ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی، استاد دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ

مولاناسید محمد علی کانپوری مونگیری (۱۸۴۶-۱۹۲۷ء)ندوۃ العلماء لکھنؤکے بانی اوراس کے پہلے ناظم ہیں۔ان کا سلسلۂ نسب شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے توسط سے سید حسن بن علیؓ تک پہنچتاہے۔ان کے پیش رو بغداد سے بخارا آئے اور ملتان ہجرت کرکے وہاں سے مظفر نگر، ہندوستان آئے ۔ ان کی ولادت ۳؍شعبان ۱۲۶۲ھ مطابق ۲۸؍جولائی ۱۸۴۶ء کو کانپورمیں ہوئی۔
ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی اور دیگر دینی تعلیم معروف عالمِ دین مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور مولانا عنایت علی کانپوری سے حاصل کی۔علاوہ ازیں، انہوںنے تکمیلِ حدیث مولانا احمد علی سہارنپوری سے کی اور بیعتِ سلوک شیخ کرامت علی سے کی ۔ ان کی وفات کے بعد انہوں نے مولانا فضل الرحمن گنج مرادآبادی سے بیعت کی اور ان کے خلیفہ ہوئے۔
۱۸۵۷ء کی بغاوت کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے ہندوستانیوں خاص طور سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا ایک منصوبہ شروع کیا۔اس کی وجہ یہ تھی مسلمان ۱۸۵۷ء کی بغاوت میں پیش پیش تھے اور برطانویوں نے مسلمانوں سے اقتدار چھینا تھا۔
چنانچہ ۱۸۶۶ء میں مولانا قاسم نانوتوی اور ان کے جری، دوراندیش اور روشن خیال دوستوں نے اسلام کوبرطانوی حملے سے بچانے اور ۱۸۵۷ء میں جو کچھ انہوں نے کھودیاتھا اس کی بھرپائی کے لیے دار العلوم دیوبند کی بنیاد رکھی ۔۱۸۷۵ء میں سرسید احمد خان نے سماجی اور خالص سائنسی علوم کی تعلیم کی غرض سے مدرسۃ العلوم (محمڈن اینگلو اورینٹل کالج) علی گڑھ کی بنیاد رکھی ۔علم کے دو مختلف دھاروں نے مسلم معاشرے میں ایک ولولہ خیز صورت حال پیداکردی۔علمائے دیوبند نے علی گڑھ مکتبِ فکر کے فارغین کو بدنام کرنا شروع کردیا اور علی گڑھ والے علماء کو بنیاد پرست اور غیر واضح اصحابِ فہم سمجھتے تھے۔دونوں اداروں کے درمیان خلیج بڑھ گیا۔اس صورتِ حال سے نمٹنے اور اس کا علاج کرنے کے لیے کچھ سربرآوردہ علمائے دین نے ایک ایسی تنظیم کی تشکیل کے بارے میں سوچا جودونوں علمی دھاروں سے مناسبت رکھے۔چنانچہ انہوں نے۱۸۹۲ء میں مدرسہ فیض عام کانپور کے سالانہ جلسے میں ’’ندوۃ العلماء‘‘ کی بنیاد رکھی۔
مولانا سید محمد علی کانپوری مونگیری اس کے پہلے ناظم منتخب ہوئے۔ اس کا پہلا اجلاس ۱۵،۱۶،۱۷؍شوال ۱۳۱۱ھ مطابق ۲۲،۲۳،۲۴ ؍اپریل ۱۸۹۴ء کو مدرسہ فیض عام کانپور میں منعقد ہوا۔اپنے اختلافات کو درکنار کرتے ہوئے تمام فرقوں اور جماعتوں کے مسلمان اجلاس میں شریک ہوئے۔بعدازاںملک کے مختلف حصوں میں متعدد اجلاس منعقد ہوئے۔
ندوۃ العلماء کے بنیادی مقاصد:
۱۔ مدارس کے نصاب میں بنیادی اور دور رس اصلاح کرنا اوراسلامی اصول اور شریعت کی روشنی میں ایک ایسانصابی خاکہ تیارکرنا جو وقت کے تقاضوں پر پورااترسکے۔
۲۔ ایسے علماء تیار کرنا جو قرآن وسنت کی تعلیمات سے اچھی طرح واقف ہوں اورجدید افکار ونظریات سے باخبر ہوں۔ علاوہ ازیں وہ وقت کے ساتھ شانہ بہ شانہ چل سکیں اور معاشرے کی نبض کو پہچان سکیں۔
۳۔ ملت اسلامیہ کو ان کے درمیان اختلافات کو کم کرکے متحد کرنا اور اخوتِ اسلامی کے جذبے کو بھی فروغ دینا۔
۴۔ اسلامی تعلیمات کی اشاعت خاص طور سے برادران وطن کو اس کی خوبیوں اور اقدار سے روشناس کرانا۔
مولانا سید محمد علی مونگیری نے مذکورہ مقاصد کے حصول کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے ندوۃ العلماء کے ضرورت پر خطوط لکھے اور اخبارات میں مضامین تحریر فرمائے اور اس کے مقاصد کو اجاگر کیا۔ لوگوں کو اس کے مقاصد اور اہداف سے متعارف کرانے کے لیے مولانا مشتاق علی نگینوی کی قیادت میں ایک وفد مولانا محمد علی مونگیری کے خطوط لے کر ہندوستان کے مختلف حصوں میں بھیجاگیا۔ وہ دیوبند،رامپور، پٹنہ، نجیب آباد،اٹاوہ، علی گڑھ، جھانسی اور بمبئی گئے۔
یہ وفد علی گڑھ پہنچا ۔ یہاں ان کی ملاقات علامہ شبلی سے ہوئی جن کے سامنے انہوں نے اپنے منصوبوں کی وضاحت کی۔ علامہ شبلی اس وقت محمڈن اینگلو اورینٹل کالج علی گڑھ کے استاد تھے۔ ہندوستان مدارس کے علاوہ انہوں نے اٹلی(روم)، مصراور شام کے مدارس میں تعلیم کا کمتر معیارتنرلی اور انحطاط دیکھاتھا۔ایسا لگا کہ گویا انہیں ندوۃ العلماء کے مقاصد میں اپنے خوابوں کی تعبیر اور درد کا مداوا مل گیاہو۔چنانچہ انہوں نے ندوۃ العلماء کے اہداف اور مقاصد سے پورا اتفاق کیا۔
بمبئی سے مولانا مشتاق علی نگینوی کی قیادت میں وفد حجاز پہونچا۔ علمائے حجاز نے ندوۃ العلماء کی ضرورت اور اس کی اہمیت کا اعتراف کیا۔ انہوں نے ندوۃ العلماء کے اہداف ومقاصد علمائے مدینہ کے سامنے بھی پیش کیے۔ اس سفر میں ان کی ملاقات حجاز میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے ہوئی جنہیں انہوں نے تمام دستاویزات اور رودادیں دکھائیں۔ انہوںنے عظیم خوشی کا اظہار کیا اور کاغذات پر دستخط بھی فرمائے۔
مولانا عبد السلام قدوائی رقمطراز ہیں:’’مولانا محمد علی مونگیری تصورِ ندوہ کے اصل محرک تھے اور وہی تھے جنہوں نے اس کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے میں دن رات محنت کی۔ محنت اور عملِ مسلسل نے متاثر کیااور آخرکار گرتی ہوئی صحت کی وجہ سے انہیں ۱۳۲۱ھ مطابق ۱۹۰۳ء میں تنظیم کی نظامت سے سبکدوش ہونا پڑا۔ ان کے رفیق مولانا حکیم سید عبد الحی حسنی نے اس فریضے کو بحسن وخوبی سنبھالا، لیکن چونکہ وہ اس وقت کافی نوجوان تھے تو مولانا مسح الزماں خان ، سابق اتالیق نظام حیدرآباد کو بہ حیثیت ناظم منتخب کیاگیا‘‘۔ (85 Years of Nadwatul Ulama, P. 4)
یہ بات ذہن نشین رہے کہ مدارس کے نصاب میں اصلاح ندوۃ العلماء کے اہم مقاصد میں ہے۔ اس نے مدارس کے نصاب میں بہتری لانے میں اہم کردار اداکیا۔ندوۃ العلماء میں تازہ ترین نصابِ تعلیم پر ہراجلاس، ہرتقریراور ہر کتابچہ میں زوردیاجاتاتھا۔مولانا سید محمد علی مونگیری اور ندوۃ العلماء کے دوسرے ارکان نے محسوس کیا اور تجربہ کیا کہ بغیر ایک نئے دار العلوم کے قیام کے اصلاح شدہ نصاب کو متعارف کرانا ناممکن ہے۔۱۸۸۷ء تک ندوۃ العلماء کی مرکزی عمارت کانپور میں رہی۔۲؍ستمبر ۱۸۹۸ء کو یہ لکھنؤ منتقل ہوا۔اُسی سال ندوۃ العلماء اپنے علمی ادارے’’دار العلوم ندوۃ العلماء‘‘ کاآغاز خاتون منزل، گولہ گنج، لکھنؤ میں کیا۔ ابتدائی درجات کا آغاز ۲۶؍ستمبر ۱۸۹۸ء سے ہوا۔ ۱۹۱۴ء میں دارالعلوم خاتون منزل سے ندوۃ العلماء کی مرکزی عمارت میں منتقل ہوگیا جہاں اب دار العلوم واقع ہے۔
ان سارے کارناموں کے علاوہ مولانا مونگیری نے عیسائی مشنریوں کی تردید میں ایک اہم کردار اداکیا۔ انہوں نے عیسائی مشنریوں کے خطرے کی سنگینی کو محسوس کیا اور لاتعداد معصوم مسلمانوں کو ان کے پھندوں سے محفوظ رکھا۔ انہوں نے مسیحی اثر سے انہیں بچانے کے لیے یتیم خانے بھی کھولے۔وہ ایک ثمر آور مصنف بھی تھے۔ انہوں نے ردّ مسیحیت پر پیغام محمدی، ساطع البرہان،ترانۂ حجازی، برہانِ قاطع، دفع التلبیسات، مرآۃ الیقین، عین الاسلام وغیرہ جیسے متعدد رسالے اور کتابیں تصنیف فرمائیں۔ انہوں نے ۱۸۸۰ء ’’منشورِ محمدی‘‘ کے نام سے ایک مجلہ کا آغاز بھی کیا۔
اسی طرح تیزی سے بڑھتی ہوئی قادیانیت کی روک تھام کے لیے ان کی قابلِ ذکر خدمات کو فراموش نہیں کیاجاسکتاہے۔ڈاکٹر غضنفر علی خان رقمطراز ہیں:’’مولانا محمد علی مونگیری نے بڑھتی ہوئی قادیانیت کے اثرات کا خاص طور پر مونگیر اور بھاگلپور میں سدِّ باب کیا۔انہوں نے نہ صرف ا س کے خلاف تقریریں کیں بلکہ قادیانی افکار کی رد میں سوسے زائد کتابیں اور رسالے تحریر فرمائے۔ان کتابوں میں جیسا کہ مولانا مونگیری کا خیال تھا کہ قادیانیت کی پیش قدمی روکنے کے لیے جہاد ہی افضل راستہ ہے۔اپنی تحریروں سے انہوں نے مسلمانوں کو اس کے خطرے سے آگاہ کیا۔انہوں نے کئی کئی جلدوں میںردِّ قادیانیت پر کتابیں تصنیف فرمائیں جیسے ’’فیصلۂ آسمانی تین جلدوں میں اور شہادتِ آسمان دو جلدوں میں‘‘۔ (Hisotry of Islamic Education in India and Nadwatul Ulama, P. 147)
الغرض مولانا کی ہمہ جہت شخصیت کا کسی ایک مضمون میں احاطہ کرنا ناممکن ہے ۔ مولانا کی ذات ایک انجمن تھی ۔ وہ روشنی کا مینار تھے جو ان کے پاس جاتا تھا اس مینار سے روشنی حاصل کرتاتھا۔بلاشبہ مولانا اپنی بے شمار گوناگوں خوبیوں اور قوم وملت کے تئیں اپنی بے لوث خدمات کی وجہ سے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ان کی وفات ۱۳؍ستمبر۱۹۲۷ء کو مونگیر بہار میں ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے