از قلم: (حافظ)افتخاراحمدقادری
ہندوستان کی جمہوری سیاست اپنی پیچیدگیوں، اتحادوں، مفاہمتوں اور غیر متوقع تبدیلیوں کے سبب ہمیشہ سے توجہ کا مرکز رہی ہے۔ یہاں اقتدار کی سیاست صرف انتخابی نتائج تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے پس منظر میں سیاسی حکمتِ عملی، اتحادوں کی تشکیل، مفادات کی ترجیحات اور مستقبل کے امکانات کا ایک وسیع منظرنامہ موجود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی کسی بڑی ریاست میں سیاسی صف بندی میں معمولی سی تبدیلی بھی قومی سیاست کے لیے اہم پیغام رکھتی ہے۔ بہار کی سیاست بھی اسی نوعیت کی حامل ہے جہاں گزشتہ دو دہائیوں سے سیاسی منظرنامہ زیادہ تر ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتا رہا ہے اور وہ شخصیت ریاست کے موجودہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ہے۔
حالیہ دنوں میں بہار کی سیاست میں ایک نئے سیاسی موڑ کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ جنتا دل یونائیٹڈ کی قیادت نتیش کمار کو راجیہ سبھا بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی ریاستی سیاست میں ایک نئی صف بندی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ اگر یہ سیاسی فارمولہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو نہ صرف بہار کے اقتدار کا توازن بدل سکتا ہے بلکہ قومی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پٹنہ میں این ڈی اے کے ارکانِ اسمبلی کی ایک اہم میٹنگ طلب کی گئی جس میں اس ممکنہ سیاسی منصوبے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس میٹنگ کو سیاسی مبصرین غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ یہی وہ مرحلہ ہو سکتا ہے جہاں نتیش کمار کے آئندہ سیاسی کردار کا فیصلہ ہو۔ اطلاعات کے مطابق اس منصوبے کے تحت نتیش کمار وزیر اعلیٰ کا منصب چھوڑ کر قومی سیاست میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جنتا دل یونائیٹڈ کے کوٹے سے انہیں راجیہ سبھا بھیجنے کی تجویز زیر غور ہے اور اس کے لیے جلد ہی نامزدگی کا مرحلہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔ بہار میں اس وقت راجیہ سبھا کی پانچ نشستوں پر انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ ان نشستوں میں سے ایک نتیش کمار کے لیے مخصوص کی جا سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ محض ایک معمولی سیاسی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ اس کے ذریعے بہار کی سیاست کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام جنتا دل یونائیٹڈ کی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت پارٹی اپنی قومی موجودگی کو مضبوط بنانے اور مرکز کی سیاست میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ نتیش کمار کو دہلی کی سیاست میں لانا دراصل اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ پارٹی آنے والے برسوں میں اپنے سیاسی دائرے کو صرف بہار تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ قومی سطح پر بھی اثر و رسوخ بڑھانے کی خواہش رکھتی ہے۔ اسی کے ساتھ ایک اور اہم پہلو یہ بھی زیر بحث ہے کہ اگر نتیش کمار دہلی منتقل ہوتے ہیں تو بہار کی ریاستی سیاست میں قیادت کی نئی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی تیز ہوگئی ہیں کہ اس صورت میں نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کو بہار کی سیاست میں متعارف کرایا جا سکتا ہے اور انہیں ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے پر لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ کے بعض سینئر رہنما پہلے ہی نشانت کمار کی سیاست میں آمد کے امکانات کا خیر مقدم کر چکے ہیں۔ اس صورتحال کو نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ سیاسی فارمولہ حقیقت میں تبدیل ہوتا ہے تو بہار کی سیاست میں خاندانی جانشینی کا ایک نیا باب بھی شروع ہو سکتا ہے۔ ہندوستان کی سیاست میں خاندانی وراثت کا رجحان کوئی نیا نہیں ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں کئی سیاسی خاندان نسل در نسل اقتدار اور قیادت کے مراکز میں موجود رہے ہیں۔ ایسے میں اگر نشانت کمار کو عملی سیاست میں متعارف کرایا جاتا ہے تو یہ رجحان بہار میں بھی ایک نئی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ دوسری جانب اس ممکنہ سیاسی تبدیلی کے ساتھ ایک اور اہم پہلو بھی زیر بحث ہے اور وہ یہ کہ اگر نتیش کمار وزیر اعلیٰ کا منصب چھوڑ دیتے ہیں تو نئے اتحاد فارمولے کے تحت بھارتیہ جنتا پارٹی کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس وقت این ڈی اے کی حکومت بہار میں مستحکم اکثریت کے ساتھ قائم ہے اور بی جے پی اس اتحاد کا اہم ستون ہے۔ اس لیے اگر اقتدار کی نئی تقسیم ہوتی ہے تو بی جے پی کا وزیر اعلیٰ بننا سیاسی طور پر ایک فطری امکان سمجھا جا رہا ہے۔
بی جے پی پہلے ہی راجیہ سبھا کے لیے اپنے دو اُمیدواروں کا اعلان کر چکی ہے۔ ان میں نیتن نبین کا نام شامل ہے جو پانچ مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور بانکی پور اسمبلی حلقے کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح شیوش کمار رام کو بھی پارٹی نے راجیہ سبھا کے لیے امیدوار بنایا ہے جو پارٹی کے جنرل سیکریٹری ہیں اور سماجی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں موقع دیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہار کی سیاست میں سماجی نمائندگی اور سیاسی توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی جاری ہے۔ ادھر جنتا دل یونائیٹڈ کی اندرونی سرگرمیوں نے بھی سیاسی قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے۔ پارٹی کے قومی کارگزار صدر سنجے جھا دہلی سے پٹنہ پہنچے اور انہوں نے نتیش کمار سے طویل ملاقات کی۔ اسی طرح مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ المعروف للّن سنگھ کی پٹنہ آمد کو بھی اسی سیاسی عمل کو حتمی شکل دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ این ڈی اے کی اعلیٰ قیادت اس ممکنہ سیاسی منصوبے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور اس کے لیے مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے۔
قارئین!نتیش کمار کی سیاسی زندگی پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ وہ گزشتہ بیس برسوں سے بہار کی سیاست کے سب سے اہم اور بااثر کردار رہے ہیں۔ انہیں اکثر ریاستی سیاست کا ’’چانکیہ‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی اتحادوں کے ساتھ نہایت مہارت کے ساتھ سیاسی حکمت عملی اپنائی ہے۔ کبھی وہ این ڈی اے کے ساتھ رہے، کبھی انہوں نے اپوزیشن اتحاد کا حصہ بن کر سیاست کی اور پھر دوبارہ این ڈی اے کے ساتھ حکومت قائم کی۔ اس سیاسی لچک اور حکمت عملی نے انہیں ہندوستانی سیاست کے ایک منفرد کردار کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ 2025 کے اسمبلی انتخابات کے بعد این ڈی اے نے بھاری اکثریت کے ساتھ بہار میں حکومت قائم کی تھی۔ اس مضبوط سیاسی بنیاد کے بعد اگر نتیش کمار مرکز کی سیاست کا رخ کرتے ہیں تو اسے جنتا دل یونائیٹڈ کی مستقبل کی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس قدم کے ذریعے نہ صرف پارٹی کی قومی سطح پر موجودگی کو تقویت مل سکتی ہے بلکہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کو بھی ایک نئی جہت مل سکتی ہے۔ بہار کی سیاست ہمیشہ سے ہندوستانی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ یہاں کے سیاسی فیصلے اکثر قومی سطح پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نتیش کمار کے ممکنہ فیصلے کو صرف ایک ریاستی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ اسے ایک بڑے سیاسی منظرنامے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ قیاس آرائیاں کس حد تک حقیقت کا روپ اختیار کرتی ہیں، لیکن فی الحال یہ طے ہے کہ بہار کی سیاست ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے اور اس کے اثرات آنے والے وقت میں ہندوستانی سیاست کے افق پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کریم گنج، پورن پور، پیلی بھیت یوپی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

