رمضان انسان کو نظم و ضبط اور احتسابِ نفس کا سبق دیتا ہے

مسلمانوں کی ترقی کا راستہ تعلیم اور شعور سے ہوکر گزرتا ہے:ایڈوکیٹ سید جلال الدین 

ممبئی(جاوید جمال الدین): ممبئی کی سیاسی اور سماجی زندگی میں ایڈوکیٹ سید جلال الدین ایک باوقار اور فعال شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ وہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار) کے اقلیتی شعبہ کے چیئرمین، این سی پی کے جنرل سکریٹری اور سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے صدر ہیں۔ طویل سیاسی و سماجی سفر کے دوران انہوں نے مختلف عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم سماج میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کے لیے بھی مسلسل آواز بلند کی ہے۔
ان کی گفتگو میں ایک تجربہ کار سیاسی کارکن کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار سماجی رہنما کی فکر بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ ماہِ رمضان المبارک کے موقع پر ہونے والی ایک تفصیلی گفتگو میں انہوں نے رمضان کی روحانیت، بچپن کی یادوں، مسلم معاشرے میں بڑھتی ہوئی تعلیمی بیداری اور ملت کے مستقبل کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
رمضان: اصلاح اور تربیت کا مہینہ
ایڈوکیٹ سید جلال الدین کے مطابق رمضان المبارک صرف عبادت اور روزے کا مہینہ نہیں بلکہ یہ انسان کی شخصیت کو سنوارنے اور اس کے اخلاق کو بہتر بنانے کا بھی ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق روزہ انسان کو صبر، برداشت اور نظم و ضبط کی تربیت دیتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ رمضان کے دوران ان کی روزمرہ زندگی کی مصروفیات تقریباً وہی رہتی ہیں جو عام دنوں میں ہوتی ہیں۔ سیاسی اور سماجی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، لیکن اس مہینے میں عبادت اور روحانی یکسوئی کے لیے زیادہ وقت نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق رمضان انسان کو اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
“رمضان انسان کو اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے اور بہتر انسان بننے کی دعوت دیتا ہے۔”
بچپن کی یادیں اور روزے کی پابندی
رمضان کا ذکر آتے ہی سید جلال الدین کے ذہن میں بچپن کی کئی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ گاؤں کے سادہ ماحول میں رمضان کا خاص اہتمام ہوتا تھا اور گھر کے بڑے بچوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب دیتے تھے۔
وہ ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بچپن میں اسکول جاتے ہوئے یا واپسی کے وقت روزے کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ اسکول سے واپسی کے دوران انہیں شدید پیاس لگی اور راستے میں موجود تالاب سے پانی پی لیا۔
لیکن پانی پیتے وقت دل میں یہ خوف بھی تھا کہ کہیں پانی کے ساتھ کوئی کیڑا منہ میں نہ چلا جائے۔ اس کے ساتھ ہی والدہ کے ڈر کا بھی احساس تھا کہ اگر انہیں معلوم ہو گیا کہ روزہ ٹوٹ گیا ہے تو ناراض ہوں گی۔
وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ بچپن کے یہ واقعات آج بھی رمضان کی عظمت اور اس کے احترام کی یاد دلاتے ہیں۔
“بچپن میں والدین کی تربیت ہی انسان کو دین اور اخلاق سے جوڑتی ہے۔”
مسلمانوں میں بڑھتا ہوا دینی شعور
سید جلال الدین کا ماننا ہے کہ آج کے دور میں مسلمانوں میں دینی شعور اور مذہب کی طرف رجحان پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑھا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو سے تین دہائیوں میں مختلف دینی و اصلاحی تحریکوں اور تنظیموں نے مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وہ خاص طور پر تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی جیسی تنظیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان اداروں نے معاشرے میں اصلاح اور دینی شعور پیدا کرنے کے لیے بڑی محنت کی ہے۔
ان کے مطابق ان تنظیموں کی کوششوں کے نتیجے میں مسلمانوں میں عبادات کی پابندی اور دینی تعلیم کے حصول کا رجحان بڑھا ہے، جس کے مثبت اثرات نئی نسل میں بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
“معاشرے میں اصلاح کی تحریکیں ہمیشہ مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنتی ہیں۔”
تعلیمی بیداری: ایک خوش آئند پیش رفت
مسلم سماج میں تعلیمی بیداری کے حوالے سے سید جلال الدین خاصے پرامید نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں مسلمانوں میں تعلیم کے حوالے سے شعور میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
وہ یاد کرتے ہیں کہ ایک وقت ایسا تھا جب مقابلہ جاتی امتحانات، خصوصاً یو پی ایس سی جیسے امتحانات میں مسلمانوں کی نمائندگی نہایت کم ہوتی تھی۔ اگر دو یا چار مسلم نوجوان بھی کامیاب ہو جاتے تو اسے بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا۔
لیکن آج صورتحال مختلف ہے۔ اب بڑی تعداد میں مسلم نوجوان ان امتحانات میں حصہ لے رہے ہیں اور نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ مسلم سماج میں تعلیم کی اہمیت کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ سمجھا جا رہا ہے۔
“آج درجنوں مسلم نوجوان سول سروسز کی تیاری کر رہے ہیں، جو مستقبل کے لیے امید کی کرن ہے۔”
بزرگ رہنماؤں کی قابلِ قدر خدمات
تعلیمی بیداری کے فروغ میں کئی بزرگ شخصیات کی خدمات کو سید جلال الدین خاص طور پر یاد کرتے ہیں۔
وہ مرحوم سید حامد کا ذکر کرتے ہیں جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ ان کے مطابق 1992–93 کے فسادات کے بعد سید حامد نے مسلمانوں میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کے لیے بڑی مہم چلائی اور نوجوانوں کو مقابلہ جاتی امتحانات کی طرف راغب کیا۔
اسی طرح وہ عبدالحمید، بانی جامعہ ہمدرد، کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مسلمانوں کے تعلیمی مستقبل کو مضبوط بنانے کے لیے وقف کر دیا۔
ان کے مطابق ان بزرگوں کا وژن یہ تھا کہ مسلمان اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور سول سروسز جیسے باوقار شعبوں میں اپنی نمائندگی بڑھائیں۔
رحمانی 30 اور نئی نسل کی کامیابیاں
سید جلال الدین مولانا ولی رحمانی کے “رحمانی 30” پروگرام کو بھی مسلم نوجوانوں کی کامیابی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے کئی مسلم طلبہ کو آئی آئی ٹی جیسے ممتاز اداروں میں داخلہ حاصل کرنے کا موقع ملا۔
ان کے مطابق ایسے تعلیمی اقدامات نے مسلم نوجوانوں میں اعتماد پیدا کیا اور انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ بھی ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
بدلتے ہوئے رجحانات
وہ کہتے ہیں کہ اب مسلم نوجوان صرف ڈاکٹر اور انجینئر بننے تک محدود نہیں رہے بلکہ وکالت، سول سروسز، انتظامی خدمات اور دیگر شعبوں میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے کیونکہ کسی بھی قوم کی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے افراد مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کریں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
ایڈوکیٹ سید جلال الدین کے مطابق اگر مسلمان واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی توجہ کا مرکز تعلیم کو بنانا ہوگا۔
وہ کہتے ہیں کہ سماجی تنظیموں اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے تیار کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
“تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو کسی بھی قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔”
ملت کے نام پیغام
گفتگو کے اختتام پر سید جلال الدین مسلمانوں کو ایک اہم اور فکر انگیز پیغام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مسلمان واقعی اپنے مستقبل کو روشن دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔
وہ کہتے ہیں کہ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ علم کو اپنی ترجیح بناتی ہیں۔ اگر مسلمان اپنی دوسری ضروریات میں کچھ کمی بھی کر دیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن تعلیم کے معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ شعور، اعتماد اور قیادت پیدا کرنے کا وسیلہ بھی ہے۔
گفتگو کے اختتام پر وہ ایک پرامید انداز میں کہتے ہیں کہ اگر موجودہ تعلیمی بیداری اسی طرح جاری رہی تو آنے والے برسوں میں مسلمان مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کریں گے اور اپنی کھوئی ہوئی شناخت اور وقار کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
“اگر ہم نے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنا لیا تو مستقبل یقیناً ہمارا ہوگا۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے