محمد وسیم راعین عمری
حج اسلام کا پانچواں رکن ہے ، اسلام کی عبادتیں کچھ بدنی ، کچھ مالی اور کچھ بدنی و مالی دونوں کی قبیل سے ہیں ،اسی تیسرے قسم سے حج کا تعلق ہے جسے زندگی میں کم سے کم ایک بار کرنا ہر صاحب استطاعت پہ واجب ہے ۔
جہاں حج ایک عظیم عبادت ہے وہیں اس سے انفرادی، اجتماعی اور بہت سے معاشرتی فائدے حاصل ہوتے ہیں ،حج کے اسی قسم کے فائدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتے ہیں :{وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (27) لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ} [الحج: 27، 28]”اور لوگوں میں حج کی منادی کردے لوگ تیرے پاس پیادہ بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی ، دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے، اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں اور ان مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں ان چوپایوں پر جو پالتوں ہیں پس تم آپ بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ”۔
حج کے اسی عظیم اہمیت کے پیش نظر سعودی حکومت حجاج بیت اللہ کو خاص اہمیت دیتی ہے ،انہیں ہر قسم کی سہولیات فراہم کرتی ہے ،جدید سے جدیر ترین ٹکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے ،حج کو ہر ناحیہ سے کامیاب بنانے کے لئے مکمل تیاری کی جاتی ہے ،حج کو مختلف ناحیوں سے کامیاب بنانے میں سعودی حکومت ہر قسم کے وسائل و امکانات اور اپنی تمام توانائیاں صرف کرتی ہے ۔ حج کی کامیابی کے لئے مختلف وزارات اور رفاہی ادارے بھی حصہ لیتے ہیں ۔ اللہ سبحانہ وتعالی کے خاص فضل وکرم اور سعودی حکومت کی حتی المقدور کوششوں اور کاوشوں کے نتیجے میں ہر سال کا حج دگر سالوں کے حج کی طرح نہایت ہی کامیابی سے اختتام پذیر ہوتا ہے۔
حجاج ومعتمرین کے لئے سعودی حکومت کی خدمت کے متعدد جہات ہیں جنہیں ذیل میں بیان کیا جا رہا ہے :
۱۔ پر أمن ماحول کی فراہمی : ایک وقت ایسا بھی تھا کہ حج پہ جانا خود کو موت کے حوالے کرنے کے مترادف تھا اسی لئے حاجی حج پہ جانے سے پہلے معافی تلافی کرواکے حج پہ روانہ ہوتے تھے، ایسا محسوس کرتے تھے کہ شاید ہی دوبارہ واپسی ہوکیونکہ ہر طرف چوری ،ڈکیتی کا مخیف سایہ سر پہ منڈلاتا رہتا تھا جس کے نتیجہ میں جان سے بھی ہاتھ دھو لیتے تھے ،لیکن سعودی حکومت کے قیام کے بعد حالات تبدیل ہوئے امن وامان کی بحالی ہوئی جس کی وجہ سے نہایت ہی اطمنان وسکون کے ساتھ حج وعمرہ کے اعمال انجام دئے جاتے ہیں ۔
عبادت کی ادائیگی میں امن وامان کی بڑی اہمیت ہے اسی لئے بڑی عبادتوں کو امن سے جوڑا گیا ہےسعودی حکومت نے میڈیا واخبار سے متعلق جو موحد شعار اختیار کیا ہے وہ ہے "بسلام آمنین” ۔
حج میں امن وامان کے قیام کے لئے مختلف فورس اور پولیس موجود ہوتےہیں اور یہ حجاج ومعتمرین کی رہنمائی اور بھیڑ کو کنٹرول کرتے ہیں اور بوقت ضرورت انہیں ہر قسم کی امداد بھی پیش کرتے ہیں،بزرگوں ‘بوڑھوں کو اپنی پیٹھ پہ اٹھائے دور دور تک پہنچا آتے ہیں ۔ انہیں اپنے آرام وراحت کی فکر نہیں ہوتی ہے ،حج کرنے والوں نے عموما دیکھا ہے اور جمرات کے پاس خصوصا دیکھنے میں آیا ہےکہ جب یہ فوجی اہلکار نگرانی ونگہبانی سے فرصت پاتے ہیں تو وہیں نیچے ہی زمین پہ لیٹ جاتے ہیں ۔
۲۔گرمی سے بچاؤ کے لئے مختلف تدبیریں :حجاج بیت اللہ الحرام اور زائرین مدینہ کی آرام وراحت کی خاطر حرمین کے صحن میں کئی سو پانی کے پھوار والے پنکھے نصب کئے گئے ہیں جن کی مدد سے حرارت پہ قابو پایا جاتا ہے اور گرمی کی شدت میں تخفیف کرکے حجاج وزائرین کو آرام وراحت پہنچایا جاتا ہے۔اسی طرح حجاج کی آرام کی خاطر مشاعر مقدسہ میں حجاج کرام کے اطراف واکناف کو پر سکو ن بنانےکے لئے ہزاروں اسکوائر پہ گرمی کو جذب کرنے والا مادہ بچھایا جا رہا ہے ۔
۳۔ اعلی معیار کے وسائل نقل کی فراہمی :حج وعمر ہ میں حاجی ومعتمر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑتا ہے ۔ خصوصا حج میں اس کی ضرورت شدید ہوتی ہے۔ مناسک حج کی ادائیگی کے لئے مشاعر مقدسہ کا چکر لگانا ہوتا ہے ۔اسی ضرورت کے پیش نظر سعودی حکومت نے اس جانب خصوصی توجہ دی ہے اور اعلی معیار کے وسائل نقل مہیا کروایا ہے ۔
حجاج کی خدمت کے لئے حرمین ریلوے اور مشاعر مقدسہ میں حجاج کے نقل وحرکت میں سہولت کے لئے سعودی ریل نے اپنی جاہزیت کا اعلان کیا ہے ۔حرمین ریل ‘حرمین کے مابین ۳۵ الکٹریک ٹرین کے3400 ٹرپ کے ذریعے پندرہ لاکھ حاجی کو منتقل کرنے میں مدد کرے گا۔تو وہیں منی اور عرفات کے مابین کی ریلوں کی تعداد 17 ہے ۔ ان کی مدد سے فی گھنٹہ ۷۲۰۰ ہزار سے زائد حاجی کو منی ‘ مزدلفہ اور عرفات کے مابین منتقل کرنے میں آسانی ہوگی اور من جملہ ڈھائی لاکھ کے قریب حجاج کو منتقل کرنےمیں کامیابی ملے گی ۔ اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں حجاج کی منتقلی کے لئے بسوں کا انتظام ہوتاہے۔
۴۔دینی رہنمائی کے مختلف ذرائع :سعودی حکومت حجاج ومعتمرین کے لئے ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے دینی اعتبار سے ہو یا دنیوی اعتبار سے ۔دینی اعتبار سے توجیہ و ارشاد کے کتنے مراکز ہیں جو ہمہ وقت حجاج ومعتمرین کی خدمت کے لئے مستعد وکوشاں رہتے ہیں حجاج ومعتمرین کے ہر قسم کے علمی سوالات کے جواب دینے کے لئے مختلف کابینے ، لائیو کالنگ وغیرہ کی سہولت موجود ہے اسی طرح زائرین کے سوالوں کے جواب دینے کی غرض سے ٹول فرینمبر بھی جاری کیا ہے ‘ مختلف میقاتوں اور حرمین میں ہزاروں کی تعداد میں روزانہ اسلامی لٹریچر کی تقسیم بھی ہوتی ہے ۔
۵۔مختلف زبانوں میں خطبوں کے ترجمہ کا اہتمام : اسلام میں خطبوں کی بڑی اہمیت اور بڑا مقام ہے ۔جمعہ کا دن اسلامی تعلیم سے روشناس کرانے کا ہفتہ واری اجلاس ہے تو حج سالانہ اجتماع کا مظہر ہے ‘اسی وجہ سے حرمین اور میدان عرفہ کے منبر سے دئے جانے والے خطبوں کا اپنا وقار اور بڑا مقام ہے ۔ خطبات کے مذکورہ اہمیت کے پیش نظراسی طرح مختلف زبانوں کے بولنے اور سمجھنے والے سامعین کا خیال رکھتے ہوئے حرمین اور میدان عرفہ کے خطبوں سے استفادہ کی خاطر لائو ترجمہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
۶۔ خدمت گاروں کی بہت بڑی ٹیم کی تقرری :سعودی عرب کی خدمت کا روشن باب یہ بھی ہے کہ حجاج کی خدمت کے لئے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بہت بڑی ٹیم مقرر کی جاتی ہے ساتھ ہی ساتھ ان کی ذہن سازی بھی کی جاتی ہے ‘ مختلف وسائل کے ذریعے اس قسم کی مختلف کلپ اور تصویریں ہمارے اور آپ کے مشاہدے میں آئی ہیں جو ان کی عظیم خدمات کی عکاسی کرتی ہیں ۔ایسے ایسے مناظر دیکھتے ہیں جن سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ اگر ان کے دلوں میں حجاج کی خدمت کا جذبہ نہ ہوں اور انہیں اس طرح کی خدمت کے لئے ذہنی طور پہ تیار نہ کیا گیا ہو تو انسان اس قسم کی خدمت انجام دینے کے لئے تیار نہیں ہوگا ۔ اللہ رب العالمین ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے آمین ۔
گزشتہ سال حجاج کی خدمت کےلئے مامور افرادکی تعداد ‘ ۲دو لاکھ سات سو اکیس تھی ‘ اگر انہیں حجاج کے حساب سے تقسیم کیا جائے تو معلوم ہوگاکہ تقریبا ہر چار فرد کی خدمت کے لئے کوئی نہ کوئی فرد مقرر ہے چاہے وہ مفتی ہوں یا مرشد ہوں یا فوجی ہوں یا پولس ہو ں یا ڈاکٹر ہوں یا نر س ہو ں یا ڈرائیور ہوں یا خیمہ میں خدمت کرنے والے افراد یا دگر اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں ۔
۷۔بیماروں کی خصوصی رعایت :سعودی حکومت کی حجاج کی خدمت کا ایک روشن باب یہ بھی ہے کہ جو لوگ حج کے لئے آتے ہیں پہلے سے ہی سخت قسم کے بیمار ہوتے ہیں ‘یا حرمین پہنچ کر سخت بیمار ہو جاتے ہیں ‘ بیماری کی وجہ سے ان کا شمار محصرین(یعنی عذر کی بنیادپہ حج نہ کرنے والوں) میں ہوتا ہے لیکن سعودی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ وہ بغیر حج کئے اپنے علاقے اور وطن لوٹ جائیں اسی لئے ان کے لئے خاص اہتمام ہوتا ہے مختلف ایمبولنس کے ذریعے انہیں مشاعر پہنچایا جاتا ہے اور ان کی نیابت کرنے افراد کے ذریعے ان کے مناسک کی تکمیل کی جاتی ہے ۔
۸۔شاہی مہمان کا پروگرام : حج كی تمنا‘ ہر مسلمان کے دل میں ہے یہ خواہش کبھی وقت پہ پوری ہو جاتی ہے اور کبھی انسان کی خواہش پایہ تکمیل کو پہنچنےسے پہلےہی انسان رب کو پیارا ہو جاتا ہے۔ خادم الحرمین شاہ سلمان حفظہ اللہ نے ۹۰ سے زائد ملکوں میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے، ۱۳۰۰ حجاج کی میزبانی کا حکم دیا ہےجو شاہی خرچے پہ حج کریں گے اور اس کارخیر کی انجام دہی وزارت اسلامی کے ذمے ہیں جو کئی سال سے یہ خدمت بہترین طریقے سے انجام دیتے رہے ہیں ۔
۹۔طرق مکہ سے مستفید حجاج کی جملہ کاروائی اپنے ملک سے ڈپارچر سے پہلے ہی مکمل ہوجاتی تاکہ سعودی پہنچنے کے بعد حجاج کی کثرت کے سبب انہیں امیگریشن کی کاروائی کی تکمیل کے لئے انتظار کرنے اور مزید تکلیف برداشت نہ کرنا پڑے ۔ سعودی کے مختلف ایرپورٹ میں حجاج کی کاروائی کی تکیل کے لئے مختص جگہ ہوتی ہے اور خدمت کرنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہی ہوتی ہے ۔
اسی طرح سے حرمین سے کی توسیع ‘ حرمین میں مختلف قسم کے اعمال کی انجام دہی کے لئے جدید طرز کے روبوٹ ‘صفا اور مروہ کے بابین سعی کرنے سے معذورافراد کے لئے جدید آلات کا انتظام ہو ‘مدینہ میں زمزم کی فراہمی یہ اور اس طرح کے دگر اور مثالیں اس حکومت کی روشن خدمات ہیں ۔
اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ ان خدمات کا انہیں بہتر سے بہتر بدلہ عطا فرمائے‘ انہیں ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے‘ حاسدوں کے حسد اور مکاروں کے مکر سے انہیں بچائے اور ان سے ہر قسم کی دین کی خدمت لیتا رہے ۔ انہیں ایمان وعمل ‘ صحت وعافیت والی لمبی زندگی دے۔ آمین۔
