راج شیکھرپاٹل اشٹور 

ابلاغ اور ذرائعِ نقل و حمل کے شعبوں میں تیز رفتار ترقی کے باعث دنیا دن بہ دن سمٹتی جا رہی ہے۔ آج کوئی بھی خبر لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے، جسے آج کل بریکنگ نیوز کہا جاتا ہے۔ انسان اب چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر کر سکتا ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ خبروں کی صداقت کے حوالے سے ابہام اور الجھن بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ابلاغ کے بے شمار ذرائع، خصوصاً سوشل میڈیا کے بے جا استعمال کے سبب ہر مسئلے پر دعوے اور جوابی دعوے سامنے آتے ہیں، جس سے شکوک و شبہات اور عدم اعتماد کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ پاپ ناش مندر کی ترقی کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ ضلع کی ڈپٹی کمشنر نے درست طور پر یہ وضاحت جاری کی ہے کہ اس مندر کا افتتاح سنہ 2024 میں وزیر اعظم کے ہاتھوں آن لائن (ورچوئل) طور پر ہو چکا تھا، اور اب سنہ 2026 میں ضلع کے انچارج وزیر کی جانب سے کام کے آغاز (گرین سگنل) کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اس نوعیت کا پیچیدہ معاملہ سامنے آیا ہو۔ ماضی میں بیدر-گلبرگہ ریلوے لائن پر ٹرین سروس کا افتتاح اُس وقت کے وزیر ریلوے ملکارجن کھرگے نے ہمن آباد میں پل اینڈ پش کے ذریعے کیا تھا، بعد ازاں بیدر ریلوے اسٹیشن پر ایک اور تقریب منعقد ہوئی اور اس ٹرین کو وزیر اعظم کے ہاتھوں باضابطہ طور پر بیدر-گلبرگہ ٹرین کے نام سے منسوب کیا گیا۔کسی بھی عوامی نمائندے کی جانب سے ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ لینا کوئی غلط بات نہیں، لیکن بدقسمتی سے آج ہم ہر معاملے میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست دیکھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عوامی مفاد کے کام متاثر ہو رہے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے نظریات اور ایجنڈے ہوتے ہیں، جن پر ہم آئینی دائرے میں رہتے ہوئے بحث، گفتگو اور بیلٹ کے ذریعے فیصلے کرتے ہیں، مگر افسوس کہ سیاست دانوں کے درمیان ذاتی دشمنی اور عناد بڑھتا جا رہا ہے۔
سابق مرکزی وزیر بھگونت کھوبا کو چاہیے تھا کہ وہ فراخ دلی (بڑے دل) کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تقریب میں ایک عام شہری کی حیثیت سے شرکت کرتے اور ترقیاتی کاموں کے لیے نیک نیتی کا ثبوت دیتے۔ یہاں میں سنہ 1998 کا ایک واقعہ بطور مثال پیش کرنا چاہتا ہوں، جب اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے پوکھران میں ایٹمی تجربہ کیا تھا۔ اُس وقت وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ اس فیصلے کے مخالف تھے، مگر بعد میں انہوں نے واجپئی کو ایٹمی تجربے کے لیے مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا’’ملک کے مفاد میں اگر ضروری ہو تو اختلاف کو پسِ پشت ڈال دینا چاہیے‘‘
پاپ ناش مندر کے معاملے میں بھی کھوبا صاحب یہی رویہ اختیار کرتے تو عوام کے دل جیت لیتے۔ میں اپنی بات ایک مقولے پر ختم کرتا ہوں’’بحث کا مقصد فتح نہیں بلکہ ترقی ہونا چاہیے‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے