ڈومریاگنج (سدھارتھ نگر): اسلام سماج کے مختلف طبقات و مختلف رشتوں کے حقوق کو نہ صرف شرح و بسط سے بیان کرتا ہے۔ بلکہ اس کی ادائیگی کو عین دین و معاشرے کے تحفظ کا ضامن قرار دیتا ہے۔ اس تعلق سے بے شمار واقعات تاریخ کے کتابوں میں ثبت ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے۔ کہ اس پر عمل کیا جائے اور اس کے پیغام کو عام کرنے کی منظم کوشش کی جاۓ۔

مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا قمر الزماں قاسمی نے عالمی یوم حقوق انسانی کے ضمن میں مولانا محمد شریف فلاحی کی صدارت میں منعقد ہونے والے پروگرام میں طلباء و اساتذہ کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔

بعد ازاں ثقافتی پروگرام کے انچارج ماسٹر توقیر احمد نے یوم حقوق انسانی کے انعقاد کی تاریخ ، اور اس کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی و دستو ہند کے بنیادی حقوق کو بھی بیان کیا۔ صدر جامعہ مولانا محمد شریف فلاحی نے اپنے صدارتی خطاب میں حقوق انسانی کے عالمی منشور تعلیم، صحت، انصاف، روا داری، وغیرہ جیسے امور کی وضاحت کی۔ انھوں نے اس بات زور دے کہا آج بے شمار مواقع پر ملک کے شر پسند عناصر و حریص لوگ کمزور و پسماندہ طبقات کے حقوق کا استحصال کر رہے ہیں۔ جس کی باز یابی اور حقوق کی بحالی ملک کے ہر اچھے و سچے شہر ی کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ ملک کی ترقی کا راز عوام الناس کے حقوق کی ادائیگی میں مضمر ہے۔اس موقع پر محمد عمیر، احسان الحق، محمد ثاقب، محمد سمیع، محمد مقیم، محمد طیب، نے فولڈر و جداریہ کے ذریعے بیدار کیا اور دستور ہند میں بیان کیے گیے بنیادی حقوق کی وضاحت کی۔

اس موقع ماسٹر ثناء اللہ ماسٹر اشونی کمار ماسٹر محمد طاہر ماسٹر محمد عثمان مولانا عثمان علی قاسمی، مولانا فضیل احمد ندوی مولانا شبیر احمد فلاحی، مولانا صغیر احمد رحمانی مولانا فخر الدین فلاحی حافظ سلام اللہ حافظ امیر الاسلام کے علاوہ جملہ طلباء و اساتذہ موجود رہے۔ شاہ دل کی تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا نظامت کی ذمہ داری محمد عاطف نے انجام دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے