ڈاکٹر منظور احمد محمد عالم
مملکت سعودی عرب کی دینی و دنیاوی پالیسی اظہر من الشمس ہے، قرآن و حدیث اس کا دستور ہے اور دینی و داخلی معاملات میں وہ اس کا پابند ہے۔
دنیاوی اور خارجہ پالیسی بھی اس کی بہت واضح ہے، وہاں کے حکام و حکمران ہمیشہ امن و امان کے خواہاں رہے ہیں، نزاعی امور و معاملات بات چیت اور حوار کے ذریعے حل کرنے کی تلقین و عہد کرتے رہتے ہیں، وہ اپنے ملک، عوام، پڑوسی ملک و باشندگان بلکہ پوری عالم اسلامی و غیر اسلامی میں امن و سلامتی کے متمنی رہتے ہیں۔ لہذا یہ کہنا اور پھیلانا کہ حکومت سعودی عرب کے حسب ایما و منشا ایران پر اسرائیلی و امریکی حملہ ہوا ہے، سراسر غلط ہے۔ اہل ایمان کو ہدایت ہے کہ وہ خبر کی تحقیق کرے، ارشاد باری ہے: ” يا أيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبأ فتبينوا”. ترجمہ: اے ایمان والو اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔جھوٹی خبر کی بنا پر مملکت سعودی عرب کی سرزمین پر حملہ کرنا یا دیگر خلیجی ممالک پر میزائل گرانا اور وہاں کے لوگوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کرنا اور املاک کو تباہ کرنا، کسی طرح بھی دانشمندانہ اقدام نہیں ہے بلکہ ظلم و زیادتی ہے۔
تمام اسلامی دنیا رمضان المبارک کی مبارک گھڑیوں سے لطف اندوز ہو رہی ہے، روحانی فضا میں سانس لے رہی ہے، عبادت و ریاضت میں مشغول و منہمک ہے، اور حکومت سعودی عرب دنیا بھر سے آئے ہوئے زائرین و معتمرین کی خدمت میں مصروف ہے، ایسے مبارک لوگوں کو بدحال و بدحواس کرنا اور عمرہ و زیارت کی راہ میں رکاوٹ بننا اور آمد و رفت میں حائل ہونا در اصل مسلمانوں کو اللہ کے راستے سے روکتا ہے جو بہت بڑا گناہ اور موجب عذاب ہے، ارشاد باری ہے : ” وما لهم ألا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام”. ترجمہ: اور ان میں کیا بات ہے کہ ان کو اللہ تعالی سزا نہ دے حالانکہ وہ لوگ مسجد حرام سے روکتے ہیں۔
حرمین شریفین و زائرین کی قابل تعریف و ہے نظیر خدمت کرنے والی سعودی حکومت کو پریشان کرنا اور دیگر چیزوں میں الجھانا، ناقابل قبول اقدام ہے اور بہت بڑے زیادتی ہے لہذا ہم حملے کی مذمت کرتے ہیں اور ایرانی حکومت سے چاہتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور اپنی رعایا کی سلامتی کی فکر کرے اور کسی جھوٹی خبر پر اعتماد نہ کرے اور عالم اسلام کے لیے زیارت حرمین کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے اگر اسے اسلام اور مسمانوں سے ذرا بھی ہمدردی ہے! سوشل میڈیا میں جھوٹی خبر کی بنا پر امیر محمد بن سلمان حفظہ اللہ اور حکومتی سعودی عرب کو بدنام کرنا بلکہ کافر اور امریکہ و اسرائیل کا ایجنٹ کا کہنا بہت بڑا ظلم ہے، لہذا تمام نوجوانوں کو خبر کی تحقیق کرنی چاہیے اور جب تک کوئی یقینی خبر نہ ملی ایسی باتوں کی تصدیق نہیں کرنی چاہیے۔
