صلاح الدین لیث المدنی

مرکز الصفا الاسلامی نیپال

اسلام کی عبادات کا نظام اس طرح قائم کیا گیا ہے کہ بندے کی اصلاح کے ساتھ معاشرے کی ضرورتیں بھی پوری ہوں۔ رمضان المبارک ایک ایسا مہینہ ہے جس میں مسلمان صبر، تقوی اور اطاعت کی مشق کرتا ہے اور اس مبارک مہینے کے اختتام پر شریعت نے صدقۂ فطر کو لازم قرار دیا تاکہ روزوں کی تکمیل بھی ہو اور معاشرے کا کوئی محتاج فرد عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے۔ اسی لیے صدقۂ فطر محض ایک مالی عمل نہیں بلکہ عبادت اور معاشرتی ذمہ داری کا حسین امتزاج ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر کی حقیقت اور اس کی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم زَكَاةَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى العَبْدِ وَالحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالأُنثَى، وَالصَّغِيرِ وَالكَبِيرِ مِنَ المُسْلِمِينَ(صحیح البخاری، صحیح مسلم)

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر مسلمان مرد و عورت، چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام پر لازم قرار دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقۂ فطر ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو اپنی بنیادی ضروریات سے زائد مال رکھتا ہو اور گھر کا ذمہ دار اپنے زیر کفالت افراد کی طرف سے بھی اسے ادا کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حکمت بھی بیان فرمائی: زَكَاةُ الفِطْرِ طُهْرَةٌ لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةٌ لِلْمَسَاكِينِ(سنن أبي داود — حدیث صحیح)

کہ صدقۂ فطر روزہ دار کو لغویات اور کوتاہیوں سے پاک کرنے والا اور مسکینوں کے لیے کھانے کا سامان ہے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر "طُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ” فرمایا یعنی محتاجوں کی خوراک۔ اسی لفظ سے صدقۂ فطر کا اصل مقصد واضح ہوتا ہے۔

احادیث میں کھجور، جو اور دیگر غذائی اجناس کا ذکر آیا ہے مگر ان کا ذکر بطور مثال ہے کیونکہ وہ اس وقت کے معاشرے کی بنیادی خوراک تھیں۔ شریعت کا مقصود کسی خاص جنس کو لازم کرنا نہیں بلکہ محتاج کی حقیقی ضرورت پوری کرنا ہے۔ اس لیے جس معاشرے میں جو غذا عام طور پر کھائی جاتی ہو جیسے گندم، چاول یا دیگر بنیادی غذائیں وہی صدقۂ فطر میں دینا زیادہ مناسب اور سنت کی حکمت کے قریب ہے کیونکہ انسان جو خود کھاتا اور استعمال کرتا ہے وہی چیز جب محتاج کو دیتا ہے تو اس میں حقیقی مواسات اور مساوات پیدا ہوتی ہے نہ کہ رسمی ادائیگی۔ اس کی مقدار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع مقرر فرمائی جو تقریباً اڑھائی سے تین کلو کے برابر ہوتی ہے۔ سنت یہ ہے کہ اسے عید کی نماز سے پہلے ادا کیا جائے تاکہ ضرورت مند افراد عید کے دن سوال کی حاجت سے محفوظ رہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ(سنن أبي داود)

یعنی جو اسے نماز عید سے پہلے ادا کرے وہ مقبول زکاۃ ہے اور بعد میں دینے سے عام صدقہ شمار ہوگا۔ عیدالفطر دراصل شکر اور اجتماعیت کا دن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن پاکیزگی اختیار کرتے، اچھا لباس پہنتے اور نماز سے پہلے کھجوریں تناول فرماتے جیسا کہ حدیث میں ہے: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا يَغْدُو يَوْمَ الفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ(صحیح البخاری)

اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ جاتے اور واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے كَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدٍ خَالَفَ الطَّرِيقَ(صحیح البخاری)۔

اس دن تکبیر کہنا، باہمی ملاقات کرنا، رشتہ داروں سے حسن سلوک اور دلوں کی صفائی اختیار کرنا سنت نبوی کا حصہ ہے۔ یوں صدقۂ فطر رمضان کی عبادتوں کا عملی اختتام ہے جس میں بندہ اپنے عمل کی اصلاح کے ساتھ معاشرے کے کمزور طبقے کو شریک خوشی بناتا ہے۔ جب مسلمان اپنی عام خوراک میں سے مستحقین کو حصہ دیتا ہے تو عید حقیقی معنوں میں اجتماعی مسرت کا دن بن جاتی ہے اور یہی قرآن و سنت کی تعلیم کا مقصود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے