پرتاؤل/مہراج گنج(پریس ریلیز): اسلامی تاریخ کا سب سے روشن اور عبرت آموز دور، خلافتِ راشدہ کا سنہرا زمانہ ہے۔ یہ وہ مبارک عہد ہے جس نے امتِ مسلمہ کو نہ صرف سیاسی عدل کا معیار دیا بلکہ نظمِ اجتماعی، رفاہی سلطنت اور علم و تہذیب کے ابدی اصول بھی عطا کیے۔ انہی روشن ستاروں میں ایک درخشندہ ستارہ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا بے مثال نظامِ حکم رانی ہے، جس کے آثار آج بھی تہذیبِ انسانی کی راہوں کو منور کر رہے ہیں۔
حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے جس بصیرت، حکمت اور دور اندیشی کے ساتھ رعایا کی خبرگیری کی، مساجد و مدارس کا جال بچھایا، رفاہی نظم قائم کیا اور انصاف کو اپنی سلطنت کا تاج بنایا،وہ دنیا کے ہر حاکم کے لیے ابدی نمونہ ہے۔ چار ہزار مساجد و مدارس کی تعمیر، رفاہی نظام کی آب یاری اور علم و عدالت کے فروغ کا جو باب آپ نے روشن فرمایا، وہ تاریخ کا ایسا سرمایہ ہے جس کی تجلیات کبھی ماند نہیں پڑ سکتیں۔
اسی فاروقی تدبیر کے حسین انعکاس کا نام حافظِ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدثِ مبارک پوری علیہ الرحمہ ہے۔ آپ کی علمی بصیرت، تنظیمی حکمت، ادارہ جاتی صلاحیت اور تربیتی دور اندیشی، اسی فاروقی شعور کا عکس جمیل ہے جس نے ”مبارک پور“ کو عالمی علمی نقشے پر سنہری حروف سے ثبت کر دیا۔
حافظِ ملت نے بفیض حضور اشرفی میاں علیہ الرحمہ ”مصباح العلوم“ کی بنیاد رکھ کر جس علمی چراغ کو روشن کیا، وہ آگے بڑھ کر ”الجامعۃ الاشرفیہ“ جیسا عظیم عالمی مرکز بنا۔ آپ نے تعلیمی و تعمیری منصوبہ بندی کو جس سرعت، وقار اور حکمت سے عملی جامہ پہنایا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اشرفیہ کے حسین نظامِ تعلیم و تربیت میں جو وسعت، ہمہ جہتی اور حسنِ ترتیب نظر آتا ہے، وہ فاروقی تدبیر ہی کا تسلسل ہے۔
حافظِ ملت نے نہ صرف بہترین اساتذہ کی جماعت تیار فرمائی بلکہ ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایسا معیاری اسٹیج فراہم کیا جس کی مثال برصغیر میں نہیں ملتی۔ آپ کے شفیق سایے میں تربیت یافتہ علما، فقہا، مفسرین، خطبا، ادیب اور داعیان دین، ہر ایک اپنی شان میں منفرد ہے اور اشرفیہ کی برکتوں کا عملی ثبوت ہے۔
آپ کے تربیت یافتہ جلیل القدر اکابر میں: عزیزِ ملت حضرت شاہ عبدالحفیظ مصباحی،علامہ حافظ عبد الرؤف علیہ الرحمہ، رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ، مفتی بدرالدین قادری علیہ الرحمہ، مفتی عبدالشکورعلیہ الرحمہ، علامہ نصیرالدین مصباحی، علامہ محمد احمد مصباحی اور دیگر بے شمار درخشندہ نام سیماب صفت جگمگاتے ہیں۔
فقہ و افتا کے عظیم مینار— فقیہِ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اور بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ بھی انہی کے فیضانِ تربیت کے درخشاں گوہر ہیں۔
تفسیر کے میدان میں مفسرِ ملت حضرت علامہ عبداللہ صاحب علیہ الرحمہ، تبلیغ و ارشاد میں علامہ ارشد القادریعلیہ الرحمہ، علامہ قمرالزماں اعظمی، علامہ بدر القادری علیہ الرحمہ، اور اصحابِ قلم میں علامہ یسین اختر مصباحی علیہ الرحمہ، علامہ افتخار مصباحی علیہ الرحمہ، علامہ عبدالمبین نعمانی—
یہ سب حافظِ ملت کے فیوض کی لازوال کرنیں ہیں۔
”شعبۂ نشر و اشاعت“، جس کے طفیل فتاویٰ رضویہ کی ترتیب و تدوین کا عظیم کام مکمل ہوا، اور ”مجلسِ شرعی“، جو آج امت کے پیچیدہ مسائل کا فقہی حل فراہم کر رہی ہے— یہ دونوں ادارے حافظِ ملت کے علم و تدبیر کے زندہ یادگار ثمرات ہیں۔ اس وقت اس کے امین سراج الفقہاء حضور مفتی نظام الدین رضوی برکاتی ہیں۔ حافظِ ملت کی شان یہ ہے کہ:
جس نے پیدا کیے کتنے لعل و گوہر
حافظِ دین و ملت پہ لاکھوں سلام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے