محمد جنیدقاسمی
گنج مرادآباد؍اناؤ۔
گزشتہ کل جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام صدسالہ تقریبات کے موقع پر سیمنار میں استاذگرامی قدرحضرت مولانا مفتی عمران اللہ صاحب قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند نے اپنی کتاب’اصلاح النساء‘ یہ کہتے ہوئے ہاتھ میں تھمائی کہ اس پر تبصرہ کرنا، مفتی صاحب بہت عجلت میں تھے۔ سیمنارمیں مقالہ پیش کرنے کے بعد وہ دیوبند چلے گئے۔ متعددباراستفسارکرنے کے باوجود یہی کہتے رہے کہ ابھی دیوبندنکلناہے۔ سچ یہ ہے کہ مفتی صاحب دامت برکاتہم میرے محسن اساتذہ میں ہیں، وہ اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی اور ان میں چھپاہواخزانہ تلاش کرکے اس کواستعمال میںلاتے ہیں۔ بہرحال حضرت مفتی صاحب ایک عرصہ سے قلم و قرطاس سے اپنا رشتہ استوارکیے ہوئے ہیں، ماہنامہ ندائے شاہی مرادآباد جونہایت پاکیزہ اورصاف ستھرا،اخلاص سے معمور یہ رسالہ ہے اپنی نوعیت کا منفردرسالہ ہے۔ مفتی عمران اللہ صاحب ایک عرصے تک اس رسالہ میں مضامین لکھتے رہے، اسی کی بدولت مفتی صاحب کی سب سے پہلی تصنیف ’تذکیر و اصلاح‘ کے عنوان سے اسی رسالہ میں شائع مضامین کا مجموعہ ہے۔ استاذگرامی قدرحضرت مولانا مفتی عمران اللہ صاحب قاسمی زیدعلمہ کو حضرت الاستاذ مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری زیدفضلہ کا اعتماد حاصل ہے۔ خاکسارنے خوددیکھا ’ماہنامہ ندائے شاہی‘ کی کمپوزنگ کے بعد مفتی صاحب طویل مضامین کے اختصار پیش کرتے تھے اور اپنے قلم سے پورے پورے پیراگراف حذف کردیتے تھے، مکمل تصحیح کا اہتمام کرتے تھے۔ اور اپنے شاگردوں کو بھی اس کام میں لگالیتے تھے، اور خود اس کی نگرانی فرماتے تھے ’ایک مرتبہ استاذگرامی قدرحضرت مولانا مفتی عمران اللہ صاحب قاسمی زید علمہ نے بتایا کہ مفتی سلمان صاحب منصورپوری زیدفضلہ نے کہا کہ ’آپ نے میری کتاب ’خطبات سیرت‘ پر تبصرہ نہیں کیا۔ مفتی عمران اللہ صاحب نے مسکراکر کہاکہ تبصرہ کے لئے ’دونسخوںکا آنا ضروری ہے‘ مفتی محمد سلمان صاحب زید فضلہ بہت زور سے ہنسے اور پھرکہا کہ بات توصحیح ہے‘‘۔
الغرض استاذگرامی قدر حضرت مولانا مفتی عمران اللہ صاحب قاسمی زید علمہ کی کتاب ’اصلاح النساء‘ حضرت تھانوی رحمۃاللہ علیہ کے وہ مواعظ جو خواتین سے متعلق ہیں، ان کی تسہیل وترتیب مفتی صاحب نے کی ہے۔ کتاب میں حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی دامت فیوضہم العالیہ مہتمم دارالعلوم دیوبند کی تحریر’کلمات بابرکت‘ کے عنوان سے ہے، دوسری تقریظ حضرت الاستاذ مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری زیدفضلہ کی ہے۔ عورتوں کی اصلاح نہایت ضروری ہے، پوراگھر،گھرکاماحول،خاندان سے اچھے روابط، ماحول سازی میں ایک خاتون کا بہت بڑاکردارہوتاہے، اگر خاتون نیک اور دینی مزاج کی حامل ہے تو ایک شوہر بھی اس کی ہمت افزائی کرتاہے اور مدد بھی کر تاہے، لیکن جب خاتون دینی مزاج کی نہیں ہوتی ہے، تو بڑی پریشانی کاسبب ہوتاہے۔ حضرت تھانوی کی تحریراور وعظ میں اللہ پاک نے وہ تاثیر رکھی ہے،جس سے بہت سی گنجلک باتیں حل ہوجاتی ہیں۔ ہمارے استاذ محترم حضرت مولانا مفتی عبدالقادر قاسمی بجنوری زیدعلمہ سبق میں ایک بات کہاکرتے تھے کہ ’’حضرت تھانوی کو پڑھاکرو،اس سے علم آئے گا،اور علم کی لذت محسوس ہوگی نیز دینی علوم میں مہارت بھی پیداہوگی‘‘۔ یہ سچ ہے کہ حضرت تھانوی کا ایک ایک ملفوظ دریابکوزہ ہے۔
پیش نظر کتاب انہیں مواعظ کے قیمتی منتخبات ہیں جو چھ اہم بیانات کاانتخاب کیاگیاہے۔ مفتی سلمان صاحب تحریرفرماتے ہیں: حضرت حکیم الامت مسلم معاشرہ کی اچھائیوں اور برائیوں پرپوری نظر رکھتے تھے اور جس طرح ایک حکیم اور ڈاکٹر مریض کا حال دیکھ کر مرض کی تشخیص اور مناسب نسخہ تجویز کرتاہے، بالکل اسی طرح حضرت موصوفؒ بھی اپنے مواعظ میں معاشرہ کے امراض کی تشخیص کرکے اُن امراض کودورکرنے کے لئے قیمتی ہدایات ارشاد فرماتے تھے‘‘۔
بعدازاں حضرت الاستاذ مفتی عمران اللہ صاحب نے’’حرف اولیں‘‘ کے عنوان سے چارصفحات میں کتاب کی افادیت اور مواعظ کا تعارف پیش کیاہے، مفتی صاحب لکھتے ہیں: ترتیب دادہ یہ جدید مجموعہ جس میں عورتوں کے لئے حضرت تھانوی رحمۃاللہ علیہ کے منتخب بیانات کو شامل کیا گیا ہے’’اصلاح النساء‘‘ کے نام سے منظرعام پر آرہاے، احقر نے تمام مواعظ کو ان کی اصل پر برقراررکھاہے، البتہ ضرورت کے مطابق کہیں کہیں پر عناوین کا اضافہ ، رموز املاء کی رعایت، عربی عبارات کی تصحیح ،اس پر اعراب آیات قرآنیہ اور احادیث شریفہ کا حوالہ ترجمہ ،مشکل الفاظ وتعبیرت کی آسان توضیح کرکے ان مواعظ کو عمدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘‘۔
الغرض کتاب اپنی نوعیت کی منفردہے، اہم مضامین شامل کرکے استفادہ کی راہ آسان کردی گئی ہے، اس لئے یہ کتاب ہرشخص اپنے مطالعہ میں رکھے۔
کتاب ۳۵۲؍صفحات پرمشتمل ہے۔طباعت نہایت اعلیٰ اور دیدہ زیب ہے۔ ادارہ فکراسلامی دیوبند یااس کے علاوہ دیگر مکتبات سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ بس یہ شکستہ تحریراستاذ محترم کی تعمیل میں چسپاں کردی گئی ہیں۔ گرقبول زہے افتد!محمد جنیدقاسمی ،گنج مرادآباد؍اناؤ
