ازقلم: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
نیت کی درستگی:
قربانی ایک عظیم اور مہتم بالشان عبادت ہے ، جس سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے ،ہر شرعی عمل کے قبول کیلئے اخلاص نیت کی شرط ہے تو قربانی کے لئے بھی اخلاص وللہیت بنیادی شرط ہے ، جیسا کہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا:
الأضحية عبادة وقربة إلى الله تعالى فلا تصح إلا بما يرضي الله من العبادات إلا ما جمع شرطين :أحدهما،الإخلاص لله تعالى ،بأن يخلص النية له ، فلا يقصد رياء ولا سمعة ولا جاها ، ولا عرضا من أعراض الدنيا ،ولا تقربا إلى مخلوق ، الثاني ، المتابعة لرسول الله صلى الله عليه وسلم
قربانی کرنا عبادت ہے اور اللہ سے قربت کا وسیلہ ہے یہ عبادت اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس میں اللہ کو راضی کرنے والی چیز نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اسی عبادت کو پسند کرتا ہے جس میں دوشرطیں پائی جائیں :
اخلاص: عبادت گزارا اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص کرے، کسی بھی قسم کے ریاد نمود، عہدہ و شہرت اور دنیوی کسی چیز کا طلب گار نہ ہو اور نہ ہی مخلوق میں قربت کی چاہ ہو۔
متابعت رسول ﷺ: عبادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس کے اندر آدم کے بیٹے کا جو قصہ ذکر کیا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
۞ وَٱتۡلُ عَلَیۡهِمۡ نَبَأَ ٱبۡنَیۡ ءَادَمَ بِٱلۡحَقِّ إِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانࣰا فَتُقُبِّلَ مِنۡ أَحَدِهِمَا وَلَمۡ یُتَقَبَّلۡ مِنَ ٱلۡـَٔاخَرِ قَالَ لَأَقۡتُلَنَّكَۖ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلۡمُتَّقِینَ﴾ [المائدة ٢٧]
آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کا کھرا کھرا حال بھی انہیں سنا دو ان دونوں نے ایک نذرانہ پیش کیا، ان میں سے ایک کی نذر قبول ہوگئی اور دوسرے کی مقبول نہ ہوئی تو کہنے لگا کہ میں تجھے مار ہی ڈالوں گا، اس نے کہا اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔گو تو میرے قتل کے لئے دست درازی کرے لیکن میں تیرے قتل کی طرف ہرگز اپنے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا، میں تو اللہ تعالیٰ پروردگار عالم سے خوف کھاتا ہوں،
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے ،اور دوزخیوں میں شامل ہوجائے ظالموں کا یہی بدلہ ہے۔
مذکورہ بالا واقعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جو انسان رب کی رضاء کیلئے اخلاص وللہیت و صدق قلب سے جانور کی قربانی دیتا ہے وہ اللہ کے لئے اپنی جان کی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرۓ گا ، جیسا کہ آدم کے بیٹے ہابیل نے اپنی جان کی قربانی دی ، آدم کے بیٹوں کے اس قصے کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو مخلص ہونا چاہیے ،اور اپنی اس عبادت میں(قربانی) حقیقی معنوں میں مخلص ہو، علامہ عبد الرحمن السعدی رحمہ اللہ نے اس آیت” لن ينال الله لحومها ولا دماؤها ولكن يناله التقوى منكم” كي تفسير وتشريح ميں لکھتے ہیں:
” ليس المقصود منها ذبحها فقط. ولا ينال الله من لحومها ولا دمائها شيء، لكونه الغني الحميد، وإنما يناله الإخلاص فيها، والاحتساب، والنية الصالحة، ولهذا قال: ﴿وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ﴾ ففي هذا حث وترغيب على الإخلاص في النحر، وأن يكون القصد وجه الله وحده، لا فخرا ولا رياء، ولا سمعة، ولا مجرد عادة، وهكذا سائر العبادات، إن لم يقترن بها الإخلاص وتقوى الله، كانت كالقشور الذي لا لب فيه، والجسد الذي لا روح فيه.”
تیسیر الكريم الرحمان في تفسير كلام المنان صفحة نمبر487 تا 488
یعنی ، قربانی دینے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ جانور ذبح کیا جائے اس لیے کہ اللہ کی ذات سرا پا بے نیاز ہے اس کو جانوروں کا گوشت پوست نہیں پہنچتا، بلکہ اسے تو محض قربانی کرنے والے کا اخلاص ، ثواب کی امید اور نیک نیت پہنچتی ہے مزید فرماتے ہیں کہ اس عمل میں ،قربانی میں اخلاص پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، یعنی قربانی کا واحد مقصد اللہ تعالی کی رضامندی اور خوشنودی ہو اس میں کسی قسم کا فخر و مباہات ، ریاء ونمود نہ ہو اور نہ ہی اس عمل کو عادۃ اوررسمی طور پر کیا جائے یہی حال ساری عبادتوں کا ہونا چاہیے، جن عبادات میں اخلاص اور اللہ کا تقوی ملحوظ خاطر نہ ہو وہ عبادتیں محض چھلکے کے مانند ہیں جس میں کوئی گودا ومغز نہ ہواور اس جسم کے مانند ہیں جسم میں روح نہ ہو، آیت مذکورہ کی شرح میں علامه شوکانی رحمه الله لكهتے ہیں:
أيْ لَنْ يَصْعَدَ إلَيْهِ ولا يَبْلُغَ رِضاهُ ولا يَقَعُ مَوْقِعَ القَبُولِ مِنهُ لُحُومُ هَذِهِ الإبِلِ الَّتِي تَتَصَدَّقُونَ بِها ولا دِماؤُها الَّتِي تَنْصَبُّ عِنْدَ نَحْرِها مِن حَيْثُ إنَّها لُحُومٌ ودِماءٌ ولَكِنْ يَنالُهُ أيْ يَبْلُغُ إلَيْهِ تَقْوى قُلُوبِكم، ويَصِلُ إلَيْهِ إخْلاصُكم لَهُ وإرادَتُكم بِذَلِكَ وجْهَهُ، فَإنَّ ذَلِكَ هو الَّذِي يَقْبَلُهُ اللَّهُ ويُجازِي عَلَيْهِ. [ فتح القدير: تفسير سورة الحج : ۳۷]
یعنی یہ کہ اللہ تعالی کے پاس تو صرف تمہارے دلوں کا تقوی واخلاص اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کی تمہاری چاہت پہنچتی ہے اور اسی چیز کو اللہ تعالی قبول کرتا ہے اور اسی پر اجر وثواب عطا فرماتا ہے۔
قرآن مجید کی سب سے چھوٹی سورت سورۃ الکوثر میں اللہ تعالیٰ نے دو بڑی اور عظیم عبادتوں کا حکم دیا ہے، اللہ کا فرمان ہے:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ أَيْ: كَمَا أَعْطَيْنَاكَ الْخَيْرَ الْكَثِيرَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ومن ذلك النهرُ الَّذِي تَقَدَّمَ صِفَتُهُ -فَأَخْلِصْ لِرَبِّكَ صَلَاتَكَ الْمَكْتُوبَةَ وَالنَّافِلَةَ ونَحْرَك، فَاعْبُدْهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَانْحَرْ عَلَى اسْمِهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ. (تفسيرابن كثير:سورة الكوثر)
يعني ، تم اپنی قرض وافضل نمازیں اور اپنی قربانی اپنے رب کے لیے خالص کرواسی اکیلے کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں صرف اسی کے نام پر جانور ذبح کرو جس کا کوئی ساتھی نہیں ہے، علماء کرام نے ان دونوں عبادتوں کو سب سے افضل قرار دیا ہے ،
محترم قارئین : نیت کی درستگی،دل کی صفائی ،طہارت قلب و للہٰیت درحقیقت نفس امّارہ کى بدعنوانیوں، عمل میں در آئے ابلیسی وسوسوں نیز دنیوی اغراض وشوائب اور نفسانی خواہشات ومفادات سے دل کویکسر خالى رکھنے کا نام ہے۔ لیکن یہ بڑی کٹھن، صبر آزما کام ہے۔ بڑى ریاضت اور مجاہَدوں کے بعد ہى یہ بیش بہا دولت ہاتھ آسکتى ہے۔ کسى عمل کو انجام دیتے وقت رضائے الہى کا استحضار اور دل کو ریا ونمود سے خالى اور اخلاص سے لبریز رکھنا یہ محض اللہ کی توفیق ہی سے ممکن ہے ،سفیان ثورى رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ((ما عالجتُ شيئًا أشدّعَليَّ من نيتي؛ أنها تَقَلّبُ علي))- یعنی مجھے اپنی نیت کے سلسلے میں جو مشقت اٹھانی پڑی وہ کسی اور چیز میں نہیں کیونکہ یہ پلٹ جایا کرتی ہے۔ (الجامع لأخلاق الراوی 2/317)
اسى طرح بعض سلف کا کہنا ہے کہ: ((تخليصُ النية من فسادها أشدُّ على العاملين من طول الاجتهاد))؛ يعنی نیت کو خراب ہونے سے بچانا عمل کرنے والوں کے لئے عمل کى طویل محنت ومشقت سے زیادہ شاق اور دشوار ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے کسى نے پوچھا کہ عمل میں نیت کس طرح ہو؟ تو انہوں فرمایا: ((يُعالِجُ نفسَه؛ إذا أراد عملاً، لا يريد به الناس)) یعنی بندہ اپنے نفس پر غالب آنے کى کوشش کرے چناچہ جب وہ کسى کام کا ارادہ کرے تو اسے لوگوں کے لئے نہ کرے۔
ہمارے اسلاف ریا ونمائش ،دکھاوا اور واہ واہی لوٹنے سے کوسوں دور رہتے تھے ،نہ انہیں شہرت ،وجھوٹی پبلیسٹی کی خواہش تھی اور نہ وہ کسی کے مدح سرائی کو پسند کرتے تھے بلکہ وہ جو کرتے صرف اور صرف اللہ کے لئے کرتے تھے ،لیکن آج المیہ یہ ہے کہ چھوٹی سی کوئی خدمت بھی ہزاروں لائکس و کمنٹس کے منتظر ہوا کرتی ہے ، سچ کہا کسی شاعر نے:
بہت ہی کم نظر آیا مجھے اخلاص لوگوں میں
یہ دولت بٹ گئی شاید بہت ہی خاص لوگوں میں
متابعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، نیت چاہے کتنی اچھی ہو لیکن متابعت رسول نہ ہو ،منہج واسوۂ رسول کے مطابق وہ عمل نہ ہوتو وہ عمل مردود وغیر مقبول ہے۔
قربانی کے جانور کے ذبح کےشرائط:
1 ۔ ذبح کرنےوالا عاقل ممیّزہو، لہذا مجنون ،پاگل، نشےکی حالت میں اورایسابچہ جوحالت تمییزکونہ پہونچا ہو(تميزکامطلب یہ ہے کہ جو قرآنی خطاب واحکام کو سمجھتا ہوں اور پوچھنے پر درست جواب دیتا ہو) کا ذبح کیاہوا جائز نہیں ہے۔
2 ۔ ذبح کرنےوالامسلمان (مرد، عورت، عادل، فاسق،طاہر، غیرطاہر سب کو شامل ہے)یا کتابی (یہودونصاری میں سے)ہو۔
3 – ذبح کی نیّت ہو۔
4 ۔ ذبح غیراللہ کےلیےنہ ہو،مثلا صنم ووثن کیلئے یا کسی مزار پہ ذبح کرۓ پیر کیلئے یا کسی رئیس ووزیر وبادشاہ کے نام پر ذبح کرۓ اگرچہ کہ بسم اللہ پڑھ کر ہی ذبح کیا گیا ہو ، حرام ہے، کیونکہ غیراللہ کےنام پرذبح کیاگیاجانور قطعًاحرام ہے۔
5 ۔ ذبح کےوقت غیراللہ کانام نہ لیاگیاہو، جیسے:باسم النبی یا باسم جبریل وباسم الحزب الفلانی ۔۔۔ وغیرہ۔
6 ۔ ذبح اللہ کےنام سےکیاگیاہو یعنی بسم اللہ کہ کرکیاگیاہو۔
7۔ جب جانور کو مذبح کی جانب لے جائے تو آرام سے لے جائے اور جانور کو کھینچ کر ، مار پیٹ کر کے نہ لے جائے ۔ جانوروں کے ساتھ احسان کا یہ لازمی تقاضہ ہے۔
8۔ ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کیا جائے ، تا کہ جانور نفسیاتی طور پر متاثر نہ ہوں۔
9۔ کسی دھاردارآلہ سےذبح کیاگیاہو(ہڈی، ناخن اوردانت ،پتھر ،لکڑی شیشہ وغیرہ سے سےذبح کرناجائزنہیں ہے،ارافع بن خدیج رضی للہ عنہ کی حدیث ہے کہ ،رسول صلی اللہ علیہ وسلمنےارشادفرمایا:”
ما أنْهَرَ الدَّمَ وذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عليه، فَكُلْ، ليسَ السِّنَّ والظُّفُرَ، وسَأُخْبِرُكُمْ عنْه: أمّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وأَمّا الظُّفُرُ فَمُدى الحَبَشَةِ. (رواه البخاري 5498)
” جودھاردارآلہ خون بہادےاوراسے بسم اللہ کرکےذبح کیا گیاہوتواسےکھاؤ، ہاں اگرناخن اوردانت سےذبح کیاگیا ہےتومت کھاؤ کیونکہ ناخن حبشیوں کی چھری ہے اوردانت ہڈی ہے ”
10۔ ذبح کرنے پراس کاخون بہاہو, (يعني إنهار الدم وإجراؤه)
11۔ ذبح کرنے والےکوذبح کرنےکاشرعی اختیارحاصل ہو، (أن يكون المذكي مأذونا في ذكاته شرعا )جن جانورں میں انسان کوشرعی اختیارحاصل نہیں وہ دوطرح کےہیں:
پہلا: جوجانوراللہ کاحق ہو،جیسے:حرم کاشکاریا حالت احرام میں(حدود حرم ) شکارکیا گیا،
دوسرا: جومخلوق کاحق ہو، يعني ذبح كرنے والے اس کا اصلی مالک نہ ہو ، جیسے:غصب کیاہوایا چوری کیاہواوغیرہ۔
بحوالة ،أحكام الأضحية والذكاة للشيخ ابن عثيمين ، صفحہ نمبر 259 تا 2720
ذبح کےآداب:
1 ذبیحہ پر احسان کرنا ،یعنی ذبح سےپہلےچھری کواچھی طرح سےتیزکرلیناچاہئےتاکہ جانورکوذبح کرنے میں کسی پریشانی کاسامنانہ کرناپڑےاورجانورکوبھی آرام ملے، شداد ابن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"إن اللّٰه كتب الإحسان على كل شئي،فإذاقتلتم فأحسنوا القتلة, وإذاذبحتم فأحسنواالذبحة,وليحدأحدكم شفرته وليرح ذبيحته”
(رواہ مسلم:الصید والذبائح /11(5/1955))
” اللہ تعالی نےہرچیزپراحسان کوواجب کررکھاہے، لہذاجب تم کسی کو قتل کروتواچھی طرح سے قتل کرواورذبح کروتواچھی طرح سےذبح کرو تم کو اپنی چاقو تیز کر لینی چاہئے اور ذبیحہ کوآرام پہونچاناچاہئے ”
شيخ الإسلام علامه ابن تيميه رحمه الله نے فرمایا کہ ” في هذا الحديث أن الإحسان واجب على كل حال حتي في إزهاق النفوس ناطقيها وبهيمها ،فعليه أن يحسن القتلة لآدميين والذبحة للبهائم ، أحكام الأضحية والذكاة 2/283،
2– جس چاقو سے جانور کو ذبح کرنا ہو اسے اس کے سامنے تیز نہ کیاجائے، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ایک بکری کو پچھاڑنے کے بعد اپنی چھری تیزکرنےلگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:” أتريد أن تميتها موتات ؟ هلا أحددت شفرتك قبل أن تضجعها؟ "(المصنف(4/393)المستدرک(4/257)سنن البیہقی (9/280)شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے دیکھیے:السلسلۃ الصحیحۃ (1/32))
” تم اس کو کئی موتیں دیناچاہتےہو، اپنی چھری کواسےلٹانےسےپہلےکیوں نہیں تیزکرلیا ؟ ”
3 ۔ جانورکوذبج کرنےکی جگہ پرآرام سےلےجایاجائے۔امام أحمد رحمه الله نے فرمایا ” تقاد إلى الذبح قودا رفيقا ،وتوارى السكين عنها ، ولا يظهر السكين إلا عند الذبح۔ أحكام الأضحية والذكاة 2/285،
4 ۔ جانورکو بائیں پہلو پر قبلہ رخ کرکے لٹاناچاہئے۔
5 ۔ اونٹ کے بائیں ٹخنے کوباندھ کراسےتیں پیروں پرکھڑاکرکےنحرکرنا سنّت ہے۔
6 – اپنادایاں پاؤں جانورکےدائیں مونڈھےپررکھ کربائیں ہاتھ سےاس کامنہ پکڑلےاورپھردائیں ہاتھ سےذبح کرے۔
7 ۔ اپنےہاتھ سےذبح کرے۔
قربانی کی چند بدعات ورسوم، وغیرمشروع اعمال:
قربانی کےتعلق سےعوام الناس میں بہت ساری غلط رسمیں اوربدعات رائج ہیں، جوہماری عبادتوں کوناقابل قبول اورمردود بنادیتی ہیں، اورنہ صرف یہ کہ یہ عبادتیں غلط ہوجاتی ہیں بلکہ الٹاسبب گناہ بن جاتی ہیں، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهورد "(رواہ البخاری بخاري:البيوع /60(4/448) )
"جوکوئی ہمارےاس دین میں کوئی نئی چیزنکالےجواس میں سےنہ ہو تووہ مردودہے” اورفرمايا:” من أحدث في أمرناهذا ماليس منه فهورد”(رواہ البخاری :الصلح /6 (5/370)ومسلم:الأقضية /8(1718/17))
"جوکوئی ایساعمل کرےجوہمارےدین سےبیگانہ عمل ہوتووہ قبول نہ ہوگا” اورفرمايا:” إياكم ومحدثات الأمورفإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار "(ابو داؤد:السنة /6 رقم (4607)والترمذي:العلم /16 (2678)وابن ماجة:المقدمة /6(42)شیخ البانی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے، دیکھیے:صحیح سنن الترمذی (2157))
” (دین میں)نئی چیزایجادکرنے سےبچو کیوں کہ (دین میں) ہرایجادکی گئی نئی چیزبدعت ہےاورہربدعت گمراہی ہےاورہرگمراہی جہنم میں لے جانےوالی ہے”
ذیل میں ہم قربانی کےتعلق سےرائج چندبدعات کاتذکرہ کرتےہیں تاکہ ہم ان سےواقف ہوکراوران سےبچ کراپنےایمان و عمل کودرست کرلیں اللہ تعالی ہمیں خالص سنت کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائےآمین۔
1 – جانوروں کی نمائش:آج کل جانوروں کی نمائش، ایک دوسرے سے مقابلہ، جانوروں کومہندی لگانااورانہیں سجاناسنوارنامسلم معاشرہ میں ایک عام بات ہوچکی ہے جوکہ اخلاص وللہیت اورمقصد قربانی کے یکسرمنافی ہے، موٹے، تروتازہ اورتندرست جانورکاانتخاب ایک مستحب عمل ہے لیکن ان کی نمائش وتزئین کتاب وسنت اورآثارصحابہ سےثابت نہیں، بلکہ دیکھاجائےتویہ چیزخاص طورسےبرصغیرمیں ہندورسم ورواج سےمتأثر عمل ہےجوکہ وہ جانوروں کی بلی کےوقت کرتےہیں(نعوذباللّٰه من ذلک )
2 ۔ ذبح کےوقت جانورکےپیٹھ وسرکوتیل لگانا اور چھونا،
۔3 – ذبح سے پہلے جانورکووضوء کرانا
۔4 ۔ ذبح سےپہلےجانورکوغسل دینا۔
5۔ ذبح سےپہلےجانورکوکچھ کھلانا،پلانا ،
6 – نبی أكرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سےقربانی کرنا جس کاکتاب وسنت سے کوئی ثبوت نہیں ہے، اگراس کاکوئی ثبوت ہوتاتودرودوسلام کے فضائل کی طرح اس کابھی بیان نصوصِ قرآن وسنت میں ضرورہوتا۔
7۔ قربانی سےپہلےجانورکوکسی قبریامزارکاطواف کرانا، یہ سب سے بدترین بدعتوں میں سےایک ہے،
8۔ قربانی کی جگہ کی خوب تزئین اور اسے قابل تبرّک سمجھنا۔
9۔ بعض لوگ میت کےپہلےسال میں جس میں وہ مراہےاس کی طرف سےقربانی اس اعتقادکےساتھ کرتےہیں کہ اس کےثواب میں کسی کی شرکت جائز نہیں ہے، ایسی قربانی کویہ لوگ (أضحية الحفرة)کانام دیتےہیں۔
10 ۔ عید کی رات میں اور ذبح سے کچھ دیر قبل اس کے سرسےلیکردم تک چھونا۔
11۔ اس کاخون گھر کے دروازے اور سواریوں پر لگانا۔
12 – اس کاخون چھوٹےبچوں کی پیشانی پرلگانا۔
13 ۔ قربانی کرتے وقت درودپڑھنا، کیوں کہ اس کاثبوت نہیں ہے اور تعبدللہ کےاندربغیرثبوت کےعمل بدعت ہے۔
14۔ کسی قبریا مزار کے پاس ذبح کرنا، یہ شرک اکبرکےدرجہ میں آتاہے اگر ایسا کوئی ذبیحہ ہے تو اس کاکھانا قطعًا حرام ہے، اسی طرح قبر یا مزار پر رکھی ہوئی کسی بھی چیزکا استعمال حرام ہے،
۔15 ۔قربانی کا جانور کسی امام یا بزرگ یا مولوی صاحب سے ذبح کروانا ، اور اگر وہ معذرت کرۓ یا کسی وجہ سے نہ آۓ تو چھری میں ان سے دعاء پڑھکر پھونک دلوانا ،
16۔ ذبح کرنےوالےمولوی کوضروری یا اس کاحق سمجھ کرقربانی کے جانور کاسر اور پیر یا ان کی قیمت دینا(البتہ اگراس کو قربانی کامشروع و مسنون ہدیہ یاصدقہ کے بطور بلا کسی عضو کی تخصیص کے دیاجائے تویہ مستحب ومسنون ہے )،
17۔ قربانی کے جانور کے ذبح وغیرہ کی قیمت قربانی کے گوشت سے دینا ،یعنی قصائی کو اجرت قربانی کے گوشت سے دینا ،
18۔ قربانی کے جانور کے ذبح کے بعد فضلات کو نہ ہٹانا اور گندگیوں کوصحیح سے صاف نہ کرنا ،
19۔ قربانی کے جانور کو ذبح کرنے اور اس کے گوشت وغیرہ کو کھانے و پکانے ،کباب وقیمہ بنانے کے چکر میں فرائض کا ترک کردینا ، یا اس میں اس طرح مشغول ہوجانا کہ نماز مسبوق ہوجائے ،وغیرہ وغیرہ۔
