علماء کرام کا ایس ایم بی ٹی ہاسپٹل ایگت پوری کا خصوصی دورہ

علماء نے جدید طبی نظام کا مشاہدہ کیا، غریب و مستحق مریضوں کو سرکاری صحت اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کی اپیل

بھیونڈی: صحت عامہ کے حوالے سے عوام میں بیداری پیدا کرنے، غریب و مستحق افراد کو جدید طبی سہولیات سے روشناس کرانے اور حکومت کی جانب سے دستیاب صحت اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دینے کے مقصد سے بھیونڈی کے علماء کرام کے ایک وفد نے ایس ایم بی ٹی ہاسپٹل، ایگت پوری کا خصوصی دورہ کیا۔ یہ دورہ ہاسپٹل انتظامیہ کی دعوت پر کیا گیا۔ ایس ایم بی ٹی اپنی جانب سے صحت خدمات کو قابلِ رسائی اور نسبتاً کم خرچ بنانے کے عزم پر زور دیتا ہے۔

دورے کے دوران ہاسپٹل انتظامیہ نے علماء کرام کو مختلف شعبہ ہائے طب، جدید تشخیصی نظام، طبی آلات، علاج کے جدید طریقۂ کار اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ علماء کرام نے ہاسپٹل کے مختلف شعبوں کا مشاہدہ کیا اور اس بات کو قریب سے سمجھنے کی کوشش کی کہ جدید طبی سہولیات سے معاشرے کے غریب اور ضرورت مند طبقات کس طرح مستفید ہو سکتے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے علماء کرام سے خصوصی اپیل کی گئی کہ وہ اپنے خطابات، دینی مجالس، مساجد اور عوامی رابطوں کے ذریعے لوگوں کو صحت کے حوالے سے بیدار کریں اور خصوصاً ان خاندانوں تک طبی اسکیموں کی معلومات پہنچائیں جو مالی مشکلات کے باعث بروقت اور معیاری علاج حاصل نہیں کر پاتے۔

اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ بعض پیچیدہ امراض کے علاج پر عام حالات میں بھاری اخراجات آسکتے ہیں، تاہم مختلف سرکاری اسکیموں اور مستحقین کے لیے دستیاب سہولیات سے واقفیت کے ذریعے علاج کے اخراجات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ علاج میں تاخیر کرنے کے بجائے اپنے لیے دستیاب سرکاری و طبی سہولیات کے بارے میں درست معلومات حاصل کریں۔

ایس ایم بی ٹی گروپ شمالی مہاراشٹر میں طبی خدمات کے ساتھ طبی تعلیم اور دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی سرگرم ہے۔ اس کے اداروں میں جدید طبی سہولیات اور کثیر التخصصی علاج کی خدمات موجود ہیں، جبکہ ادارہ خود بھی ’’Affordable, Accessible, Empathetic‘‘ یعنی قابلِ رسائی، مناسب لاگت اور ہمدردانہ صحت خدمات کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔

مولانا عبید الرحمن الحسینی کا ممبئی سفر بھی عوامی خدمت کے پیغام سے جڑا ہوا۔ اس دورے کی ایک اہم کڑی مولانا عبید الرحمن الحسینی، فاؤنڈر انس ویلفیئر ٹرسٹ، ممبئی کی موجودہ سرگرمیاں بھی ہیں۔ مولانا عبید الرحمن الحسینی ان دنوں ممبئی کے سفر پر ہیں اور مختلف دینی، سماجی، فلاحی اور عوامی نوعیت کے پروگراموں میں شرکت کر رہے ہیں۔

ان کے اس سفر کا مقصد محض مختلف پروگراموں میں شرکت تک محدود نہیں بلکہ ان سرگرمیوں، عوامی مسائل، فلاحی منصوبوں اور سماجی اقدامات کو قریب سے دیکھنا اور پریس و ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کی معلومات عام لوگوں تک پہنچانا بھی ہے، تاکہ جو سہولیات اور مواقع عوام کے لیے موجود ہیں، ان سے زیادہ سے زیادہ لوگ واقف ہو سکیں۔

مولانا عبید الرحمن الحسینی کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں عوامی بیداری کے لیے میڈیا اور پریس ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اگر کسی علاقے میں غریبوں کے لیے علاج، تعلیم یا فلاحی خدمات کی سہولت موجود ہو لیکن عوام کو اس کی معلومات نہ ہو تو اس سہولت کا حقیقی فائدہ مستحقین تک نہیں پہنچ پاتا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ عوامی مفاد کی ہر مثبت سرگرمی کو ذمہ داری کے ساتھ عوام تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ علماء کرام کا معاشرے میں ایک مؤثر مقام ہے اور اگر دینی و سماجی رہنما صحت، تعلیم اور فلاحی اسکیموں کے حوالے سے عوام کی صحیح رہنمائی کریں تو ہزاروں ضرورت مند خاندانوں کو عملی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

وفد میں حضرت مولانا قاری اجوداللہ صاحب قاسمی، امام مشکوٰۃ مسجد، حضرت مولانا محمد ارشد صاحب قاسمی، امام مسجد شیخ الاسلام، کلیان روڈ، مفتی اعجاز صاحب، امام مسجد اقصیٰ، حضرت مولانا امتیاز صاحب قاسمی، امام مسجد قباء، مولانا اصغر صاحب اور مولانا عبید الرحمن الحسینی، فاؤنڈر انس ویلفیئر ٹرسٹ، مہراج گنج، اترپردیش سمیت دیگر علماء کرام شامل تھے۔

دورے کے اختتام پر علماء کرام نے ایس ایم بی ٹی ہاسپٹل میں موجود طبی سہولیات، جدید علاج کے انتظامات اور عوامی خدمت کے اقدامات کو سراہا۔ علماء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے اپنے دینی و سماجی حلقوں میں صحت سے متعلق بیداری پیدا کریں گے اور غریب و مستحق افراد کو دستیاب سرکاری طبی اسکیموں اور علاج کی سہولیات سے واقف کرانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

علماء کرام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صحت ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور کسی غریب انسان کو محض معلومات کی کمی کی وجہ سے علاج کی سہولت سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ دینی رہنماؤں، طبی اداروں، سماجی کارکنوں اور صحافتی حلقوں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کرکے صحت و فلاح کے پیغام کو معاشرے کے آخری فرد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

مولانا عبید الرحمن الحسینی کے ممبئی سفر اور مختلف پروگراموں میں شرکت کے دوران عوامی مفاد کی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کی کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے، جس کا مقصد ’’خدمت، آگاہی اور عوام تک صحیح معلومات کی رسائی‘‘ کو فروغ دینا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے