پروفیسر وکرم وساجی اور آر کے ہوڑگی کی کتابوں کی رسمِ اجراء 

کلبرگی 2 / جنوری. (محمدیوسف رحیم بیدری): ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی قابلِ قدر خدمات پر ملک کے مختلف مقامات سے مزید کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے جو خوش آئند اس لئے بھی ہے کہ اب امبیڈکر کے وچاروں کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اور ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار  دانشور و مفکر مسٹر ہرش کمار نے سمیدھا پرکاشن کی جانب سے منعقدہ دو ترجمہ شدہ کتابوں کی رسمِ اجراء کے موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ امبیڈکر کا آئین چاہتا تھا کہ نچلی ذاتوں کے لوگ بھی اعلیٰ عہدے حاصل کریں۔ تاہم انہیں حقوق کے حصول میں ہنوز دشواریاں ہو رہی ہیں اور کچھ جگہوں پر امتیاز کی پالیسی اب بھی موجود ہے۔ یہاں تبدیلی کی ضرورت ہے،” ڈاکٹر ارون جولاد اکوڈلیگی، اسسٹنٹ پروفیسر امبیڈکر ڈگری کالج نے کہا کہ ، "امبیڈکر ایک عظیم فلسفی تھے اور ان کے خیالات دنیا بھر میں پھیل رہے ہیں۔ دیگر ممالک میں بھی ان کے وچاروں کو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے،” "ڈاکٹر۔ بی۔آر۔ امبیڈکر پر سینکڑوں کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ لیکن پبلشرز اور مصنفین کی محنتوں کے رنگ لانے قارئین کی ضرورت ہے ۔ اب جبکہ پروفیسرز میں بھی پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے یہ تشویشناک بات ہے ۔ ہر کسی کو کتابیں پڑھنی چاہئے اور اپنا علم بڑھانا چاہیے،”
                کتاب کے مترجم وکرم پرا کاشکا دتاتریا ویساجی، اکالاکی اور اشوکا شتاکارا کے علاوہ مفکر ہرش کمار کپے، اسسٹنٹ پروفیسر ارون جولاداکڈلیگی اور پروفیسر آر۔ کے۔ ہوڑگی، پروفیسر اپاگیر سوماشیکر بی آر۔ بدھ، وکرما وساجی، دتاتریا اکالکی اور دیگر موجود تھے ۔ مسٹر بسواراج دیشمکھ سیکریٹری ودیا وردھک سنگھ ایس بی یونیورسٹی کے ہاتھوں گزشتہ دنوں بسویشور سمستھان کلبرگی میں ان کتابوں کی مکرر رسمِ اجراء عمل میں لائی گئی اس موقع پر پروفیسر آر کے ہوڑگی، ڈاکٹر لکشمن دستی ،ڈاکٹر ماجد داغی ،ڈاکٹر منظور احمد دکنی اور دیگر موجود تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے