محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
ڈرامہ کا تجزیہ
پنڈت صابر عالمؔ، ورنگل
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری صاحب کا یہ ڈرامہ ”آرڈر کینسل” معاشرتی زندگی کی ایک نہایت اہم اور حساس حقیقت کو سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ ڈرامے کی سب سے نمایاں خوبی اس کا حقیقت پسندانہ اسلوب ہے۔ خاص طور پر مکالموں میں سادگی کے ساتھ گہرائی پائی جاتی ہے، جو پیغام کو براہِ راست دل تک پہنچاتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ ڈرامہ ایک بامقصد، فکری اور اصلاحی تخلیق ہے جو نہ صرف ادبِ ڈرامہ میں اضافہ کرتی ہے بلکہ سماج کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ ایسے ڈرامے معاشرے میں شعور بیدار کرنے اور مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس ڈرامے کا بنیادی مقصد انسانی زندگی اور معاشرتی نظام کی اُن پوشیدہ کمزوریوں کو نمایاں کرنا ہے جو بظاہر معمولی نظر آتی ہیں مگر آہستہ آہستہ پوری انسانی دنیا کو متاثر کر دیتی ہیں۔
یہ ڈرامہ مجموعی طور پر ایک اصلاحی، فکری اور تربیتی محسوس ہوتا ہے جو قاری کو روزمرہ زندگی کے اخلاقی، سماجی اور دینی پہلوؤں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس میں اسلوب سادہ مگر مؤثر ہے، جس کی وجہ سے بات عام قاری تک بھی بآسانی پہنچتی ہے۔ ڈرامہ میں جس اصطلاح
’’چائلڈ ڈش/نابالغ لڑکیوں کا گوشت ‘‘کا ذکر کیا گیاہے، یہ دراصل حقیقی گوشت یا خوراک کے معنی میں نہیں بلکہ ایک انتہائی گھناؤنی، غیر انسانی اور مجرمانہ سوچ کی نمائندگی کرنے والی استعاراتی اور علامتی تعبیر ہے۔ ’’چائلڈ ڈش‘‘ جیسی اصطلاح سننے میں جتنی ہولناک ہے، اس کے پیچھے چھپی حقیقت اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ یہ لفظ کسی کھانے کی طرف اشارہ نہیں کرتا، بلکہ اس ذہنیت کی علامت ہے جس میں نابالغ بچیوں کو انسان نہیں، استعمال کی چیز سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں معاشرہ اخلاقی دیوالیہ پن کے آخری درجے کو چھو لیتا ہے۔ یہ المیہ اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ یہ خاموشی، لاپروائی اور بے حسی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ جب گھر میں تربیت کمزور پڑ جائے، جب مدرسہ و اسکول کردار سازی کے بجائے صرف ڈگری دے، جب میڈیا سنسنی کو سچ پر ترجیح دے، اور جب انصاف طاقتور کے سامنے جھک جائے، تو پھر بچے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، اور بچیاں سب سے پہلے نشانہ بنتی ہیں۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ایسے جرائم صرف اندھیرے گوشوں میں نہیں ہوتے؛ اکثر مہذب چہروں، معزز عہدوں اور مذہبی نعروں کے سائے میں پلتے ہیں۔ مجرم تب مضبوط ہوتا ہے جب معاشرہ سوال کرنا چھوڑ دے، جب متاثرہ کو بدنامی کے خوف سے خاموش کرا دیا جائے، اور جب ’’عزت‘‘ کا بوجھ سچ پر ڈال دیا جائے۔ یہ اصطلاح ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ جسمانی استحصال سے پہلے فکری استحصال ہوتا ہے۔ جب اشتہارات، ڈرامے اور ڈیجیٹل مواد میں بچپن کو بالغ نظروں سے دکھایا جائے، جب معصومیت کو مارکیٹ کی چیز بنایا جائے تو راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ پھر جرم صرف فرد نہیں کرتا، پورا نظام اس میں شریک ہو جاتا ہے۔
سماجی ذمہ داری یہ ہے کہ: خاموشی کو توڑا جائے متاثرہ کے ساتھ کھڑا ہوا جائے، نہ کہ اس سے سوال کیا جائے قانون کو حرکت میں لایا جائے اور مثال قائم کی جائے گھروں میں احترامِ انسانیت اور حدود کی تعلیم دی جائے اور سب سے بڑھ کر، بچوں کو سننے اور محفوظ محسوس کرنے کا حق دیا جائے۔
”چائلڈ ڈش” دراصل ایک آئینہ ہے، اگر اس میں ہمیں اپنی صورت بدصورت نظر آئے تو آئینہ توڑنے کے بجائے اپنے چہرے کو درست کرنا ہوگاکیونکہ جس معاشرے میں بچے محفوظ نہ ہوں، وہ ترقی یافتہ نہیں، صرف چمکتا ہوا کھنڈر ہوتا ہے۔ ’’چائلڈ ڈش‘‘ جیسی اصطلاح ہمیں چونکانے کے لیے کافی ہے، کیونکہ یہ اس ذہنیت کا نام ہے جس میں نابالغ بچیوں کو انسان نہیں، شے سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ کوئی لفظی کھیل نہیں، بلکہ انسانیت کے زوال کا اعلان ہے۔ یاد رکھیے! جرم وہاں نہیں بڑھتا جہاں اندھیرا ہو، جرم وہاں بڑھتا ہے جہاں خاموشی ہو۔ جب ہم سوال نہیں کرتے، جب ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے، جب ہم بدنامی کے خوف سے سچ دبا دیتے ہیں، تو ہم سب اس ظلم کے شریک بن جاتے ہیں۔
بچوں کی حفاظت صرف قانون کا کام نہیں، یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ گھر میں تربیت، معاشرے میں نگرانی، اور نظام میں انصاف، یہ تینوں مل کر ہی معصومیت کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے: یا تو ہم خاموش رہیں اور تاریخ میں مجرموں کے ساتھ گنے جائیں،یا بولیں،
کھڑے ہوں، اور اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل بنائیں۔ کیونکہ جس معاشرے میں بچے محفوظ نہ ہوں، وہ معاشرہ زندہ نہیں، صرف سانس لے رہا ہوتا ہے۔ ڈرامہ نویس کے لیے دعاگو ہوں کہ”اللہ کرے زور قلم اور زیادہ”۔ آمین یا رب العالمین۔
ڈرامہ کاآغاز
(ایک بڑی سی عمارت ہے ، کوئی پیلیس ہے ، سامنے ایک سڑک ہے ۔ جس پر سے لوگ پیدل آجارہے ہیں، ٹووہیلر ، فوروہیلرگاڑیاں منع ہیں، کابورڈ ایک جانب آویزاں ہے ۔اسی عمارت کے سامنے ایک ہوٹل نظر آرہی ہے ، جس میں دولوگ داخل ہوتے ہیں، دونوں حلیہ سے مسلمان لگ رہے ہیں )
پہلا شخص:۔ سنا ہے یہ ہوٹل قدیم ہے ۔
دوسرا شخص:۔ ہاں بہت ہی قدیم ہوٹل ہے ۔یہاں سرو کئے جانے والے کھانوں میں مصری اور یونانی تہذیب کاخیال رکھاجاتاہے ۔
پہلا شخص (تعجب سے ) :۔ اچھا ، وہ کس طرح ؟
(دونوں کودربان روک لیتاہے۔ دوسراشخص اس سے کچھ کہتاہے ۔ پھران دونوں کو ہوٹل میں داخلے کی اجازت مل جاتی ہے ، اندرداخل ہوکر دونوں ایک میزکے گرد بیٹھ جاتے ہیں)
پہلا شخص (ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے ):۔ یہاں تو گاہک ہی نہیں ہیں ۔
دوسرا شخص:۔ ہرکسی کو اس ہوٹل میں داخلہ نہیں ملتا۔ مجھے اور تمہیں بھی ایک بڑے آدمی کے توسط سے داخلہ ملاہے۔رات گاہک زیادہ ہوتے ہیں۔
پہلاشخص (حیرت کااظہا رکرتے ہوئے ):۔ اچھاتو یہ بات ہے (اس کو کچھ اور یاد آتاہے) تم نے بتایانہیں کہ یہاں مصری اور یونانی تہذیب کے کھانے کس طرح کھلائے جاتے ہیں۔ کیاوہاں کے گوشت کی سربراہی راست طورپر عمل میں آتی ہے۔
دوسرا آدمی :۔ میں یہاں دوسری دفعہ آرہاہوں ۔ اس سے پہلے ایک امریکی بزنس مین کے ساتھ آیاتھابلکہ وہی مجھے لے آیاتھا۔ مجھے زیادہ نہیں معلوم کہ یہاںکے کھانوںکاکیامعاملہ ہے۔ البتہ لوگوں میںمشہور یہی ہے کہ مصری اور یونانی تہذیب کے کھانے یہاں ملتے ہیںاور انتہائی مہنگے داموں پر ۔
(پہلا شخص کچھ پوچھنے والا ہوتاہے کہ باوردی ویٹر ان کے پاس پہنچ کر آرڈر طلب کرتاہے )
ویٹر:۔ سر کیا آرڈر ہے ۔ ولیم رچرڈ سر(بڑا آدمی) کاپیغام ہے کہ آپ کی خاطر تواضع عمدہ کھانوں سے کی جائے ۔اب آپ بتائیں کہ کیاکھانا پسند کریں گے ۔
دوسرا شخص:۔ (پہلے شخص کی طرف انگلی دِکھاتے ہوئے ) یہ صاحب شاہ رخ خان کے ملک انڈیا سے آئے ہیں ۔
ویٹر:۔(پہلے شخص سے) گڈآفٹر نون سر، ویلکم
پہلا شخص:۔ گڈآفٹر نون، ہاؤ آریو
ویٹر:۔ آئی ایم فائن ۔ آرڈر پلیز سر
دوسرا شخص:۔ ان کو آج کی اسپیشل مصری ڈش کھلائیے اور مجھے آج کی امریکن ڈش
ویٹر:۔ اوکے ، تھینکس سر (ویٹر الٹے قدموں چلاجاتاہے )
پہلا شخص:۔ یار ، ویٹر کو دیکھ کر ایسا لگتاہے ، کوئی منسٹر ہے جو ہماری خاطر داری کے لئے کھڑا ہے ۔
دوسراشخص:۔ یہاں ویٹر بننے کے لئے اعلیٰ تعلیم ضروری ہے ۔ یہ لوگ شیف والی انتہائی اعلیٰ تعلیم سے بھی لیس ہوتے ہیں ۔ ولیم رچرڈ وہی بڑا آدمی ہے جس کے توسط سے ہم دونوں کواس ہوٹل میں داخلہ مل سکاہے۔
پہلا شخص:۔ اچھا یہ بتاؤ، تم نے اپنے بارے میں کیوں نہیں کہاکہ میں بھی شاہ رخ خان کے ملک سے ہوں ۔
دوسراشخص (ہنستے ہوئے) :۔ وہ میں تمہیں پھر بتاؤں گا۔
پہلا شخص:۔ کچھ چھپارہے ہو؟
(اسی درمیان سڑک پر پولیس کی گاڑیاں جمع ہونے لگتی ہیں۔ جس سڑک پر ٹووہیلر اور فور وہیلر منع ہیں وہاں پولیس کی گاڑیاں ؟۔ دونوںواقعہ کی تفتیش کے لئے ہوٹل سے باہر نکل آتے ہیں۔ کیادیکھتے ہیں کہ ہارن بج رہے ہیں ۔ اورلوگ بھی آہستہ آہستہ جمع ہورہے ہیں۔ اسی درمیان پتہ چلتاہے کہ کوئی آدمی تین نابالغ لڑکیوں کے ساتھ گرفتار کرلیاگیاہے ۔ آخرکار دونوں ہوٹل میں چلے آتے ہیں ۔ دربان انہیں سلیوٹ کرکے اندر جانے کے لئے راستہ دے دیتاہے )
پہلا شخص:۔ یہ سب کیاتھا ، نابالغ لڑکیوں کی اسمگلنگ کامطلب کیا ہے؟
دوسرا شخص:۔ یہاں نابالغ لڑکیوں کی اسمگلنگ پر 20سال کی سزا ہے۔یہ نابالغ لڑکیاں دولت مندوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ دولت مند ان سے ہروہ غلط کام کرتے ہیں جن سے انسانیت شرماجائے ۔
پہلا شخص (دوسرے شخص کے کان کے قریب منہ لے جاتے ہوئے ):۔ سنا ہے کہ یہ ان نابالغ لڑکیوں کو ذبح کرکے کھابھی جاتے ہیں ۔
دوسر اشخص (ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے ):۔ میں نے بھی سنا ہے مگر ہم کوئی دوسرے موضوع پر بات کریں گے ۔اس طرح کھلے عام بات کرنا درست نہیں۔ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں یہ توہوٹل ہے ۔
پہلا شخص (چوکنا ہوتے ہوئے بلکہ خوف زدہ ہوتے ہوئے):۔ کوئی بات نہیں، کوئی بات نہیں ۔
(پردہ گرتاہے )
دوسرا منظر
(وہی ہوٹل کا منظر ہے ۔ ساری کرسیاں خالی ہیں۔ وہی دو گاہک اپنے آرڈر کی تکمیل کا انتظا رکررہے ہیں۔ اتنے میں باوردی پولیس کے تین جوان اسی ہوٹل میں داخل ہوتے ہیں۔ اور ان دوگاہکوں کے قریب پہنچ کر ان سے پوچھتے ہیں )
پولیس مین :۔ کہاں سے ہو ؟ ( پولیس کو دیکھ کرپہلے شخص کے چہرے پر ہوائیاں اڑرہی ہیں)
دوسراشخص:۔ ہم دونوں انڈیا سے ہیں
پولیس مین :۔ اس ہوٹل میں کیاکررہے ہو؟
دوسراشخص :۔ لنچ کے لئے آئے ہیں
پولیس مین :۔ کونسی ڈش کاآرڈر دیاہے
دوسراشخص :۔(پہلے شخص کی طرف انگلی دکھاتے ہوئے ) مصری ڈش میرے اس دوست کے لئے ، امریکن ڈش میرے لئے
پولیس مین :۔ کوئی اورخاص ڈش ؟چائلڈ ڈش وغیرہ
(دوسرے شخص کے چہرے پر وحشت نظر آتی ہے ۔وہ کہتاہے )
دوسرا شخص :۔ سر، میں کوئی سافٹ ویر بزنس ٹائیکون، یاکسی شاہی خاندان سے نہیں ہوں اور نہ ہی صدر امریکہ ہوں کہ چائلڈ ڈش کھاسکوں (پھر کھنکار کرکہتاہے )
اس ہوٹل میں دوسری دفعہ آناہواہے ۔اگر میرا دوست 12سال بعد مجھ سے نہ ملتاتو میں اس ہوٹل کو ہر گز نہ آتا۔ملاقات کو سلیبریٹ کرنے میں اپنے دوست کو یہاں لے آیاہوں
(پولیس مین سرہلاتاہے جیسے اس کے جوابات سے مطمئن ہو۔ پھر اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ واپس چلاجاتاہے )
پہلا شخص (گھبرائے ہوئے لہجے میں):۔ یہ انکوائری کیاتھی ساجد بھائی ؟
دوسراشخص :۔ ہمیں جلدی سے یہاں سے نکلناہوگا ابراھیم۔ مجھے لگتاہے ، ہم غلط ہوٹل میں آگئے ہیں۔ چائلڈ ڈش کا تعلق نابالغ لڑکیوں کی ڈش سے ہے ۔ اورابھی جو تین لڑکیوں کے ساتھ گرفتاری ہوئی ہے تو ضرور بہ ضرور یہ ہوٹل چائلڈ ڈش کا مرکز ہی ہوگا ، پولیس کی نگاہ میں۔
پہلاشخص :۔ ہم اپنا آرڈر کینسل کرتے ہیں۔ دوسری ہوٹل چلتے ہیں۔ اگر میں یہاں کھانا کھابھی لوں تو مجھے لگے گا کہ میں ایک غلط ہوٹل میں بیٹھ کر کھانا کھاتا رہا۔ اور ہوسکتاہے مجھے کھانے کے بعد الٹی ہوجائے۔ یار ’’چائلڈ ڈش‘‘ یہ امریکیوں کوآخر ہوکیاگیاہے ؟
(دوسرے شخص (ساجد بھائی ) کو آرڈرکینسل کرنے کاابراھیم کا آئیڈیا پسند آتاہے ۔ دونوں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ پردہ گرتاہے )

