۴؍جنوری ۲۰۲۶ء بروزاتوار کو کانپو رمیں تقریب اجراء منعقدہوگی انشاء اللہ

گنج مرادآباد،اناؤ:۷؍دسمبر: تاریخ نویسی اور خاکہ نگاری ایک عظیم فن ہے، اور یہ کوئی نیانہیں ہے بلکہ قدیم ہے،اور اس طرزکی بہت سی کتابیں وجودمیں آئیں ہیں، پیش نظرکتاب’وفیات ماہنامہ نظام کانپور‘ ہے جو ۵۵؍وفیات پرمشتمل ہے، ماہنامہ نظام کانپور نہایت اہم اور قیمتی رسالہ تھا، اس رسالہ کے نکلنے سے صحافت کی دنیا میں ایک نیامقام پیداہوا، اس کے مدیرحضرت مولانا قمرالدین مظاہری رحمۃاللہ علیہ تھے،وہ اس رسالہ کو نکالنے میں شب وروز محنت کرتے تھے،آٹھ نوسال تک یہ رسالہ نکلتارہااور پھر بندہوگیا۔ اس رسالہ میں گاہے گاہے سیرت وشخصیات پر مضمون شائع ہوتے تھے۔ یہ مضامین کبھی مدیرکے قلم سے اور کبھی معاون مدیرکے قلم سے تحریرہوتے تھے، مضمون کی ندرت اور اس کاحسن بیان ،اندازتحریردلکش ہوتاتھااور ساتھ ہی موعظت سے پرہوتا۔ اس رسالہ کی خوبی یہ تھی کہ اس کی پیشانی پر ’فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمدحسن گنگوہی رحمۃاللہ علیہ کانام ہوتا اور ان کے فتاویٰ شائع ہوتے تھے۔ چنانچہ راقم سطور کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اتناقیمتی اور مفید رسالہ ،نیزاس کے قیمتی مضامین ومباحث کو اگر یکجانہ کیاجائے توکم ازکم وفیات کے مضامین کو جمع کرلیاجائے ۔ راقم نے محنت شروع کی اور اسفارکئے ،لوگوں سے ملاقات کی ، جوکچھ جس کے پاس ملا،اس کو حاصل کیا،عکس لئے ،نیز پی ڈی ایف کاسہارالیا:غرضیکہ کوشش میں کسرنہیں باقی رکھی۔ لیکن یہ مرحلہ نہایت صبر آزما اور طویل سفرپرمشتمل تھا،محنت کے آگے سب پیچھے رہ گئے اور ایک اہم کتاب’’وفیات ماہنامہ نظام کانپور‘‘ کی شکل میں تیارہوگئی ۔چنانچہ اس موقع پر حضرت مولانا خلیل احمد مظاہری خطیب مسجد لال بنگلہ کانپور کا یہ اقتباس نقل کرتے ہیں: نوجوان اور باصلاحیت عالمِ دین مولانا مفتی محمد جنید قاسمی صاحب نے ماہنامہ نظام کے انہی وفیات کے کالموں کو جمع کرکے ایک نہایت اہم علمی خدمت انجام دی ہے۔یہ کام بظاہر ایک جمع و ترتیب معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ ایک تاریخی و تحقیقی کارنامہ ہے۔انہوں نے جن مضامین کو یکجا کیا ہے، وہ برصغیر کے علمی و دینی سرمائے کا ایک زندہ باب ہیں۔’’اس کتاب کی تیاری سے قبل ہم نے مولانا قمرالدین صاحبؒ کے بیٹوں سے رابطے کی شکل نکالی ، متعددعلماء کانپور سے رابطہ کیا،بیشترکاجواب میں نفی تھا، اس موقع پر ہمیں افسوس ہوا، لیکن تلاش بسیار کے بعدرسائی ہوگئی۔ ہمارے استاذ محترم حضرت مولانا مفتی حفظ الرحمن قاسمی سابق ڈائریکٹر حق ایجوکیشن اینڈریسرچ فاؤنڈیشن کانپور سے رابطہ ہوا، اور پھر تما م مراحل آسان ہوگئے ۔ ان کے بیٹے: ظفرالدین، ثمرالدین، نظرالدین، کمال الدین اورعزیزی مولوی حفظان سلمہ نے حوصلہ افزائی کی ،جس کے نتیجے میں ۴۵؍سال کے عرصے کے بعد حضرت مولانا قمرالدین مظاہریؒ کا نام نامی اسم گرامی روشن ہوااور ان کی قبر کو ایک شاندارروشنی کی کرن ملی۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سے امیدواثق ہے کہ اس کتاب کو قبولیت اور نافعیت نصیب ہوگی۔ اور اہل خانہ کے لئے ایک تعارف کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ ۴؍جنوری ۲۰۲۶ء بروزاتوار کوکانپور میں تقریب اجراء منعقدہوگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے