از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی

خادم: دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ، سہلاؤ شریف،باڑمیر(راجستھان)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں آنکھ کو ایک غیر معمولی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آنکھ کے ذریعے انسان نہ صرف اس کائناتِ رنگ و بو کا مشاہدہ کرتا ہے بلکہ علم و معرفت کے دروازے بھی اسی نعمت سے کھلتے ہیں۔ قدرتِ الٰہی کی نشانیاں، فطرت کی دلکشی، علم کی باریکیاں اور حکمتِ ربانی کے اسرار اسی آنکھ کے ذریعے دل تک پہنچتے ہیں۔
یہی آنکھ اگر اطاعتِ الٰہی، خوفِ خدا اور شکرگزاری کے دائرے میں رہے تو قربِ الٰہی اور نورِ ایمان کا ذریعہ بن جاتی ہے، لیکن جب یہ بے لگام ہو جائے، حرام و ناجائز مناظر کی عادی بن جائے تو یہی آنکھ بدنگاہی کی صورت میں ایمان، اخلاق، عبادت، صحت اور معاشرت۔۔۔سب کچھ برباد کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
«هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ»(السجدۃ: 9)
ترجمہ: وہی ذات ہے جس نے تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے، مگر تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔
ایک اور مقام پر فرمایا:«أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ ۝ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ»(البلد: 8–9)
ترجمہ: کیا ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں، ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں بنائے؟
یہ آیات اس حقیقت کو واشگاف کرتی ہیں کہ آنکھ محض دیکھنے کا آلہ نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے، اور اس امانت میں خیانت بدنگاہی کے ذریعے ہوتی ہے۔
بدنگاہی کی حقیقت:
بدنگاہی صرف یہ نہیں کہ کسی غیر محرم کو شہوت اور لذت کی نیت سے دیکھا جائے، بلکہ اس کے دائرے میں یہ تمام امور شامل ہیں:غیر محرم مرد یا عورت کو بلا ضرورت دیکھنا،
فحش تصاویر اور ویڈیوز کا مشاہدہ کرنا،عریانی و بے حیائی پر مبنی فلمیں، ڈرامے اور اشتہارات دیکھنا،سوشل میڈیا اور موبائل فون کے ذریعے آنکھوں کو گناہ میں مبتلا کرنا۔
یہ سب شریعتِ مطہرہ کی نظر میں سخت گناہ اور ایمان کے لیے نہایت خطرناک ہیں۔
قرآنِ کریم میں بدنگاہی کی ممانعت:
اللہ تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ حکم فرمایا:«قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ»(النور: 30)
ترجمہ: مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔
اسی طرح عورتوں کے لیے فرمایا:«وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ»
(النور: 31)
ترجمہ: اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں۔
ان آیات میں واضح اعلان ہے کہ نگاہوں کی حفاظت ایمان کی شرط اور پاکیزگی کی بنیاد ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں بدنگاہی کی قباحت:
نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:«اَلْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ وَزِنَاهُمَا النَّظَرُ»(صحیح بخاری، کتاب الاستئذان، حدیث: 6243)
ترجمہ: آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں، اور ان کا زنا حرام دیکھنا ہے۔
ایک اور حدیث میں فرمایا:
«كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا… فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ»(صحیح مسلم، کتاب القدر)
ترجمہ: ابنِ آدم کے لیے زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے… آنکھوں کا زنا حرام دیکھنا ہے۔
حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ…»
(سنن ابی داود: 2149، جامع ترمذی: 2777)
ترجمہ: اے علی! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو، پہلی تمہارے لیے ہے مگر دوسری تمہارے خلاف ہے۔
بدنگاہی:ابلیس کا زہر آلود تیر
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
«النَّظْرَةُ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ إِبْلِيسَ مَسْمُومٌ…»(المستدرک للحاکم: 7875)
ترجمہ: بدنگاہی ابلیس کے زہر آلود تیروں میں سے ایک تیر ہے، جو شخص اللہ کے خوف سے اسے چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اسے ایسا ایمان عطا فرماتا ہے جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔

بدنگاہی کے روحانی و اخلاقی نقصانات:

حضرت امام ابو حامد غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:«الْعَيْنُ بَابُ الْقَلْبِ…»(احیاء علوم الدین، 3/97)
ترجمہ: آنکھ دل کا دروازہ ہے، اگر دروازہ خراب ہو جائے تو اندر آنے والی چیزیں بھی خراب ہو جاتی ہیں۔
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں:
«مَنْ أَطْلَقَ بَصَرَهُ كَثُرَ أَسَفُهُ»
ترجمہ: جو شخص اپنی نگاہوں کو آزاد چھوڑ دیتا ہے، اس کی حسرتیں بڑھ جاتی ہیں۔

بدنگاہی کے طبی و نفسیاتی نقصانات:

اہلِ تجربہ کے مطابق بدنگاہی:
اعصابی کمزوری،ذہنی انتشار،
بے چینی، اضطراب اور ڈپریشن،
حافظے کی کمزوری اور قلبی بے سکونی کا سبب بنتی ہے۔
علماءِ اخلاق کے نزدیک ہر معصیت دل و دماغ کو تاریک کر دیتی ہے، اور یہی تاریکی عبادت، کردار اور صحت کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
دورِ حاضر کا فتنہ: ڈیجیٹل بدنگاہی
آج بدنگاہی گلیوں اور بازاروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے اسے گھروں، کمروں بلکہ تنہائیوں تک پہنچا دیا ہے۔
اسی لیے قرآن نے فرمایا:«إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ…»(النور: 19)
ترجمہ: جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
بدنگاہی سے بچنے کی عملی تدابیر:
★ نگاہوں کو جھکانا-
★ اللہ کی حاضری کا احساس
«أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى» (العلق: 14)-
★ نماز کی پابندی
«إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ» (العنکبوت: 45)
★ نیک صحبت اور ذکرِ الٰہی-
★ فحش مواد اور اس کے اسباب سے مکمل اجتناب-
بدنگاہی سے بچنے کے فضائل:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:«مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ»(صحیح بخاری، حدیث: 6474)
ترجمہ: جو اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے، میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
الحاصل:بدنگاہی بظاہر ایک معمولی لغزش نظر آتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایمان، اخلاق، عبادت اور معاشرت کو کھوکھلا کرنے والا مہلک گناہ ہے۔
قرآن، سنت، اقوالِ سلف اور تجرباتِ اہلِ بصیرت۔۔۔سب اس بات پر متفق ہیں کہ نگاہوں کی حفاظت ہی عفت و پاکدامنی کی بنیاد ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نگاہوں کی حفاظت، دلوں کی پاکیزگی،
اور ظاہر و باطن کی تمام برائیوں سے محفوظ فرمائے۔
آمین بجاہِ النبیِّ الامین الکریم ﷺ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے