ذاکر حسین

آدھی رات گزر چکی ہے، نیند جیسے روٹھ گئی ہو، اندھیرے میں دور سے جیسے اماں سرگوشی کر رہی ہوں، ذاکر، بابو،

پھر گہرا سناٹا۔۔تقریباً دو سے تین بار یہ سرگوشی کانوں کو محسوس ہوئی، پھر مکمل سنا ٹاچھا گیا۔ اس کے بعد سے نیند جیسے کہیں دور پرواز کر گئی ہو،ذہن کو سکون کی آغوش میں لانے کیلئے موبائل اٹھایا اور لکھنے لگا۔ایک طرف ہاتھ کی انگلیاں ،کیپیڈ پر محو سفر تھیں تو وہیں ذہن ماضی کی دیواروں پر دستک دے رہا تھا۔کتنی جلدی وقت گزر جاتا ہے ،ابھی جیسے جلد ہی میں اماں کی گود میں لپٹ کر لیٹا ہوتا تو گھر کے دیگر افراد اعتراض کرتے کہ اب بڑا ہو گیا ہے ،اب اس طرح سے ذاکر کا رہنا ٹھیک نہیں۔۔۔پھر یاد آتیں،اماں کے ساتھ گزرے وقت کی یادیں،پھر آنکھوں سے کچھ موتی ڈھلک کے رخسار پر رقص کرتے پھر اپنے وجود کو ہمیشہ کیلئے فضاؤں ممیں آزاد کرا لیتے۔اماں کو جیسے فخر تھا،اپنے بیٹے پر،عرفان چاند صاحب کی نظم،الفلاح کے روح رواں ذاکر حسین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے کسوں،بے بسوں کے قدرداں ذاکر حسین۔۔۔۔۔۔اماں دن بھر سنا کرتی تھیں۔۔آج جیسے گھر کی دیواریں خاموش ہیں۔اندھیرے میں چھائی اداسی اور گہرے سناٹے کو بھلا کون نظر انداز کر سکتا ہے۔میرے اندر راتیں جگتی ہیں،راتیں اور میں،گہرا رشتہ ہے ۔نیند نہیں آتی تو اٹھ کر اماں کو دیکھتا،پھر جاکر لیٹ جاتا۔۔اس حرکت کا کیا مطلب تھا ،میں خود نہیں سمجھ سکا۔اماں کو جانا تھا،چلی گئیں ،لیکن ان کی یادیں جو ہیں،وہ جیسے زہن کے کونوں میں قید ہو گیئں ہوں۔اماں ،آپ کیلئے میری زندگی صدقہ،لوگوں کی مدد ،لوگوں کے کام آنا،میراور زندگی کا نصب العین،صرف اس لالچ میں آپکے بیٹے کی یہ کاوشیں آپ کیلئے مغفرت اور جنت تک کے سفر کو آسان کرے۔اماں میری عظیم تھیں۔کبھی کسی بات کا گھمنڈ نہیں،کبھی غیبت نہیں،کبھی چغلی نہیں،کبھی حسد نہیں۔۔اخلاق کی پیکر تھیں اماں۔۔ما شا اللہ ان کے بیٹے آج قابل فخر زندگی کی راہوں پر گامزن ہیں۔بچوں میں آپسی اتحاد قابل ستائش ہے۔لیکن اماں نے کبھی گھمنڈ کے ایک لفظ بھی اپنی زبان پر آنے نہیں دیا۔۔گاؤں میں بڑے چھوٹے سب سے یکساں سلوک،ہماری اماں تو عظمت کی پیکر تھیں،جو ہمیں بہت سارے خاموش سبق پڑھا کر چلی گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

14 مارچ 2026

رات 1 بجکر 52 منٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے