سادہ نکاح، مستحکم معاشرہ، بہتر مستقبل 

مسلم نوجوان اس واقعہ سے سبق حاصل کریں، قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات اٹھائیے۔

از۔ ذوالقرنین احمد

پربھنی کے انجینئر شیکھر مادھو شیجول (بی ٹیک، ایم بی اے) کی شادی کھرولا (تعلقہ رینپور، ضلع لاتور) کے دتہ مندر میں صرف 25 رشتہ داروں کی موجودگی میں انتہائی سادگی سے ہوئی۔

کوئی دکھاوا نہیں — کوئی ڈی جے، موسیقی کے آلات، جہیز، آہر، بینر بازی، کچھ بھی نہیں!

دونوں فریقین کے صلاح و مشورہ سے ایک قابل تقلید عمل سامنے آیا ہے کہ شادی میں فضول خرچی دھوم دھام،پٹاخے بازی ،روشنی ،پنڈال تحفہ تحائف کے لین دین سے پرہیز کرتے ہوئے دونوں طرف کے افراد کی سنجیدہ کوشش کی نتیجہ میں ایک دیہات کے اسکول میں کمپوٹر ہال کی تعمیر کے لیے 5 ،5 لاکھ روپیے عطیہ کیےگئے۔ یہ عمل ہماری قوم کے لیے قابل تقلید ہے یہ بات آج ہمارے سامنے آرہی ہے لیکن ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے ہمیں یہ سبق پہلے دیا ہے کہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، نکاح کو آسان کرو یہاں تک کی زنا مشکل ہوجائے دین اسلام ہمیں فضول کام کرنے سے روکتا ہے ہر وہ کام جس میں شر و فتنہ کا اندیشہ ہو اسے ترک کرنا کا حکم دیتا ہے ۔لیکن ہماری انانیت اور ضد نے نکاح جیسے مقدس عمل کو مشکل کردیا ہے اور معاشرہ میں زینا پھیلتا جارہا ہے ہمیں اس کی ذرا فکر نہیں ہے۔

شادی بیاہ میں دکھلاوے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر خرچ کرنے کے لیے قرضے لیے جارہے ہیں خواتین  بچت گٹوں سے پیسہ قرض لے کر اس کی ادائیگی اپنی عزت و عصمت کو مجروح کرکے چکا رہی ہیں لیکن دیوس مرد انہیں روکنے کے لیے تیار نہیں نا انکی غیرت جوش میں آتی ہے ۔ حرام کی کمائی اور حرام کھانے کی وجہ سے کوئی بھی غیر شرعی کام کرنے میں ذرا جھجک محسوس نہیں کرتے۔

آج ہمارے نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے دربدر ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر گھوم رہے ہیں ہر کوئی دو وقت کی روٹی کی انتظام میں بھٹک رہا ہے ،اور جو نوجوان ہنر مند ہے وہ فضول خرچیوں ،عیاشیوں اور اپنی دنیا میں ملوث ہیں نا انھیں اپنے کل کی فکر ہے نا آنے والی نسل کے مستقبل کی نہ اپنے اہل خانہ کے تحفظ کو لے کر سنجیدہ ہیں نا اپنے نسل کے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کی فکر ہے بقول علامہ اقبالؒ

ہر کوئی مستِ مئے ذوقِ تن آسانی ہے

 تم مسلماں ہو! یہ اندازِ مسلمانی ہے!

 حیدری فقر ہے نے دولتِ عثمانی ہے

 تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟

 وہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کر

 اور تم خوار ہوئے تارکِ قُرآں ہو کر

ہماری قوم کے پاس آپﷺ پر نازل ہوئی کتاب قرآن مجید کی صورت میں مکمل دستور حیات ہے لیکن ہم نے قرآن مجید کو پس پشت ڈال دیا ہے اور غیروں کے طریقوں کو اپنا کرذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ نا ہمارے پاس حضرت علی ؓ عنہ جیسا فکر ہے جو فکر کے باوجود طاقت و قوت، رعب و دبدبہ ،شجاعت و بہادری کے پیکر تھے اور دوسری طرف  حضرت عثمان غنیؓ عنہ جیسی دولت ہونے کے باوجود عاجزی و انکساری، حیا کے پیکر تھے۔ لیکن آج ہمیں اپنے اسلاف سے کوئی نسبت باقی نہیں رہی سارے طور طریقہ رسم رواج ہم نے غیروں کے اپنا لیے ہے رسم منگنی ہو یا شادی بیاہ ہر مواقع پر ہمارے سامنے صرف اپنی اور اپنے خاندان کی خوشی مقدم ہوتی ہے ایسی رسومات ہمارے معاشرہ میں داخل ہو چکی ہیں جس پر شرمندگی و افسوس ہوتا ہے رسم منگنی و شادی سے قبل ہلدی کی رسموں میں بے حیائی کا ننگا ناچ ہوتا ہے مرد و عورت کا اختلاط عام بات ہوچکی ہیں اتنا ہی نہیں ایک دوسرے پر انڈے پھینکیں جاتے ہیں غیر محرموں کے ہاتھوں دلہے کو ہلدی لگائی جاتی ہیں جس کا دین اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے اتنا ہی نہیں بلکہ اب یہ ٹرینڈ بن چکا ہے کہ ہیجڑوں کو خصوصی طور پر پیسہ دیں کر ناچنے گانے کے لیے مدعو کیا جارہا ہے اور گھر مرد اپنی عورتوں کے سامنے ان  ہجڑے کے ساتھ بے ہودہ حرکتیں کرتے ہوئے خوشی  سے ناچتے ہیں تھرکتے ہیں انھیں ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی ہے رات کے دو دو بجے تک ڈی جے اور بڑے بڑے اسپیکر میں بے ہودہ گانے بجائے جاتے ہیں جس سے پورے محلہ کا سکون برباد کیا جاتا ہے جس میں بوڑھے بزرگ مریض بھی ہوتے ہیں تو بچے بھی ہوتے ہیں اور نماز کے لیے صبح اٹھنے والے بھی ہوتے ہیں دن بھر کا تھکا ہوا مزدور بھی ہوتا ہے جس کی نیند حرام ہوجاتی ہیں لیکن بے شرموں کو ذرا بھی احساس نہیں ہوتا ہے۔

اب ذرا ہم آتے اصل مدعے کی طرف ہمیں ان غیر مسلموں سے سیکھنے کی نوبت آچکی ہے جو شرم کا مقام ہے یہ لوگ جو الگ الگ خداؤں میں بٹے ہوئے ہیں نا ان کے پاس کوئی زندگی کا صحیح دستور ہے نا نصاب ہے پھر بھی وہ اپنی قوم کے مستقبل کو لے کر انتہائی فکر مند ہے جبکہ ان کے مذہب میں زندگی گزارنے کے لیے کوئی خاص روک ٹوک نہیں ہے وہ دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں مرنےکے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا کوئی تصور ان کے پاس موجود نہیں ہے۔

ہمارے لیے کرنے کے کام کیا ہیں۔ 

*آج ہیں چاہیے کہ رسم و شادی کے پروگرام کو مختصر اور سنت طریقہ پر انجام دیں۔

*فضول خرچی اور بے حیائی کے کاموں پر پابندی عائد کی جائیں اور ایسی دعوتوں کا پروگرام کا محلے والے باوقار شخصیات علمائے کرام، ملی قائدین سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو ساتھ لے کر بائیکاٹ کیا جائے ۔

*شادی بیاہ میں فضول خرچی تحفہ تحائف کھانے کے بڑے بڑے پروگرام کو ختم کرکے صرف اہل خاندان یعنی دونوں فریقین کے میل جول رائے و مشورہ سے اپنے پیسوں کو لڑکے کو روزگار سے جوڑنے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے پر یا خاندان کے مجبور و بے بس یتیم لاچار کی یکمشت مدد کرتے ہوئے انہیں مستحکم کرنے کی فکر و کوششیں ہونی چاہیے۔

*اپنے علاقوں میں غریب یتیم، بے سہارا بچوں کے لیے دینی مکاتبِ  و مدارس اور اسکول کو قائم کرنے کا انتظام کیا جائے ۔

*خواتین و بچوں کے خصوصی امراض کے علاج کے لیے مختصراً فیس کے ساتھ ہسپتال کھولنے کے لیے مدد کرنی چاہیے اور وہاں ماہر لیڈی ڈاکٹرز اسٹاف کا انتظام کرنا چاھیے۔

*بچوں اور خواتین کی  اچھی صحت و تندرستی کے لیے اپنے علاقوں میں واکنگ ٹریک پارک کو قائم کرنا چاہیے جس میں سیلف ڈیفنس کی ٹریننگ کے لیے ماہرین کو مدعو کیا جائے

*بے روزگار نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے کے لیے روزگار سینٹر کا قیام کیا جائے

* نشے کی لت میں ملوث نوجوانوں کو نشے کی عادتوں سے بچانے لت چھڑانے کے لیے ری ہیبیلیشن سینٹر قائم کرنے چاہیے

* مرد و خواتین کے لیے الگ الگ جیم کھولنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

* بچوں کے لیے مشکل مضامین اور انگریزی  ریاضی سائنس کمپوٹر کی تعلیم کے لیے فری ٹیوشن یا مختصر فیس کے ساتھ ماہر ٹیچرس کو مدعو کرکے ٹیوشن کلاسس کا قیام عمل میں لایا جائے۔

* غیر شادی شدہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے پیام رشتہ سینٹر قائم کیے جائے

* نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے پری میرج و پوسٹ میرج کونسلنگ بیورو کا قیام عمل میں لایا جائے۔

* نوجوانوں کو چھوٹے چھوٹے روزگار شروع کرنے میں ہر طرح کی مدد کرنی چاہیے

* ہنر مند افراد کو ساتھ لے کر دسویں بارہویں جماعت کے بچوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق کوئی ایک ہنر سکھایا جائے۔

* خواتین کو گھر میں رہتے ہوئے آنلائن پلیٹ فارم پر اپنے ہاتھوں سے بنی ہوئی اشیاء کو فروخت کرنے کے طریقہ سکھائے جائے۔

 اس طرح کے بہت سارے فلاحی کام اپنے اپنے علاقوں میں نوجوانوں کو ساتھ لے کر حکمت عملی کے تحت منظم طریقے سے انجام دیے جا سکتے ہیں تاکہ ہمارا پیسہ فضول خرچ ہونے سے بچے اور اسکی تباہ کاریوں سے آنے والی نسل محفوظ رہے اور ہمارا پیسہ برباد ہونے سے بچے اور اسکا صحیح استعمال قوم و ملت کی ترقی اور خوشحالی بہتر مستقبل کیلئے کیا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے