے ذہن میں سو بڑی چیزوں کا نام لے لیں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ 90 چیزوں کو وہ لوگ اوپریٹ کررہے ہیں جو دین نہیں جانتے ہیں ان کا دین سے کوئی تعلق ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ دین کی بنیادی تعلیم تو اول قرآن ہے جس کے عملی احکامات سے ہم کوسوں دور ہیں ,ہماری ذلت و رسوائی کے پیچھے بھی بنیادی وجہ تارک قرآن اور آپسی اختلافات ہیں ۔ہماری قوم کی اکثریت اپنی ایک واحد کتاب کو سمجھنے و عمل کرنے سے قاصر اب تک رہی ہے ۔دین کا اصلی اپنا رنگ پریکٹیکل کاموں میں ہے جس سے ہماری قوم بلکل پیچھے ہے تو سیکڑوں کتابیں پڑھ کر اور سندیں حاصل کرکے سوائے اپنا پیٹ بھرنے کا سوا اس سندی تعلیم کا کیا حاصل ہے ؟ دین کے ساتھ دنیاوی تعلیم اور دنیاوی چیزوں کی ترقی میں مہارت دلانا بھی وقت و حالات کا وہی تقاضہ ہے جو دین کا تقاضہ ہے ۔۔۔۔میری بات سے کوئی غلط معنی نہ نکالے۔میں دینی تعلیم سے منع نہیں کررہا ہوں بلکہ سالوں سال فقط دینی تعلیم حاصل کرکے ہم اپنے دینی مقصد میں کامیاب بھی نہیں تو ہوسکے ۔۔۔دین تو اول بنیاد ہے لاشک فیہ مگر دنیا کی تعلیم کو ,اور دنیا جس میں ترقی ہے اور جس جس فیلڈ میں کررہی ہے اس طرف ہمیں بھی بہت تیزی سے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔۔ہمیں اپنے بچوں کی ,نوجوانوں کی طرف ان کی ذہنی و جسمانی تربیت کی اشد ضرورت ہے ۔اس میں ملک و معاشرے کے بڑے ذمہ داران کو بڑے ہی شد و مد کے ساتھ سوچنے کی ضرورت ہے ۔اللہ ہم سب کو دین و دنیا میں ہر اعتبار سے کامیابی سے ہمکنار کر اور ہمیں تھیوری کے ساتھ عملی کاموں کی توفیق دے ۔آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے