تحریر: محمد مقصود عالم قادری۔
متعلم:جامعۃ المدینہ فیضانِ کنزالایمان بمبئی۔

اللہ تعالی نے اپنے تمام مخلوقات میں سب سے افضل ترین اور مکرم مخلوق نوع انسان کو بنایا ہے۔ پھر انسانوں میں بھی فضیلت کے مختلف درجات ہیں،جیسے حضرات انبیائے کرام علیہم السلام سب سے افضل ہیں،پھر تمام انبیاء میں ہمارے نبی ﷺ کا سب سے زیادہ بلند ترین مقام و مرتبہ ہے، پھر ان کے بعد یار غار نبی، خلیفۂ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ افضل اور اعلی ہیں، اور یہ عقیدہ قرآن و حدیث، اقوال صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ چند آیات قرآنی افضیلت صدیق اکبر پر ملاحظہ فرمائیں۔

(1)اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-(الحجرات ، 49/ 13)
یعنی بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے (کنزالایمان)
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "آیت کریمہ میں باجماع مفسرین "اتقیٰ” سے جناب سیدنا امام المتقین ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ مراد ہیں۔ امام محی السنہ بغوی فرماتے ہیں : "اتقیٰ سے بالاجماع حضرت ابوبکر صدیق مراد ہیں”۔ اور علامہ شمس الدین ابن الجوزی نے بھی اس پر اجماع نقل کیا”۔ (مطلع القمرین، ص 198،مکتبہ بہار شریعت لاہور)

(2)وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ﳚ-وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(النور 24 /22)
اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی اور چاہیے کہ معاف کریں اور دَرگزریں ، کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (کنزالایمان)

اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں: "احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آیت میں "اولو الفضل” کا خلعت گراں قیمت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو عطا ہوا۔
حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ تعالی عنہ فقرائے مہاجرین سے تھے ، اور صدیق اکبر کے رشتہ دار اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بوجہ ان کی فقر و قرابت کے ان کی خبرگیری کرتے اور بسلوک و انفاق پیش آتے، جب بلائے افک میں مبتلا ہوئے اور حضرت حق سبحانہ و تعالی نے دامن عفت مامن محبوبۂ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و علیہا کی طہارت اور ہرلوث سے اس کی برات دس آیتیں نازل کر کے ظاہر فرمائی، صدیق اکبر نے قسم کھائی اب مسطح کو کچھ نہ دوں گا، اللہ جل جلالہ نے یہ آیت نازل فرمائی” فضل و وسعت والے اہل قرات و مساکین و مہاجرین پر انفاق کی قسم نہ کھائے اور ان کی اس خطا سے جو نادانستگی میں اتفاقا صادر ہو گئی درگزر کریں، اخر کار وہ بھی تو ہماری بخشش کے طلبگار ہیں جب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ ارشاد سنا تو کہا :”خدا کی قسم میں دوست رکھتا ہوں کہ اللہ تعالی مجھے بخشے اور جو ادرار مسطح کا مقرر تھا جاری فرمایا اور قسم کھائی کہ کبھی بند نہ کروں گا۔

اب عقل سلیم غور کرے کہ صحابۂ کرام سب "اولو الفضل اور بزرگی” والے تھے قران عزیز میں بالتخصیص جناب امام المتقین رضی اللہ تعالی عنہ کو اس صفت سے یاد فرمانا دلیل واضح ہے کہ یہ وصف ان کی ذات سے ایک خصوصیت خاصہ رکھتا ہے،اور جو افضلیت انہیں حاصل ہے دوسرے کو نہیں، جیسا کہ تمام صحابہ شرف صحبت سے مشرف تھے مگر لفظ "صاحبی”کہ بیسیوں حدیثوں میں آیا اسی جناب گردوں قباب کے لیے ہے، کہ جیسی صحبت انہیں ملی دوسرے کو میسر نہ ہوئی ،سولہ برس کی عمر سے رفاقت حضور اختیار کی ، عمر بھر حاضر دربار اور شریکِ ہر کار و مونس لیل و نہار رہے، بعد وفات کنارے جاناں میں جا پائی، روز قیامت حضور علیہ السلام کے ہاتھوں میں ہاتھ محشور ہوں گے، حوض کوثر پر ہم راہ رکاب رہیں گے ، پھر فردوس اعلی میں رفاقتِ دائمی ہے”۔ (مطلع القمرین ص 214)

ان کے علاوہ بھی متعدد آیتیں قران مجید میں موجود ہیں جن سے افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ واضح طور پر ثابت یوتی ہے۔

احادث میں افضلیت صدیق اکبر کا بیان

کثیر احادیث میں بھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے افضل ہونے کا بیان صریح الفاظ میں موجود ہے ۔
چند احادیث کریمہ ملاحظہ فرمائیں۔ (1)حضرت عبداللہ ابن عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں:” ہم رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں کہا کرتے کہ رسول اللہ ﷺکے بعد اس امت میں افضل ابوبکر،عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ہیں ۔ پس یہ بات حضور علیہ السلام کے سمع اقدس تک پہنچتی اور حضور انکار نہ فرماتے”۔ (مطلع القمرین ص 232)

(2) حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:”نہ طلوع کیاآفتاب نے اور نہ غروب کیا کسی شخص پر جو ابوبکر سے افضل ہو، سوا نبی کے”۔ (ایضاً ص 233)

(3) حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:” بے شک روح القدس جبریل علیہ السلام نے مجھے خبر دی کہ آپ کی امت میں آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بہتر ہیں ۔”

عقیدۂ افضلت صدیق اکبر اور صحابۂ کرام

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا متفقہ عقیدہ تھا کہ رسول اللہ ﷺکے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سب سے افضل ہیں۔

ذیل میں ہم اجلۂ صحابۂ کرام کا عقیدہ قلم بند کرتے ہیں ،ملاحظہ فرمائیں ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عقیدہ

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں :”نبئ کریم ﷺکے بعد سب سے افضل حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں،اور اگر اس کے علاوہ کسی نے کوئی دوسری بات کی تو وہ مفتری یعنی” الزام لگانے والا” ہے اور اس کی سزا بھی وہی ہے جو مفتری کی سزا ہے ۔
(کنز العمال، کتاب الفضائل، باب فضائل الصحابۃ،فصل الصدیق، الحدیث 35622، ج6 ،الجزء12، ص 223 ، دارالکتب العلمیہ بیروت)

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا عقیدہ

حضرت سیدنا اصبغ بن ننباتہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے ، میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا کہ اس امت میں حضور علیہ السلام کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ فرمایا:”اس امت میں سب سے افضل حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق اعظم پھر عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہما ہیں پھر میں رضی اللہ عنہ۔ "(الریاض النفرۃ، ج1، ص57، دارلکتب العلمیۃ بیروت)

عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کا عقیدہ

آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”ہم رسول اللہﷺ کے زمانۂ مبارکہ میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو شمار کرتے، ان کے بعد حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو اور ان کے بعد حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو ( صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب فضل ابی بکر بعد النبی، الحدیث 3655، مکتبہ احسان لکھنؤ)

ائمہ کرام اور اولیاء عظام کا عقیدہ

تمام ائمۂ کرام ، فقہائے عظام اور جملہ اولیائے کرام کا بھی متفقہ طور پر یہی عقیدہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق افضل البشر بعد الانبیاء ہیں۔
ذیل میں چند اقوال ملاحظہ فرمائیں۔

امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ

آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد تمام لوگوں سے افضل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں، پھر عمر بن خطاب، پھر عثمان بن عفان، پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہم ہیں۔ (شرح الفقہ الاکبر، ص 61 کراچی)

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ

آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”تمام صحابۂ کرام و تابعین عظام کا اس بات پر اجماع ہے کہ تمام امت سے افضل حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ،پھر حضرت عمر فاروق ، پھر حضرت عثمان غنی،پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہم ہیں ۔ ”(فتح الباری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب فضل ابی بکر بعد النبی، ج 8، ص 15 ،دارالکتب العلمیۃ بیروت)

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ

آپ رحمتہ اللہ علیہ سے جب پوچھا گیاکہ انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا:”حضرت ابوبکر صدیق پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما”( الصواعق المحرقہ،الباب الثالث، ص 57 مدینۃ الاولیاء ملتان)

امام غزالی رحمت اللہ علیہ کا عقیدہ

آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”حضور علیہ السلام کے بعد امام برحق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر حضرت عمر فاروق،پھر حضرت عثمان غنی، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہم ہیں۔ "(احیاء العلوم ، کتاب قواعد العقائد، الرکن الرابع، الاصل السابع، ج 1،ص 158 ، دار صادر بیروت)

محترم قارئین! ہم نے اختصار کے ساتھ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت کو قران و حدیث اور صحابۂ کرام، ائمۂ دین اور اولیائے عظام کے اقوال سے ثابت کیا،اب اگر اِس زمانے میں کوئی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل کہے تو وہ قرآن و حدیث کے خلاف ورزی کرنے والا ہوگا بلکہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول اور عقیدے سے اختلاف کرنے والا ہوگا۔ اللہ تعالی ایسوں کو حق قبول کرنے کی توفیق اور ہدایت عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے