سدھارتھ نگر: جامعہ دارالسلام پھلوریا، رمواپور، شہرت گڑھ، سدھارتھ نگر کے زیرِ انتظام 26 نومبر بروز بدھ انجمنِ تہذیبُ اللسان کے زیرِ اہتمام ایک شان دار اور یادگار ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام تین نشستوں پر مشتمل تھا، جن میں طلبہ نے بے حد جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لیا اور مختلف مقابلہ جاتی سرگرمیوں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔
اردو، ہندی، انگریزی اور عربی زبانوں میں متنوع موضوعات پر خطابات پیش کیے گئے، جب کہ شعر و سخن کی رنگا رنگ محفل بھی وقفے وقفے سے جاری رہی، جس نے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ آخری نشست میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے پانچ ممتاز طلبہ نے نہایت پُراثر انداز میں خطبۂ استقبالیہ، تقاریر اور نظمیں پیش کر کے دادِ تحسین حاصل کی۔
بعد نمازِ عشاء نصف شب تک جاری رہنے والے اس دینی، دعوتی اور اصلاحی پروگرام کا آغاز جامعہ کے طالب علم حافظ سعید الرحمن کی پُرسوز تلاوت سے ہوا۔ حمد عزیزم حافظ عبدالوہاب اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ عزیزم محمد نعیم الدین نے پیش کیں، جنہوں نے محفل کو روحانیت سے بھر دیا۔
پروگرام کی صدارت ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر کے فعال، متحرک اور جواں عزم ناظم محترم شیخ وصی اللہ عبدالحکیم مدنی نے فرمائی، جب کہ نظامت کے فرائض جمعیت اہل حدیث حلقہ شہرت گڑھ کے نائب ناظم شیخ عبدالرشید سلفی (پرنسپل المعہد الاسلامی بحرالعلوم، انتری بازار) نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
میرِ مجلس شیخ وصی اللہ مدنی حفظہ اللہ نے اپنے پُرلطف صدارتی خطاب میں طلبہ کو قرآنِ کریم کی عظمت دلوں میں اُتارنے، اس سے مضبوط تعلق قائم رکھنے اور اپنے علمی سفر کو اخلاص و استقامت کے ساتھ جاری رکھنے کی نصیحت فرمائی۔ والدین کو اس عظیم سعادت پر مبارک باد دیتے ہوئے ادارے کے محنتی و مخلص اراکین و منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں شعبۂ حفظ سے فارغ ہونے والے پانچ حفاظِ کرام کے سروں پر دستارِ حفظ باندھی اور انہیں دعاؤں سے نوازا۔
اس سعادت میں دیگر معزز شخصیات—مولانا محمد ہاشم سلفی، مولانا شمس غفاری، مولانا ابوالکلام مدنی، حافظ خورشید احمد، ناظم جامعہ الحاج عبدالرحمن اور جامعہ کے صدرِ مدرس جناب حافظ جنید احمد—بھی شریک رہے۔
شیخ عبدالرشید سلفی نے دورانِ نظامت جامعہ دارالسلام کے سابق و موجودہ اساتذہ کرام کا خصوصی استقبال کیا اور فرمایا کہ طلبہ کی پُراعتماد گفتگو اور شستہ خطابت دراصل ان کے ہفتہ وار پروگراموں اور خطبۂ جمعہ کی مسلسل مشق کا نتیجہ ہے، جس کی بنیاد سابق شیخ الجامعہ عبدالاحد ہاشمی حفظہ اللہ نے رکھی تھی۔
جمعیت اہل حدیث حلقہ نوگڑھ کے ناظم اور معہد الرشد (بدر اسکول) تیتری بازار کے استاد شیخ محمد ہاشم سلفی نے بھی جامعہ سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے محاسنِ اسلام، طلبہ کی شرعی و اخلاقی ذمہ داریوں اور اپنے تدریسی تجربات پر نہایت علمی اور وقیع خطاب فرمایا۔ انہوں نے شیخ محمد مستقیم سلفی حفظہ اللہ (استاد جامعہ سلفیہ بنارس) کی محنتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جامعہ دارالسلام کا جامعہ سلفیہ سے الحاق انہیں کی خصوصی توجہ کا ثمرہ ہے۔ شكر الله سعيه۔
اس کے بعد جماعت کے فاضل خطباء— مولانا شمس غفاری، مولانا ابوالکلام مدنی اور مولانا حافظ شکیل احمد— نے نہایت دل نشین اور مسحورکن خطابات سے مجلس کو علمی و روحانی فیوض سے مالامال کیا۔
پروگرام کی کامیابی میں جامعہ کے تمام عہدے داران خصوصاً جامعہ کے بےلوث خادم، سابق پردھان اور ہر دل عزیز نگہبان ناظم الحاج عبدالرحمن صاحب، نیز جناب مولانا محمد ابراہیم سلفی، الحاج محمد ہاشم اور الحاج محمد عمران دانش کی گران قدر خدمات قابلِ تحسین اور ناقابلِ فراموش ہیں۔ اسی طرح جامعہ کے معزز اساتذہ کرام جن میں جناب مولانا حافظ جنید احمد سلفی، جناب مولانا صفی الدین جامعی، جناب مولانا محمد عاقب فیضی، جناب مولانا علیم الدین جامعی، جناب حافظ خورشید احمد عثمانی اور مولانا عبدالمبین سلفی شامل ہیں— نے بھی اپنی غیر معمولی محنت و سعی سے اس پروگرام کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔
آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ جامعہ کے تمام ذمہ داران، اساتذہ کرام اور معاونین کی مخلصانہ خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں دین کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
