دین کا اکمال اور نعمت رب کا اتمام دلیل ہے کہ دین میں بدعت کی گنجائش نہیں ہے۔

مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی

اللہ تعالی نے فرمایا اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي و رضيت لكم الاسلام دينا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کو اللہ جل و علا نے ہمارے لیے پسند کیا ہے اسلام ہی تو اللہ کے نزدیک مقبول دین ہے، دوسرا اہم امر یہ بھی ہے۔ اس ایت میں دین کے مکمل ہونے کا اور اللہ کی نعمت کے پورا ہونے کا واضح ذکر ہے۔ معلوم ہوا کہ دین میں اور دین کے شرعی احکام و معاملات میں زیادتی اور کمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے لہذا دین میں کسی نوع کی تغیر و تبدل کی حاجت قطعا نہیں ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دین و شرع عقیدہ و عبادت غرض کی کسی شرعی معاملہ میں کوئی نئی چیز نیا کام نیا امر انجام دینے کی اجازت نہیں ہے. دین و شریعت میں نو ایجاد چیز کو بدعت کہتے ہیں اور بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم کی آگ میں لے جاتی ہے اگر کسی بندہء مومن کے دل و دماغ میں یہ ہے بات پیوست ہو جائے تو وہ راہ سنت پر ثابت رہے گا، بدعت جیسی گمرہی کا شکار نہ ہوگا اور دین و شریعت میں کسی نئی بات نئی عبادت کو وہ صحیح اور درست نہیں سمجھے گا کیونکہ مومن کو یقین ہوگا کہ یہ دین مکمل ہے لہذا اس اضافہ شدہ چیز کی کوئی گنجائش نہیں ہے جو یہ اضافہ کر رہا ہے وہ صاحب بدعت ہے اور اس کا یہ عمل مردود ہے۔

اسی یہ آیت کریمہ بتاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل طور پر اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچا دیا ہے یوں بدعتی گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خائن قرار دے رہا ہے نعوذبااللہ

امام مالک ابن انس رحمہ اللہ کی بات بہت عظیم ہے من ابتدع في الاسلام بدعۃ يراها حسنۃ فقد زعم ان محمدا صلى الله عليه وسلم قد خان الرسالۃ۔

جس نے اسلام میں کسی بدعت کا ایجاد کیا اور اس کا یہ خیال رہا کہ وہ اچھی چیز ہے اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رسالت میں خیانت کا دعوی کیا۔ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا۔

گویا بدعتی بدعت ایجاد کر کے یہ کہنا چاہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت کی تبلیغ میں خیانت سے کام لیا ہے۔ معاذ اللہ

دین کے کمال کا اعتقاد بدعات سے یقینا تحفظ فراہم کرتا ہے اللہ تعالی سب کو سنت کی اتباع کی توفیق دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے