محمد وجیہ الدین جمال
امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے نائب ناظم مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی کی آسنسول تشریف آوری ہوئی۔ موصوف آسام اور اڈیشہ کے سیلاب زدگان کی ریلیف کے سلسلے میں اپنے دورے کے دوران آسنسول پہنچے اور یہاں امارت کے دفتر اور اسکول کا جائزہ لینے والے تھے لیکن مسلسل بارش کی وجہ سے ان کا پروگرام ملتوی ہوا۔
مختلف لوگوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے سب سے پہلے اصل سر کی مسلسل بارش سے سیلابی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس سیلاب زدگان اور متاثرین کی معاونت میں جو لوگ پیش پیش ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کے اقدام کی ستائش کی۔
بعد ازاں انہوں نے خصوصی گفتگو میں ملک کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتِ حال، اقتدار کے بدلتے ہوئے معیارات اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حوالے سے پیدا شدہ فکری و سیاسی چیلنجز کے پس منظر میں گہرے تجزیاتی نکات اور بصیرت افروز رہنمائی پیش کی ۔
انہوں نے فرمایا کہ موجودہ دور میں جہاں سیاسی مفاد پرستی، بے وزنی اور وقتی نفع خوری کا غلبہ ہے، وہیں مسلمانوں کو مایوسی اور خوف کے بجائے قرآنی اصولوں، نبوی حکمتِ عملی اور تاریخ کے تجربات کی روشنی میں خود کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔
۱. سیاسی بے وزنی اور مفاد پرستی کا کلچر،ملکی سیاست کے دوہرے معیارات کا احاطہ کرتے ہوئے انہوں نےواضح کیا کہ اقتدار کے ایوانوں میں اقلیتوں کی حقیقی نمائندگی اور ان کے مفاد کے لیے کوئی سنجیدگی موجود نہیں ہے۔ ماضی میں سرگرم رہنے والے مسلم چہروں کو بھی وقت کے ساتھ کنارے لگا دیا گیا۔
سیاسی میدان میں اب نظریات کے بجائے محض مفادات کی حکمرانی ہے، جس کے تحت "آیا رام، گیا رام” کا کلچر فروغ پا رہا ہے اور لوگ محض کرسی و مراعات کے لیے اپنے افکار و پارٹیاں بدل رہے ہیں۔ اس کلچر کے منفی اثرات سے نوجوان نسل کو محفوظ رکھنا ناگزیر ہے۔
۲. کثرتی سماج اور "بقائے باہم” کا نبوی فارمولاہندوستان جیسے کثیر المذاہب اور تکثیری سماج (Pluralistic Society) کے تعلق سے اسلامی شریعت کی واضح ہدایات کا اعادہ کیا۔
* تنازع للبقاء بمقابلہ بقائے باہم: دنیا میں قدیم دور سے "تنازع للبقاء” (طاقت کے بل بوتے پر دوسرے کو مغلوب یا غلام بنانے) کا طریقہ رائج تھا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ کے مخلوط معاشرے میں دنیا کو "بقائے باہم” (Peaceful Coexistence) کا ابدی اصول عطا کیا۔
* میثاقِ مدینہ اور قرآنی منشور: میثاقِ مدینہ کے تحت تمام طبقات نے اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ پرامن بقا کا عہد کیا۔ قرآن مجید نے "لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ” کا زریں اصول سکھایا اور غیر کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے سختی سے منع فرمایا۔ موجودہ کثرتی معاشرے میں مسلمانوں کو اسی رواداری، باہمی احترام اور پرامن بقا کے نبوی اصول پر قائم رہنا چاہیے۔
۳. گھروں کو دین کا قلعہ بنائیں: تاریخی نظائرموجودہ حالات کے پیشِ نظر مسلمانوں کو سب سے بنیادی نصیحت یہ کی گئی کہ وہ اپنے گھروں میں دین اور اسلامی شعائر کی حفاظت کا غیر متزلزل نظام قائم کریں۔ بیرونی دباؤ کے باوجود کوئی طاقت گھر کے اندر قرآن و نماز اور ایمانی تربیت کو نہیں روک سکتی۔ اس ضمن میں تاریخ کی تین * اہم نظیریں پیش کی گئیں:
سوویت یونین (کمیونسٹ روس): اشتراکی انقلاب کے بعد جب تمام مساجد و مکاتب بند کر دیے گئے، تو ماؤں اور بزرگوں نے گھروں کے تہہ خانوں میں قرآن اور نماز کی حفاظت کی۔ نتیجہ یہ کہ دہائیوں بعد جب وسطی ایشیائی ریاستیں آزاد ہوئیں تو وہاں اسلام زندہ پایا گیا۔
* عبرانی زبان کا احیاء: یہودیوں نے ابتلا کے دور میں 200 سال تک تحریری و عملی پابندیوں کے باوجود اپنے گھروں میں عبرانی زبان کو محفوظ رکھا، جو بالآخر ان کی قومی شناخت بنی۔
* مصطفیٰ کمال اتاترک کا ترکی: ترکی میں اذان اور عربی تعلیمات پر سخت پابندیوں کے باوجود ترک عوام نے اپنے گھروں میں قرآن اور ایمان کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا، اور آج ترکی دوبارہ اپنی دینی شناخت کی طرف لوٹ چکا ہے۔
۴. نئی نسل کے لیے بنیادی پیغام: سیرتِ نبوی ﷺ کا گہرا مطالعہ
نوجوان نسل کے حوالے سے فکر مندی ظاہر کرتے ہوئے درج ذیل لائحہ عمل پیش کیا گیا:
* سیرت کا جامع مطالعہ: نوجوان محض شاعری اور ادب تک محدود نہ رہیں بلکہ ولادت سے لے کر وصال تک سیرتِ رسول ﷺ کی کسی مستند کتاب کا عمیق مطالعہ کریں۔
* حکمتِ عملی کا فہم: سیرت کے مطالعے سے یہ واضح ہوگا کہ مکی اور مدنی دور کی آزمائشوں میں کس طرح فیصلے کیے گئے، کس معاملے میں کتنی قربت رکھی گئی اور کن چیزوں سے فاصلہ رکھا گیا۔
* اللہ کی ذات پر توکل اور شریعت کی پابندی: اصل کارساز اور فیصلہ کن ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اللہ کی نصرت اور تائید شریعت کے احکام پر سچے دل سے عمل کرنے اور باطنی و ظاہری تقویٰ اختیار کرنے سے ہی متوجہ ہوتی ہے۔
مختصر یہ ہے کہ اگر مسلمان اپنے گھروں میں تربیت کا مضبوط نظام بنائیں، نئی نسل کو سیرتِ پاک ﷺ سے روشناس کرائیں اور کثرتی سماج میں بقائے باہم کے اصول پر عمل پیرا رہیں، تو وقتی مشکلات اور سیاسی چیلنجز انشاء اللہ استحکام اور بیداری کا ذریعہ بنیں گے۔
