ہبلی (نامہ نگار): ثناء ایجوکیشنل کیمپس میں منعقدہ ہبلی انٹر اسکول سائنس فیئر غیر معمولی جوش و خروش اور تخلیقی سرگرمیوں کے ساتھ کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔ شہر کے مختلف مدارس نے اس علمی میلے میں نہ صرف بھرپور شرکت کی بلکہ تحقیق، اختراع اور سائنسی تجسس کی اعلیٰ مثالیں پیش کر کے اسے ایک یادگار تقریب بنا دیا۔ اس موقع پر 64 طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے 45 تحقیقی پروجیکٹس نے متعدد سائنسی شعبوں کا احاطہ کرتے ہوئے نوجوان ذہنوں کی سائنسی صلاحیتوں کو نمایاں کیا۔

تقریب کا باقاعدہ افتتاح پروفیسر اے۔ ایم۔ خان، وائس چانسلر، کرناٹک یونیورسٹی دھارواڑ نے کیا۔ انہوں نے طلبہ کی تحقیقی سوچ اور عملی ماڈلز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج کے طلبہ ہی مستقبل کے سائنسدان اور موجد ہیں، اس لیے انہیں بڑے خواب دیکھ کر ان کی تکمیل کے لیے پوری دلجمعی سے محنت کرنی چاہیے۔
شری ایس۔ ایس۔ کیلاڈیمٹھ (DDPI دھارواڑ) نے مختلف اسکولوں کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں بڑھتا ہوا سائنسی رجحان مستقبل کی علمی ترقی کی ضمانت ہے۔

افتتاحی اجلاس میں ایم۔ ایم۔ ملگی (چیئرمین، سنا گروپ)، اشرف علی بشیر احمد (مینیجنگ ٹرسٹی)، محمد ایوب ساونور (ایگزیکٹیو ٹرسٹی)، طارق مجاہد (ٹرسٹی) اور محمد عبداللہ جاوید (ڈائریکٹر، اے جے اکیڈمی) نے شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کیا۔

مہمانِ خصوصی کا دل موہ لینے والا انداز اختتامی اجلاس میں شری این۔ ششی کمار (IGP و پولیس کمشنر، ہبلی-دھارواڑ) بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ انہوں نے طلبہ کے سائنسی پروجیکٹز کا معائنہ کیا، ان سے گفتگو کی اور ان کی اختراعی سوچ کی دل سے تعریف کی۔
ایک خوبصورت مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے ایک طالب علم کو اسٹیج پر بلا کر اپنی شال پہنا کر اس کی حوصلہ افزائی کی—یہ علامتی عمل تمام طلبہ کے لیے ان کی شفقت اور سرپرستی کا پیغام تھا۔
اس موقع پر ڈاکٹر تیجسوینی (DDPUE) نے کہا کہ طلبہ کو تیزی سے ترقی کرتی سائنسی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا۔

مینیجنگ ٹرسٹی اشرف علی نے اپنے خطاب میں شریک اسکولوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شہر میں سائنسی رجحان کو مزید فروغ دینے کے لیے موبائل سائنس لیب بس کے قیام کا اعلان کیا۔
جبکہ صدارتی خطاب میں ایم۔ ایم۔ ملگی نے طلبہ کے سائنسی رویے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے بڑے مفکرین اور موجد بچپن ہی سے تحقیق اور سوال کرنے کی عادت اپناتے ہیں۔

اختتامی کلمات میں محمد عبداللہ جاوید نے تقریب کے مجموعی معیار کا جائزہ پیش کیا اور کہا کہ پیش کیے گئے تحقیقی خیالات نہایت معیاری اور مؤثر تھے۔
استقبال کے فرائض ایم۔ ایوب ساونور نے انجام دیے جبکہ نظامت مسز شازیہ سلطانہ نے نہایت خوش اسلوبی سے کی۔

ایوارڈز حاصل کرنے والے طلباء و طالبات تمام شریک طلبہ و اساتذہ کو سرٹیفکیٹس دیے گئے۔ آٹھ ماہرین پر مشتمل جیوری نے خصوصی کارکردگی کی بنیاد پر درج ذیل طلبہ کو ایوارڈز کے لیے منتخب کیا:

ابھرتے ہوئے سائنسدان – جماعت VI تا VIII

1. مالیدو شری پریا، ارپیتا پوچا، دھن شری اے گڈی

موضوع: فصل کٹائی کے بعد درپیش زرعی مسائل

اسکول: SBIOAES

2. زرّین مولوی، بی بی ہاجرہ بیجاپور

موضوع: خرد جانداروں کی افزائش پر رنگین روشنی کا اثر

اسکول: پٹیل پبلک اسکول

ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ – VI تا VIII

3. مدیحہ فاطمہ بساپور (انفرادی)

موضوع: یو وی فلٹر کے ساتھ سولر پاورڈ بوتل پیوریفائر

اسکول: توحید انٹیگریٹڈ اسکول

4. اضوا کوثر کارپینٹر، اُمِّ سلمہ پٹیل (گروپ)

موضوع: خوراک کے فضلے سے ماحول کے لیے مفید پلاسٹک

اسکول: پٹیل پبلک اسکول

ابھرتے ہوئے سائنسدان – جماعت IX تا X

5. تیجس منگلور

موضوع: CPR وینٹی لیٹر مشین

اسکول: جے کے اسکول

6. صافیّہ قاضی

موضوع: نابینا افراد کے لیے اسمارٹ جوتا

اسکول: ثناء پبلک اسکول

ایمرجنگ سائنٹسٹ ایوارڈ – IX تا X

7. راہول بناپورامتھ (انفرادی)

موضوع: قابلِ تجدید وسائل سے گرین ہائیڈروجن کی تیاری

اسکول: KLE ایم۔ آر۔ سکھرے اسکول

8. سانوی ایم مانوی، جی۔ ایس۔ سرینیواس (گروپ)

موضوع: پلاسما پائرو لائسز — کچرے سے توانائی

اسکول: KLE ایم۔ آر۔ سکھرے اسکول

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے