احتشام عابد پورنوی بہار
متعلم: دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو یو پی
آج کے دور میں انسان خواہشاتِ نفسانی کا ایک پتلا بن چُکا ہے ، جو خواہشات روز بروز بڑھتی جارہی ہے ، اور قرآن کریم کی اس آیت کا مصداق بنتا جارہا ہے أفرأيتَ من اتّخذَ الههُ هواهُ ۔
ترجمہ: بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو ہی اپنا معبود بنا لیا ہے؟
لہذا ہمیں اپنی خواہشات پر مکمل دسترس اور قابو رکھنے کی اشد ضرورت ہے، جس سے ہمیں اس مہلک بیماری سے نجات مل سکے۔
ورنہ ایک وقت آئے گا جو ہر ہر فرد کو یہ مہلک بیماری ہلاکت کی طرف لے جائے گی۔
مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ جہاں اس ترقی پذیر دور میں ہر طرف ٹیکنالوجی (Technology) بڑھ چڑھ کر بول رہی ہے ،تو وہیں دوسری طرف مسلمانانِ قوم ہوس پرستی، نفس پرستی، و خودغرضی میں مبتلا ہو کر روز بروز زوال پذیر کی طرف گامزن ہے۔
یہ کسی قوم کی ناکامی و نامرادی کی سب سے اہم دلیل ہے ،لہذا جب تک ہم مسلمان اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے تب تک ہماری حالت کوئی نہیں بدل سکتا ہے۔
جس کو قرآن یوں بیان کرتا ہے:
إنّ اللهَ لا يغيّرُ مابقومٍ حتٰى يغيّروما بانفسهم .
ترجمہ: اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔
