ابو احمد مہراج گنج

رمضان المبارک کا آخری عشرہ بے پناہ برکتوں اور فضیلتوں کا حامل ہے، اور اس عشرے کی سب سے اہم اور خوبصورت عبادت اعتکاف ہے۔ اعتکاف کے لغوی معنی "ٹھہر جانے” یا "رک جانے” کے ہیں، جبکہ شرعی اصطلاح میں اللہ کی رضا کے لیے دنیاوی تعلقات منقطع کر کے مسجد میں قیام کرنے کو اعتکاف کہتے ہیں۔

اعتکاف کرنا سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے، یعنی اگر بستی یا محلے میں کوئی ایک شخص بھی بیٹھ جائے تو سب کی طرف سے ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ اس کی فضیلت کے چند اہم پہلو ہیں

  حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ:

    "نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا۔” (صحیح بخاری)

 اعتکاف کا سب سے بڑا مقصد لیلتہ القدر کو پانا ہے، جو ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔ اعتکاف میں بیٹھنے والا اس مبارک رات کو پانے میں دوسروں سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

 حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ معتکف (اعتکاف کرنے والا) گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اسے ان تمام نیکیوں کا ثواب ملتا رہتا ہے جو وہ مسجد سے باہر ہونے کی صورت میں کیا کرتا تھا۔ (ابن ماجہ)

اعتکاف محض مسجد میں وقت گزارنے کا نام نہیں بلکہ یہ خود کو اللہ کے سپرد کر دینے کا عمل ہے۔ یہ قرآن کے نزول کا مہینہ ہے، لہٰذا اعتکاف میں زیادہ سے زیادہ قرآن پاک کی تلاوت اور اس کے معنی و مفہوم پر غور کرنا چاہیے۔

  فرائض کے علاوہ سنن و نوافل، تسبیحات، درود شریف اور کلمہ طیبہ کا ورد دل کو جلا بخشتا ہے۔

 معتکف اللہ کا مہمان ہوتا ہے۔ اس گوشہ تنہائی میں اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے گڑگڑا کر دعا کرنا اعتکاف کی روح ہے۔

اعتکاف کو بامقصد بنانے کے لیے کچھ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے بلا ضرورت دنیاوی باتیں کرنے سے پرہیز کریں۔ البتہ بالکل چپ کا روزہ رکھنا بھی درست نہیں، صرف خیر کی بات زبان سے نکالیں۔

  اعتکاف کا مقصد اللہ سے تعلق جوڑنا ہے۔ آج کل موبائل فون اس میں بڑی رکاوٹ ہے، لہٰذا اسے صرف انتہائی ضرورت کے لیے استعمال کریں۔

  اعتکاف کی جگہ اور اپنے لباس کو پاک و صاف رکھیں۔ مسجد کے تقدس کا پورا خیال رکھیں۔

  اعتکاف میں دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہوئے حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں اور چھوٹی باتوں پر غصہ کرنے سے بچیں۔

الغرض اعتکاف ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کو دنیا کی ہماہمی سے نکال کر سکونِ قلب عطا کرتی ہے۔ یہ دس دن اللہ کی بارگاہ میں پڑے رہنے کے ہیں تاکہ جب انسان اعتکاف سے اٹھے تو اس کا دل گناہوں سے پاک اور روح اللہ کی محبت سے سرشار ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے