جامعہ مصباح العلوم چوکونیاں میں تقریب تکمیل حفظ قرآن کا انعقاد
ڈومریا گنج (سدھارتھ نگر): قرآن وہ واحد دستور حیات ہے۔ جسے پڑھنا اور پڑھانا نہ بہتر ہونے کی دلیل ہے بلکہ کہ اس کے ایک ایک حرف پر دس نیکیاں اللہ تعالی کی طرف سے دیئے جائیں گے۔ اس لیے امت کے جملہ طبقات کو اس عظیم صحیفے کو ہی حرز جاں بنانا چاہیے۔ اور اپنے سیاسی معاشی معاشرتی تعلیمی عائلی وخاندانی وغیرہ کے امور کے مسائل کا حل اسی قرآن میں تلاش کرنا چاہیے کیونکہ یہ قرآن دنیا و آخرت کی فلاح کا ضامن ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات طلبہ مدارس کے اذہان و قلوب میں اچھی طرح راسخ رہے کہ کہ ان کا تعلق کسی نہ کسی پہلو ہونے کی وجہ سے وہ امت کے بہتر ترین لوگ ہیں۔اور انھیں سماج میں اپنے عادات و اطوار سے اس اعزاز کی حفاظت کرنی ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار نائب صدر جامعہ شبیر احمد فلاحی نے جامعہ مصباح العلوم چوکونیاں کے کانفرنس ہال محمد عاطف بن سہیل احمد،محمد صادق بن اطہر علی،سیف اللہ بن شاہد حسین کے تکمیل حفظ قرآن کے اعزاز میں منعقد ہونے والے دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
صدر جامعہ محمد شریف فلاحی نے قرآن کے سورۂ فرقان کی ایک آیت میں لفظ مہجور کی تفسیر امام ابن تیمیہ کے حوالے سے ذکر کرتے ہوۓ کہا کہ جو لوگ نہ قرآن پڑھتے ہیں نہ تلاوت کرتے ہیں نہ اس پر غور و فکر کرتے ہیں نہ اس پر عمل کرتے ہیں اور نہ قرآن کے پیغام کو بندگان خدا تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ تمام لوگ اس قرآن کی روشنی میں مہجور ہیں اور مہجور کے معنی ہوتے ہیں وہ شخص جس نے قرآن کو گری پڑی چیز بنا کے چھوڑ دیا۔ افسوس کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا بھی شمار ان لوگوں میں ہونے لگے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن کے تمام حقوق کو کما حقہ ادا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے توفیق بھی طلب کرتے رہیں۔
اس موقع پر مولانا محمد شریف فلاحی نے زور دے کہا کہ قرآن ایک انقلابی کتاب ہے۔جس کا دل قرآن سے خالی ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے۔ اس لیے ہمیشہ اپنے دل کو اس کی تلاوت و تعلیمات سے معمور رکھنا چاہیے۔ اسے محض تبرک و جھاڑ پھونک کی کتاب نہیں بنانا چاہیے
۔اس اہم موقع پر حفظ مکمل کرنے والے طالب علم کو عبداللہ کے بدست تحائف کے ذریعہ تکریم کی گئی۔طلباء نے قاری امیر الاسلام وقاری سلام اللہ کی نگرانی میں حفظ کی تکمیل کی۔
استاد جامعہ حافظ محمد مستقیم کی دعا سے پروگرام کا اختتام ہوا۔
اس موقع پر جملہ طلباء و اساتذہ تکمیل حفظ کرنے والے طلباء کے سرپرستوں کے علاوہ،ماسٹر توقیر عالم ، ماسٹر مجیب اللہ، قمرالزماں قاسمی عثمان علی قاسمی، صغیر احمد رحمانی قمر الزماں قاسمی، افضل حسین قاسمی موجود رہے۔
