از ڈاکٹر محمد نعمت اللہ ادریس ندوی
اللہ تعالی نے وقوف عرفہ کے بعد دسویں ذی الحجہ کے دن کو ہمارے لئے عید کا دن قرار دیا ہے؛ اس لئے کہ یوم عرفہ میں جہنم کی آگ سے آزادی ملتی ہے۔ اللہ تعالی، میدان عرفات میں وقوف کرنے والے حاجی اور دنیا کے وہ سبھی مسلمان جن کے اعمال اچھے ہوتے ہیں اور توبہ قبول ہوتی ہے ،ان کو رحمت ومغفرت سے نوازکر جہنم سے چھٹکارا دیتا ہے ؛ لہذا اس کے بعد والے دن کو سارے مسلمانوں کے لئے چاہے وہ حاجی ہوں یاغیر حاجی سب کے لئے عید کا دن مقرر فرمایا کہ جس طرح یوم عرفہ میں اللہ کی عنایت و کرم اورحمت و بخشش میں سبھی شریک ہوئے، اسی طرح یوم عید کی خوشیوں میں تمام لوگ شریک ہوں گے اور نماز عید کے بعدجانوروں کی قربانی کر کے اللہ کا تقرب حاصل کریں گے۔
اللہ تعالی نے خوشی کے اس دن میں اپنی قربت پانے اور رضا حاصل کرنے کے لئے حاجیوں کو حکم دیا کہ رمی ،قربانی، حلق یا قصر اور طواف کے ذریعہ اپنے احرام کی ذمہ داریاں پوری کریں ، جب کہ غیر حاجیوں کو اللہ کا ذکر بلند کر نے یعنی تکبیریں کہنے نماز پڑھنے اور قربانی کرنے کا حکم دیا ۔ سورۂ کوثر پر ایک نظر ڈالئے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حوض کوثر کی نعمت عطا کئے جانے پر نماز و قربانی کے ذریعہ شکر ادا کرنے کی یوں ہدایت ہوئی:
’’إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ،فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ‘‘( سورۃ الکوثر:۱، ۲)۔
(بے شک ہم نے تجھے کوثر دیا ہے ، پس اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو)۔
آئیے! حاجیوں اور غیر حاجیوں کے لئے یوم عید و ایام تشریق میں ہدایات و احکامات کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں :
حاجیوں کے لئے احکام:
جب دسویں ذی الحجہ کی صبح کو جو کہ عید کا دن ہے ،حجاج مزدلفہ سے منی کی طرف کوچ کریں تو مزدلفہ سے یا راستے سے چنے سے تھوڑی بڑی سات کنکریاں، رمی کے لئے چن لیں۔اب یہ کنکریاں تین دنوں کی رمی کے لیے ایک چھوٹی تھیلی میں مہیا بھی کرائی جاتی ہیں۔منی پہونچنے کے بعدپہلا حکم یہ ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کریںیعنی اسے سات کنکریاں یکے بعد دیگرے ماریں۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر کنکری، داہنے ہاتھ کی انگلیوں سے پکڑ کر ،تکبیر (بسم اللہ واللہ أکبر)کہتے ہوئے ،ہاتھ اٹھا کرمارے۔ یہ ضروری ہے کہ کنکریاں سب کی سب جمرے کے حوض میں گریں،خواہ وہ کنکریاں حوض کے اندر رہیں یا نہ رہیں ۔
جمرہ عقبہ کی رمی کا وقت عورتوں اور معذور لوگوں کے لئے دسویں تاریخ کو فجر کے وقت سے شروع ہوجاتاہے ۔البتہ تندرست لوگوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس دن طلوع آفتاب کے بعد رمی کریں۔
رمی کے بعد قارن اور متمتع حاجی قربانی کرے۔ اس عمل کی انجام دہی،حجاج کی سہولت اور قربانی کا گوشت مستحقین تک پہونچانے کی ذمہ داری کے پیش نظر، ایک خاص ادارے کو سونپی گئی ہے۔ قربانی کا وقت علما کی ایک جماعت کے نزدیک عید الاضحی کے دن طلوع آفتاب سے لے کر ۱۳؍ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک رہتا ہے،یعنی عید کا دن اور اس کے بعد کے تین دن جو کہ ایام تشریق ہیں۔ ان کی دلیل حدیث نبوی ہے :
’’ کُلُّ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ ذَبْحٌ‘‘(مسند احمد وصحیح ابن حبان،بروایت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) ( تمام ایام تشریق میں ذبح ہے)۔
لیکن اس حدیث پر کلام کی وجہ سے دوسرے اہل علم ۱۲؍ ذی الحجہ تک ہی قربانی کاآخری وقت قرار دیتے ہیں۔ ان کی بھی دلیل حدیث نبوی نہیں بل کہ بعض کبار صحابہ کا قول ہے کہ قربانی کے لیے یوم النحر (دسویں ذی الحجہ )اور بقیہ دو دن ہیں، ان کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ احتیاط کا پہلو اسی میں ہے۔ قربانی کرنے والاجس قول کو بھی اختیار کرے، ان شاء اللہ ، اللہ کے نزدیک بری الذمہ ہوگا۔
قربانی کا گو1شت حاجی خودکھائے ، بطور ہدیہ دے اور غریبوں میں تقسیم کرے، یہ مستحب ہے ۔
قربانی کے بعد سر منڈائے یا بال چھوٹا کروائے ۔عورتیں اپنی چوٹیوں سے ایک پور کے برابر یعنی تقریبا دو سینٹی میٹر کٹوائیں۔
جمرہ عقبہ کی رمی اور حجامت کے بعد ہر وہ چیز حلال ہو جاتی ہے جو احرام باندھنے سے حرام ہو گئی تھی ، مگر بیوی کے ساتھ مباشرت طواف افاضہ تک بدستور حرام ہے ۔رمی ، قربانی، حجامت یا تقصیر کے بعد اگر ہو سکے تو عید کے دن ہی طواف افاضہ اور سعی کے لئے مکہ روانہ ہوجائے کہ اس دن یہ طواف افضل ہے ۔ اس کا وقت دسویں ذی الحجہ کی فجر سے شروع ہو تا ہے اورراجح قول کے مطابق ذی الحجہ کے اخیر تک رہتا ہے ( الشرح الممتع از ابن عثیمین ۷/ ۳۷۲۔) ۔مگر بہتر یہ ہے کہ ایام تشریق ہی میں طواف افاضہ سے فراغت حاصل کرلی جائے ۔
عید کے دن چار امور جن کی تفصیل ابھی بیان ہوئی ان کی ترتیب یہ ہے :
سب سے پہلے رمی پھر قربانی اس کے بعد سر منڈوانا یا تقصیر ،پھر طواف افاضہ۔
اگر حاجی کسی بناپر ان میں سے ایک کو دوسرے پر مقدم کردے تو کوئی حرج نہیں۔ غور طلب یہ ہے جو علما ان اعمال کی ترتیب کی سنیت کے قائل ہیں ،ان کے یہاں تو قضیہ پیش نہیں آتا کہ ترتیب میں فرق پڑ جائے اور اعمال مقدم وموخر ہوجائیں ؛ کیوں کہ متفق علیہ حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کسی بھی چیز کی تقدیم و تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب دیا :’’افْعَلْ وَلَا حَرَجَ‘‘(بخاری :۸۳، مسلم : ۱۳۰۶، بروایت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ )(کرو کوئی حرج نہیں)، لیکن جو علما ترتیب اور بالخصوص نحر و حلق کے درمیان ترتیب واجب کہتے ہیں جیسے علمائے احناف، تو ان کے سامنے یہ مسئلہ قابل غور ہے کہ قارن و متمتع حاجی اگر آج کل کی مشکلات کی وجہ سے خود قربان گاہ نہیں جا پارہا ہے اور اس نے کسی ادارہ یا بینک کو وکیل بنا رکھا ہے تو کیامحض موہوم اور ظنی وعدہ کی بنا پر حلق کرواکر اپنا احرام کھول دے؟میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی محتاط فیصلہ نہیں ہوگا الا یہ کہ کسی معتبر ذمہ دار سے ذاتی طور پر رابطہ ہوجائے اور وہ یقین دہانی کرائے کہ آپ کی قربانی ہو چکی ہے۔
جہاں تک ایام تشریق کا تعلق ہے تو یہ جان لینا چاہئے کہ ان دنوں یعنی گیارہ
بارہ اور تیرہ ذی الحجہ کو حجا ج دو کاموں میں مشغول رہیں گے :
پہلا کام:
منی میں تین رات گزارنا ، یعنی رات کے اکثر اوقات میں منی میں رہنا ۔ اگر بغیر کسی عذر کے رات نہیں گزاری توطریقہ نبوی کی مخالفت ہو گی ۔
دوسرا کام:
تینوں جمروں کی رمی ۔ رمی کا وقت ایام تشریق میں روز انہ زوال آفتاب کے بعدشروع ہوتا ہے ۔
ہر حاجی کو چاہئے کہ گیارہویں تاریخ کو زوال آفتا ب کے بعد ۲۱؍کنکریاں اپنے ارد گرد کی جگہ ہی سے یا راستے سے چن لے، یا اگر اسے تیار کردہ تھیلی مل گئی ہو تو زیادہ بہتر ہے، یہ کنکریاں سائز میں چنے کے دانے سے تھوڑی سی بڑی ہوں۔ پہلے جمرہ صغری کی رمی کرے، یہ جمرہ مسجد خیف کے قریب ہے ، پے در پے اس کو سات کنکریاں مارے، ہاتھ اٹھا کر تکبیر کے ساتھ کنکری اس طورپرپھینکے کہ ہرکنکری جمرے کے حوض کے اندر گرے ، پھر اسی طرح جمرۂ وسطی پر سات کنکریاں مارے، پھر تیسرے جمرے یعنی جمرہ کبری کو بھی سات کنکریاں مارے۔
حجاج، بارہ تاریخ کو بھی یعنی دوسرے دن زوال آفتاب کے بعد ان تینوں جمروںکی بدستور سابق رمی کریںگے۔
بیمار ، حاملہ عورت، بچہ ،بوڑھاآدمی جو رمی سے عاجز و قاصر ہو ان کا ولی اپنی رمی کرنے کے بعد ان کی طرف سے رمی کرے ۔
رمی جمار کے بعد جو شخص منی سے واپس جانا چاہے ،وہ چلائے جائے ۔اگر بارہ تاریخ کی رات کا سورج اس کی واپسی سے پہلے غروب ہو جاتا ہے تواس کو منی میں رات گزارنا ہو گی اور اگلے دن یعنی تیرہ تاریخ کو تینوںجمروں کی رمی کرنا ہوگی ۔ یہ عمل تاخیر کہلاتاہے اور تاخیر تعجیل سے افضل ہے ،یعنی منٰی کا یہ قیام اور تیسرے دن کی رمی افضل اورکثرت اجر کا باعث ہے ۔خود نبی کریم صلی اللہ علیہ نے اسی پر عمل فرمایا تھا۔
قیام منی کے دوران ہر نماز مقررہ وقت پر قصر پڑھی جائے ، جمع نہ کی جائے؛ اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں ایسا ہی عمل فرمایاتھا(البخاری : ۱۶۵۵-۱۶۵۷) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کو جو آپ کے ساتھ حج میں شریک تھے، نماز پوری کرنے کا حکم نہیں دیا تھا جب کہ فتح مکہ کے موقعہ پر ان کو اس کی ہدایت کی تھی۔
غیرحاجیوں کے لئے احکام
۱- تکبیر مقید: یوم عرفہ کی فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن یعنی تیرہ ذی الحجہ کی عصر تک فرض نمازوں کے بعد تکبیریں کہی جائیں۔ اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد ہے: ’’وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِی أَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ‘‘(البقرۃ: ۲۰۳)۔ (گنتی [یعنی قیام منیٰ]کے دنوں میں اللہ کا ذکر کرو)۔
تکبیر کے الفاظ یہ ہیں: ’’اللّٰہُ أَکْبَرُ، اللّٰہُ أَکْبَرُ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ،وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، اللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ‘‘( مصنف ابن ابی شیبۃ ۶۸ ــــ ۔ ۱۶۵؍۲)۔
ایام تشریق میں حاجی بھی یہ تکبیریں بلند کریں گے، وہ اس کی ابتدا یوم النحر یعنی دسویں تاریخ کی ظہر کی نماز کے بعد سے کریں گے؛ کیوں کہ وہ اس سے پہلے
تلبیہ میں مشغول ہوتے ہیں۔
تکبیر مطلق جس کاکہ کوئی وقت مقرر نہیں وہ بھی انہی الفاظ کے ساتھ عیدین کی راتوں میں، عیدگاہ جاتے ہوئے ،عید گاہ میںاور اس کے علاوہ عشرۂ ذی الحجہ کے تمام دنوں میں ہر جائزجگہ چاہے وہ گھر ہو یا بازاریا مسجد ہر وقت بہ آواز بلند مسنون ہے (الملخص الفقہی از ڈاکٹر صالح الفوزان ۱/ ۲۷۷،۲۷۸)۔
۲- نمازعیدالاضحی : علماء محققین کے نزدیک یہ نماز واجب ہے جس کی دلیل اللہ کا یہ قول ہے:’’فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ‘‘(الکوثر : ۲)(کہ اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو)۔ آیت کریمہ میں نماز و قربانی دونوں کا حکم ایک ساتھ دیا گیا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کی ادائیگی پر ہمیشگی کی ہے اور حکم بھی دیا ہے ، حتی کہ عورتوں کو بھی گھروں سے باہر آکر اس میں شریک ہونے کی تاکید فرمائی ہے(البخاری : ۹۷۱)؛کیوں کہ یہ اسلامی شعائر کے اظہار کا ایک ذریعہ اور اس کا مظہر ہے جس سے ایمان اور تقوی کا پتہ چلتا ہے ۔
اس کی ادائیگی کا وقت سورج کے ایک نیزہ کے بہ قدر اونچا ہونے سے شروع ہو تا ہے اور زوال تک باقی رہتا ہے۔افضل یہی ہے کہ صلاۃ الاضحی کی ادائیگی اول وقت میں ہو؛ تا کہ لوگ جلداز جلد قربانیوں کے لئے فارغ ہوسکیں۔
۳- قربانی : یہ ا للہ کے نزدیک یوم النحرکا سب سے محبوب اور پسندیدہ عمل ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ مَا عَمِلَ آدَمِیٌّ مِنْ عَمَلِ یَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَی اللّہِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ إہْرَاقَِ الدَّمِ ‘‘(جامع الترمذی : ۱۴۹۳)۔
(دسویں ذی الحجہ کواللہ کے نزدیک انسان کا سب سے بہتر عمل خو ن بہانا ہے )۔
نماز عید الاضحی ہی کی طرح قربانی کا بھی شرعی حکم وجوب کا ہے جیساکہ سورۂ کوثرکی آیت مذکورہ سے ثابت ہوتاہے ؛چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ قربانی کا معمول رہاہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اس کی پابندی کی ہے ۔
قربانی کیلئے مخصوص جانور بھیڑ،بکری،گائے،بھینس اوراونٹ ہیں،بشرطیکہ وہ مطلوبہ عمر کو پہونچ جائیں اور امراض و عیوب سے پاک ہوں ۔ایک بھیڑ یابکری کی قربانی ایک شخص کی طرف سے ہو گی اور ثواب میں گھر والے بھی شریک ہو ں گے اور گائے، بھینس، اونٹ کی قربانی سات آدمیو ں کی طرف سے ہوگی ۔
قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہئے اور تقسیم بھی کرنا چاہئے کہ یوم عید و ایام تشریق خوشیاں منانے ،کھانے پینے اور اللہ کو یادکرنے کے دن ہیںجیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان دو بچیوں کو ڈانٹے جانے پر جوکہ عید کے دن دف بجا بجا کر گارہی تھیں ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ’’دَعْہُمَا یَا أَبَا بَکْرٍ، إِنَّہَاأَیّامُ عِیْدٍ وَ ہُنَّ أَیّامُ مِنٰی‘‘(سنن النسائی : ۱۵۹۷، بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا )
(اے ابوبکر! دونوں کو چھوڑ دو ، یہ عید کے دن ہیں اور یہی ایام منی ہیں)۔ نیز فرمایا : ’’أَیّامُ التَّشْرِیْقِ أَیّامُ أَکْلٍ وَ شُرْبٍ وَ ذِکْرِ اللّٰہِ ‘‘(مسلم :۱۱۴۱ بروایت نبیشہ الہذلی رضی اللہ عنہ) ۔
(ایام تشریق کھانے پینے او11 اللہ کے ذکر کے دن ہیں )۔
اللہ تعالی ہمیں ان ایام مبارکہ میں بتائے۔آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے