از قلم: ایڈوکیٹ محمد رافع
صبح کی دھوپ ابھی دھیرے دھیرے گاؤں کی مٹی پر بکھر رہی تھی۔ ہوا میں گوبر کی باس، چولہے کا دھواں اور بچوں کی ہنسی ملی جلی تھی۔ پرانے برگد کے نیچے گاؤں کے چند بزرگ ہمیشہ کی طرح جمع تھے۔ ان میں رامسرن، حاجی قاسم اور ببلو کے ابّا، چھپن لال شامل تھے۔ ان سب کے چہروں پر وقت کے نشان صاف دکھائی دیتے تھے۔
کل ہی تحصیل سے ایک نوٹس آیا تھا کہ ہر شخص کو اپنی عمر اور شہریت کے ثبوت کے کاغذ دکھانے ہیں۔ اب گاؤں میں جیسے ایک نیا ہنگامہ مچ گیا ہو۔
رامسرن:
"بھئی قاسم بھائی، یہ سرکار بھی عجب چیز ہے۔ ہم نے تو کبھی سوچا نہ تھا کہ اپنی مٹی میں رہنے کے لیے بھی پرچی دکھانی پڑے گی۔”
حاجی قاسم (ہنستے ہوئے):
"رامسرن بھیا، اب تو لگتا ہے قبر میں جانے کے لیے بھی پرچی لگے گی۔ وہاں فرشتے پوچھیں گے — آدھار کارڈ ہے کیا؟”
سب قہقہے لگانے لگے۔
پاس ہی بیٹھا ببلو جو ابھی درجہ آٹھ میں تھا، معصومیت سے بولا:
"چچا، اگر میں جنم کے وقت اسپتال میں نہیں ہوا تو کیا میں غیر ملکی ہو گیا؟”
چھپن لال:
"ارے بیٹا، اب تو سب کچھ کاغذ میں ہے۔ اگر کاغذ نہ ہو تو آدمی بھی آدھا رہ جاتا ہے۔”
رامسرن:
"یہی تو دکھ ہے چھپن لال۔ ہم نے آزادی دیکھی، قحط دیکھا، بارشوں میں گھر بہتے دیکھے، کورونا دیکھا، سونامی دیکھا مگر کبھی یہ نہیں دیکھا کہ اپنا وطن ثابت کرنے کے لیے ثبوت دینا پڑے۔”
رات کو حاجی قاسم اپنی بیوی سلمیٰ بیگم کے ساتھ پرانے صندوق سے کاغذ نکال رہے تھے۔
کپڑوں، پرانی تصویروں، اور زرد پڑی رسیدوں کے بیچ ایک پرانا کاغذ ملا۔
سلمیٰ بولی:
"یہ کاغذ تو میرے نکاح سے بھی پرانا لگتا ہے۔ شاید کام آ جائے۔”
قاسم نے ٹھنڈی سانس لی:
"اگر یہی کاغذ میری پہچان ہے تو پھر میری محنت، میرا پسینہ، میری زمین – یہ سب کیا ہے؟”
اُدھر چھپن لال، دیئے کی مدھم روشنی میں کاغذ الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے اور بیٹے سے پوچھا۔
"بیٹا، تیرا اسکول کا سرٹیفکیٹ کہاں ہے؟”
"ابا، وہ تو بچھڑے نے چبا لیاتھا۔ ماں نے پھینک دیا ہوگا۔”
چھپن لال نے بے بسی سے سر پکڑ لیا۔
"ارے نادان، یہی تو کاغذ اب تیرے ہندوستانی ہونے کا ثبوت ہوں گے!”
ببلو ہنسا – ایک معصوم اور بے پرواہ ہنسی۔
"ابا، اگر کاغذ ہی سب کچھ ہے تو میں کل چوراہے سے ایک لے آؤں گا۔ وہاں سب چیزیں مل جاتی ہیں۔”
چھپن لال نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
"نہیں بیٹا، وہی تو جرم بن جائے گا۔ یہاں سچ بھی کاغذ سے کمزور ہے ۔
اگلے دن پورا گاؤں تحصیل کے میدان میں جمع تھا۔ قطاریں لمبی تھیں۔
سرکاری میز کے پیچھے افسر بیٹھا تھا – چہرے پر اکتاہٹ، لہجے میں رعونت۔
افسر:
"نام بتاؤ۔”
رامسرن: "رامسرن، گاؤں زید پور، ضلع نگر پور
افسر: "کاغذ کہاں ہیں؟”
رامسرن: "صاحب، کاغذ تو پرانے مکان کے ساتھ بہہ گئے، مگر میرے ہاتھوں کی لکیر میں میرا وطن لکھا ہے!”
افسر نے طنزیہ مسکراہٹ دی:
"یہ لکیر ہمیں نہیں چاہیے، ہمیں سرکار کے دستخط والے کاغذ چاہئیں۔”
رامسرن خاموش ہوگیا۔
پھر اس نے دھیرے سے کہا:
"صاحب، آپ کے کاغذ نے ہمیں کبھی پیٹ نہیں بھرا، علاج نہیں دیا، روزگار نہیں دیا، مگر ہم نے کبھی شکایت نہیں کی۔ اب آپ ہم سے وطن بھی چھیننا چاہتے ہیں؟”
کچھ لمحوں کے لیے میدان پر سکوت چھا گیا۔
افسر کے چہرے کا رنگ بدل گیا، مگر زبان پر تالا لگا رہا۔
شام ڈھل رہی تھی۔
برگد کے نیچے وہی تینوں بزرگ پھر جمع تھے۔
ہوا میں سناٹا تھا، چراغ ٹمٹما رہے تھے۔
حاجی قاسم:
"رامسرن بھائی، یہ سب تماشہ سرکار کا ہے۔ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے نئے نئے بہانے ہیں ۔ نہ روزگار دیا، نہ انصاف۔ اب لوگوں سے ان کی شناخت مانگ رہے ہیں۔”
رامسرن:
"ہاں بھائی، جب کام کے سوال اٹھتے ہیں تو یہ کاغذ کے سوال لے آتے ہیں۔”
رامسرن نے آسمان کی طرف دیکھا، اور بولا:
"کاش کوئی دفتر ہوتا جو دلوں کے ریکارڈ رکھتا۔ وہاں کوئی جھوٹا نہ نکلتا۔”
رات ہو گئی ، چراغ کی لو دھیرے دھیرے بجھ گئی۔
ہوا رک گئی۔
اور گاؤں کی خاموشی میں بس ایک سوال گونجتا رہا –
"کیا انسان ہونے کے لیے اب کاغذ ہونا ضروری ہے؟”
