رضا ابرار ندوی
بچپن انسانی زندگی کا وہ نازک اور قیمتی مرحلہ ہے جو آنے والے کل کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں شخصیت کی اینٹیں خاموشی سے چنی جاتی ہیں، خیالات کی سمت متعین ہوتی ہے اور مستقبل کی عمارت آہستہ آہستہ تعمیر ہونے لگتی ہے۔ بچپن ایک ایسا پودا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ نشو و نما پاتا ہے اور ایک تناور درخت بن کر سوسائٹی کو سایہ، پھل اور آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ ایک ننھا سا بچہ محض کھیلنے والا معصوم وجود نہیں ہوتا بلکہ آنے والے کل کا معمار، قوم کا سرمایہ اور ترقی کا روشن چراغ ہوتا ہے۔
آج کا بچہ کل کا قائد، مفکر، استاد، ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، سپاہی یا رہنما بن سکتا ہے۔ وہ جو کچھ آج سیکھتا، دیکھتا اور محسوس کرتا ہے، وہی کل اس کی شناخت، اس کے کردار اور اس کے فیصلوں کی بنیاد بنتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بچوں پر کی جانے والی محنت دراصل قوم کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔
ننھے بچے کی تعلیم، تربیت، اخلاق اور ماحول اس کی شخصیت پر نہایت گہرا اور دیرپا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر بچے کو شروع ہی سے سچائی، دیانت، صبر، احترام اور محنت کی تعلیم دی جائے تو یہی اوصاف بڑے ہو کر اس کے کردار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ لیکن اگر اس نازک مرحلے میں اسے نظر انداز کر دیا جائے، اس کی تربیت میں لاپرواہی برتی جائے یا منفی ماحول اس کے گرد پھیلا دیا جائے، تو یہی بچہ آگے چل کر سماج کے لیے مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔
جس طرح ایک مالی اپنے باغ کے ہر پودے کو الگ توجہ دیتا ہے، وقت پر پانی دیتا ہے، کانٹ چھانٹ کرتا ہے اور آندھی، طوفان اور دھوپ سے بچاتا ہے، اسی طرح والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی پرورش کریں۔ محبت، توجہ اور اعتماد وہ پانی ہے جس سے بچے کی خودی مضبوط ہوتی ہے، جبکہ علم اور تربیت وہ روشنی ہے جو اس کے راستے کو منور کرتی ہے۔
تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ عملی زندگی، رویّوں اور طرزِ فکر کی تربیت کا نام ہے۔ استاد کا ایک جملہ، والدین کا ایک عمل اور معاشرے کا ایک رویہ بچے کی سوچ کو مثبت یا منفی رخ دے سکتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بچے وہ نہیں بنتے جو ہم کہتے ہیں بلکہ وہ بنتے ہیں جو ہم خود ہوتے ہیں۔
جیسے کسان ایک چھوٹا سا بیج زمین میں ڈال کر برسوں انتظار کرتا ہے کہ وہ تناور درخت بنے اور پھل دے، ویسے ہی والدین اور اساتذہ بھی صبر، محنت اور امید کے ساتھ بچے کی پرورش کرتے ہیں۔ یہ ایک طویل اور آزمائش بھرا عمل ہے، مگر اس کے ثمرات نہایت شیریں ہوتے ہیں۔ ایک صالح، تعلیم یافتہ اور باشعور بچہ نہ صرف اپنے خاندان کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔
اگر آج کے بچوں کو علم کے ساتھ ادب، اخلاق کے ساتھ تہذیب اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا شعور دیا جائے تو کل یہی بچے اپنے خاندان، محلے، شہر اور ملک کے لیے باعثِ فخر بن سکتے ہیں۔ وہ نہ صرف معاشی ترقی میں حصہ ڈالیں گے بلکہ سماجی انصاف، انسانی ہمدردی اور قومی یکجہتی کے علمبردار بھی بنیں گے۔
یہی بچہ جو آج کھیلتا ہے، معصوم سوالات کرتا ہے، کبھی روتا ہے اور کبھی ہنستا ہے، کل علم کے میدان کا سورج بن سکتا ہے، عدل و انصاف کی شمع روشن کر سکتا ہے اور دنیا میں مثبت انقلاب لا سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اسے وقت دیں، اس کی بات سنیں، اسے سمجھیں، اس سے محبت کریں اور اسے درست سمت میں رہنمائی فراہم کریں۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ
"ابھی ننھا سا بچہ ہے، بڑا ہوگا تو پھل دے گا”
