(حافظ)افتخار احمد قادری 

 یہ حقیقت محض ایک تاثر نہیں بلکہ ایک زندہ سچائی بن چکی ہے کہ آج ملک میں مسلمان محض وقتی مسائل نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری و سماجی اور آئینی بحران سے دوچار ہیں۔ یہ بحران باہر سے مسلط نہیں کیا گیا بلکہ افسوس کہ اس کی جڑیں ہماری اپنی کوتاہیوں، غفلتوں اور ترجیحات کی غلط ترتیب میں بھی پیوست ہوچکی ہیں۔ ایسے نازک وقت میں جب ہر سمت سوال ہی سوال ہیں، جب شناخت، بقا اور مستقبل ایک ساتھ داؤ پر لگے ہوں تو یہ سوچنا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ آخر وہ مقام کون سا ہے جہاں سے قوم کو ایک واضح، دیانت دار اور بیدار کرنے والی رہنمائی مل سکتی ہے۔ اگر دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو جمعہ کا منبر آج بھی وہ واحد پلیٹ فارم ہے جہاں بیک وقت دل و دماغ اور ضمیر سے خطاب کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ ساعت ہے جب مسلمان دنیاوی مصروفیات سے کٹ کر الله رب العزت کے گھر میں ایک سمت رخ کیے، ایک آواز سننے کے لیے بیٹھتا ہے۔ یہ لمحہ محض عبادت کا نہیں بلکہ امانت کا لمحہ بھی ہے۔ لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں سب سے زیادہ افسوس ہوتا ہے، جہاں امید کے بجائے حسرت جنم لیتی ہے۔ جمعہ کا منبر جسے امت کی فکری تربیت، سماجی اصلاح اور اجتماعی رہنمائی کا مرکز ہونا چاہیے تھا آج اکثر محض ایک رسمی روایت بن کر رہ گیا ہے۔ خطبہ ادا ہو گیا، نماز مکمل ہوگئی اور یوں سمجھ لیا گیا کہ ذمہ داری پوری ہوگئی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ذمہ داری کا آغاز تو وہیں سے ہونا چاہیے تھا۔ جمعہ کا بیان کوئی وقتی وعظ نہیں بلکہ ایک ایسا شعوری عمل ہے جو قوم کے رخ کا تعین کر سکتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے غفلت کو شعور میں، بے خبری کو آگہی میں اور مایوسی کو امید میں بدلا جا سکتا ہے۔ افسوس کہ اس طاقتور منبر کو ہم نے خود اپنی بے سمتی کا شکار بنا دیا ہے۔ آج بھی بے شمار مساجد میں جمعہ کا بیان ایسے موضوعات میں گزر جاتا ہے جو نہ تو غلط ہیں اور نہ ہی بے فائدہ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ کافی ہیں؟ کیا آج کے حالات میں محض کرامات، حکایات اور ماضی کی داستانیں قوم کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کر سکتی ہیں؟ کیا وہ نوجوان جو تعلیم و روزگار اور شناخت کے بحران سے گزر رہا ہے اسے صرف یہ بتانا کافی ہے کہ ماضی میں کیا ہوا تھا بغیر یہ بتائے کہ حال میں کیا کرنا ہے اور مستقبل کے لیے کیا تیاری ضروری ہے؟ وقف املاک کا مسئلہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ محض زمین یا عمارتوں کا تنازع نہیں بلکہ قوم کے تعلیمی و دینی اور فلاحی مستقبل کا سوال ہے۔ یہ وہ امانت ہے جو ہمارے اسلاف نے آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑی تھی مگر آج لاعلمی و بے توجہی اور عدم رہنمائی کے باعث یہ امانت خاموشی سے ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے۔ امید پورٹل جیسے اقدامات محض سرکاری اصطلاحات نہیں بلکہ بقا کی ایک کھڑکی ہیں مگر جب مسجد کے منبر سے اس کا ذکر ہی نہ ہو، جب امام چند جملوں میں بھی قوم کو اس کی اہمیت نہ سمجھائے تو عام آدمی کیسے سمجھے گا کہ یہ مسئلہ کتنا سنگین ہے؟ اسی طرح ایس آئی آر جیسے معاملات بھی محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ آئینی تحفظ کی بنیاد ہیں۔ مگر جب مسجد میں بیٹھا ہوا مسلمان ان اصطلاحات سے ناواقف ہو، جب اسے یہ نہ بتایا جائے کہ اس کی بے پروائی کس طرح کل اس کے لیے مصیبت بن سکتی ہے تو پھر ذمہ داری صرف اس فرد کی نہیں رہتی۔ یہ سوال منبر سے بھی پوچھا جائے گا کہ اس نے وقت پر کیوں نہیں جگایا، کیوں نہیں خبردار کیا۔ تعلیم کا بحران تو اس سب سے بھی زیادہ گہرا ہے۔ یہ بحران صرف اعداد و شمار میں نہیں بلکہ گھروں کے اندر، ذہنوں کے اندر اور سوچ کے زاویوں میں چھپا ہوا ہے۔ جب جمعہ کے منبر سے تعلیم کی بات ہوتی بھی ہے تو اکثر صرف فضیلت تک محدود رہتی ہے، گویا علم محض ثواب کمانے کا ذریعہ ہو، زندگی سنوارنے کا نہیں۔ حالانکہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو عملی رہنمائی دی جائے، یہ بتایا جائے کہ کون سی اسکیمیں ہیں، کن دروازوں پر دستک دی جا سکتی ہے، بچوں کو کہاں اور کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ سب کہنا کوئی دنیا پرستی نہیں بلکہ امت کی ذمہ داری ہے۔

   آئمہ مساجد یقیناً ہمارے سروں کا تاج ہیں، ان کا مقام و مرتبہ مسلم ہے مگر یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ آج کا امام صرف محراب و منبر تک محدود نہیں رہ سکتا۔ وقت نے اس کردار کو وسیع کر دیا ہے۔ آج امام کو نہ صرف قرآن و حدیث کا عالم ہونا چاہیے بلکہ حالاتِ حاضرہ کا فہم بھی رکھنا چاہیے۔ اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ کب خاموشی عبادت ہے اور کب خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ آج کے حالات میں بہت سے مسائل پر نہ بولنا دراصل ناانصافی کے ساتھ کھڑا ہونا ہے چاہے نیت کتنی ہی نیک کیوں نہ ہو۔ یہ کہنا کہ حالاتِ حاضرہ پر بات کرنا سیاست ہے اور سیاست سے دوری ہی دینداری ہے ایک ایسی غلط فہمی ہے جس نے قوم کو بے دست و پا بنا دیا ہے۔ حقائق سے باخبر رہنا، اپنے حقوق جاننا، آئین کے دائرے میں اپنی حفاظت کرنا نہ تو گناہ ہے اور نہ ہی بغاوت بلکہ یہ شعور کی علامت ہے اور یہ شعور اگر کہیں سے پیدا ہو سکتا ہے تو وہ مسجد ہے، وہ منبر ہے، وہ جمعہ کا بیان ہے۔ اگر جمعہ کا منبر آج بھی صرف ماضی کی گونج میں گم رہا اور حال کی صدائیں اس تک نہ پہنچ سکیں تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب وقت تھا تو کیوں نہیں بولا گیا؟ جب خطرہ سامنے تھا تو کیوں نہیں خبردار کیا گیا؟ اور اس وقت ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا سوائے خاموش شرمندگی کے۔ بات صرف شکایت یا شکوے تک محدود رکھنا مقصود نہیں بلکہ ایک واضح اور دو ٹوک احساسِ ذمہ داری جگانا اصل مقصد ہے کیونکہ وقت اب نیم الفاظ، گول مول جملوں اور مصلحت آمیز خاموشی کا نہیں رہا۔ حالات اس موڑ پر آ چکے ہیں جہاں نہ بولنا بھی ایک فیصلہ ہے اور یہ فیصلہ اکثر قوم کے خلاف جاتا ہے۔ آئمہ مساجد کو یہ بات سنجیدگی کے ساتھ سمجھنی ہوگی کہ آج ان کی خاموشی محض ذاتی احتیاط نہیں بلکہ اجتماعی نقصان بن چکی ہے۔ وہ منبر جس پر کھڑے ہو کر حق بات کہنا افضل جہاد قرار دیا گیا اگر وہی منبر حالات کی سنگینی سے کٹ جائے تو یہ محض غفلت نہیں بلکہ تاریخ کے سامنے ایک ناقابلِ دفاع کوتاہی ہے۔ امام صاحب کا منصب صرف نماز کی ادائیگی تک محدود نہیں بلکہ فکری امامت بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے اور فکری امامت کا تقاضا یہ ہے کہ قوم کو اندھیروں میں نہیں بلکہ روشنی میں چلایا جائے، خطرات سے پہلے خبردار کیا جائے اور سہولتوں کے دروازے دکھائے جائیں۔ آج اگر مسجد میں بیٹھا ہوا مسلمان اپنے ہی حقوق سے ناواقف ہے، اگر اسے یہ معلوم نہیں کہ اس کے کاغذات، اس کی زمین، اس کی تعلیم اور اس کی آئینی حیثیت کس قدر اہم ہے تو یہ صرف عوام کی کوتاہی نہیں بلکہ اس منبر کی ناکامی بھی ہے جہاں سے رہنمائی ملنی تھی۔ یہ کہنا کہ عوام خود سمجھ لیں گے، خود سیکھ لیں گے، خود سنبھل جائیں گے ایک ایسی سوچ ہے جو ذمہ داری سے فرار کے مترادف ہے۔ عوام ہمیشہ اسی سمت میں جاتے ہیں جدھر رہنما اشارہ کرتا ہے اور اگر رہنما ہی خاموش ہو جائے تو پھر بھیڑ بھٹکتی رہتی ہے، ٹھوکر کھاتی ہے اور آخرکار تھک کر بیٹھ جاتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سچ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ عوام خود بھی بری الذمہ نہیں ہیں۔ جمعہ کا بیان سننا اگر صرف ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے اور اس پر غور و فکر اور عمل کی نیت ہی نہ ہو تو پھر منبر کی آواز بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔ مسجد سے نکل کر وہی پرانی غفلت، وہی لاپرواہی اور وہی بے نیازی اگر دوبارہ حاوی ہو جائے تو پھر سوال صرف امام سے نہیں بلکہ ہر اس فرد سے ہوگا جو سن کر بھی نہ جاگا، سمجھ کر بھی نہ بدلا اور جان کر بھی بے نیاز رہا۔ قوم صرف اس وقت بدلتی ہے جب سننے والا سنجیدگی سے سننے کے لیے تیار ہو اور بولنے والا سچ بولنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ ضروری ہے کہ امام بھی اپنی ذمہ داری کو ازسرِ نو پہچانے اور عوام بھی اپنی حالت پر سنجیدگی سے غور کریں۔ اب یہ گنجائش باقی نہیں رہی کہ جمعہ کا منبر صرف جذباتی آنسو بہانے یا وقتی کیفیت پیدا کرنے کا ذریعہ بن کر رہ جائے۔ بلکہ ضرورت ہے کہ وہاں سے شعور بٹے، سمت ملے اور عمل کی راہیں کھلیں۔ جو امام آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ منبر سے حالاتِ حاضرہ کا ذکر کرنا فتنہ ہے اسے یہ سوچنا ہوگا کہ قوم کی لاعلمی کہیں اس سے بڑا فتنہ تو نہیں بن چکی اور جو عوام آج بھی یہ چاہتے ہیں کہ منبر انہیں صرف تسلی دے جھنجھوڑے نہیں انہیں یہ ماننا ہوگا کہ تسلی نے انہیں بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اگر آج بھی جمعہ کے منبر کو بیداری کی صدا بنانے کے بجائے غفلت کی لوری بنائے رکھا گیا تو آنے والا وقت کسی پر رحم نہیں کرے گا۔ تاریخ نہ نیت دیکھتی ہے نہ معذرت، وہ صرف نتائج محفوظ کرتی ہے۔ کل جب نسلیں پوچھیں گی کہ تمہارے پاس مسجد تھی، منبر تھا، آزادیِ اظہار کی گنجائش تھی پھر بھی تم کیوں خاموش رہے، تو اس سوال کا جواب نہ امام کے پاس ہوگا اور نہ مقتدی کے پاس۔ اس دن کوئی تاویل، کوئی مصلحت اور کوئی وضاحت کام نہیں آئے گی۔ لہٰذا! فیصلہ کرنا ہوگا کہ جمعہ کا منبر زندہ ضمیر بنے گا یا مردہ روایت۔ امام یہ طے کرے کہ وہ محض رسمی پیشوا رہے گا یا باخبر رہنما اور عوام یہ فیصلہ کریں کہ وہ صرف سننے والے رہیں گے یا سمجھنے اور عمل کرنے والے بنیں گے۔ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے، حالات سنگین ہیں اور آزمائش کڑی ہے مگر ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ اگر آج منبر سے سچ بولا گیا، اگر آج مسجد میں شعور کی شمع جلا دی گئی تو اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو راستہ نکل آئے گا اور اگر آج بھی ہم نے خود کو نہ بدلا تو کل حالات ہمیں اس طرح بدل دیں گے کہ سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ یہی وہ آخری موڑ ہے جہاں سے یا تو قوم بیداری کی طرف پلٹے گی یا پھر تاریخ کے حاشیے پر مزید سمٹتی چلی جائے گی۔

 آخر میں یہی کہنا ہے کہ یہ تحریر نہ کسی فرد کے خلاف ہے، نہ کسی امام کی نیت پر حملہ بلکہ یہ ایک اجتماعی درد کی صدا اور ایک فکری گزارش ہے کہ اب بھی وقت ہے، اب بھی منبر کو بیداری کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ تاریخ نے ہمیشہ گواہی دی ہے کہ جب مساجد نے صرف سجدوں نہیں بلکہ سوچوں کی بھی امامت کی ہے تو امت نے زوال سے عروج تک کا سفر طے کیا ہے۔ اب یہ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم جمعہ کے منبر کو زندہ ضمیر بناتے ہیں یا بے جان روایت۔ وقت کم ہے، حالات سخت ہیں، مگر امید اب بھی باقی ہے بشرطیکہ ہم سچ بولنے اور سچ سننے کا حوصلہ پیدا کر لیں۔

 (مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے