کیا کانگریس اپنی بنیادیں خود کمزور کر رہی ہے
از: عبدالحلیم منصور
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے
کرناٹک کی موجودہ سیاسی فضا میں داونگیرے کے ضمنی انتخاب کے بعد جو ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے، وہ محض ایک حلقے کی انتخابی کہانی نہیں، بلکہ ایک بڑے سیاسی بیانیے، داخلی کشمکش اور اعتماد کے بحران کی عکاس ہے۔ کانگریس، جسے برسوں سے سیکولر اقدار اور اقلیت نواز سیاست کا علمبردار سمجھا جاتا رہا، آج اسی شناخت کے کٹہرے میں کھڑی نظر آتی ہے۔ سوال صرف ٹکٹ کی تقسیم کا نہیں، بلکہ رویّوں، ترجیحات اور سیاسی نیتوں کا ہے۔
داونگیرے جنوبی حلقے میں مسلم آبادی کے نمایاں تناسب کے باوجود امیدوار کے انتخاب میں جو فیصلہ لیا گیا، اس نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا کہ کیا اقلیتیں محض ووٹ بینک ہیں؟ یا واقعی انہیں سیاسی نمائندگی کا حق بھی حاصل ہے؟ اس کے بعد جو کچھ ہوا—یعنی مسلم رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں، معطلیاں اور برطرفیاں—اس نے اس تاثر کو مزید گہرا کیا کہ کہیں نہ کہیں طاقت کے مراکز میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ داونگیرے کی سیاست طویل عرصے سے ایک مخصوص سیاسی خاندان کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ کیا ٹکٹ کی تقسیم میں مقامی سماجی توازن اور حقیقی نمائندگی کو نظر انداز کر کے محض خاندانی یا روایتی سیاسی اثر و رسوخ کو ترجیح دی جا رہی ہے؟
حالیہ پیش رفتوں نے اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ داونگیرے کے بعد کانگریس کے اندر جس تیزی سے شکستِ اعتماد کی فضا بنی، اس نے پارٹی قیادت کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ پارٹی کے اندر سے ہی یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ فیصلوں میں شفافیت اور مشاورت کا فقدان ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق دہلی قیادت تک بھی یہ پیغام پہنچایا گیا ہے کہ اگر اقلیتوں کے ساتھ یہی رویہ جاری رہا تو 2028 کے انتخابات میں اس کا براہِ راست نقصان ہوگا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کانگریس کے اندر مسلم قیادت کو اس نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی مسلم رہنما مضبوطی کے ساتھ ابھرتا ہے، پارٹی کے اندر اس کے گرد شکوک، اختلافات یا کنارہ کشی کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے—جس کی ایک نمایاں مثال قدآور رہنما آر روشن بیگ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے یا ایک غیر اعلانیہ سیاسی حکمتِ عملی؟
داونگیرے کے معاملے میں ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا—پارٹی کے اندرونی اختلافات۔ وزیرِ اعلیٰ اور نائب وزیرِ اعلیٰ کے درمیان طاقت کی کشمکش، قیادت کی تبدیلی کی چہ مگوئیاں، اور ہائی کمان کی خاموشی—یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں پالیسی کم اور سیاست زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ یہ تنازع صرف ایک ٹکٹ کا نہیں بلکہ طاقت کے توازن کا بھی ہے، جس میں مختلف گروہ اپنے اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔
یہ بھی غور طلب ہے کہ جن رہنماؤں نے پارٹی کے اندر رہتے ہوئے سوال اٹھائے، انہیں "پارٹی مخالف” قرار دے دیا گیا۔ مگر وہی پیمانہ دیگر بااثر طبقات پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟ کیا نظم و ضبط صرف مسلمانوں کے لیے ہے؟ اور اگر مسلم رہنما اپنی برادری کے حق میں آواز اٹھائیں تو کیا وہ جرم بن جاتا ہے؟
یہاں ایک نہایت اہم اور بنیادی سوال ضوابط کا بھی ہے۔ کسی بھی پارٹی، بالخصوص کانگریس میں، پارٹی مخالف سرگرمیوں پر باقاعدہ طریقۂ کار طے ہے—پہلے شوکاز نوٹس جاری ہوتی ہے، متعلقہ لیڈر کو صفائی یا وضاحت کے لیے مہلت دی جاتی ہے، اور اس کے بعد ہی تادیبی کارروائی کی جاتی ہے۔ مگر کرناٹک کانگریس میں مسلم قیادت کے معاملے میں یہ ضوابط کہیں نظر نہیں آتے۔ رکنِ کونسل عبدالجبار کو پہلے اقلیتی شعبہ کی صدارت سے مستعفی ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے، پھر پارٹی سے معطل کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح رکنِ کونسل نصیر احمد کو کابینہ درجے کے عہدے—وزیرِ اعلیٰ کے سیاسی مشیر—سے ہٹا دیا جاتا ہے، حالانکہ ان کے خلاف کوئی واضح ضابطہ جاتی کارروائی سامنے نہیں آتی۔
اس کے برعکس، دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے بعض لیڈران کھلے عام اپنی برادری کے بی جے پی امیدواروں کی حمایت تک کا مشورہ دیتے ہیں، مگر ان کے خلاف وہی سختی نظر نہیں آتی۔ کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟ جب بھی مسلمان اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتا ہے، اسے یا تو الجھا دیا جاتا ہے، یا کسی تنازع میں دھکیل دیا جاتا ہے، یا پھر اسے کمزور کرنے کی نئی نئی تدبیریں آزمائی جاتی ہیں—اور یہی منظر آج کرناٹک کی سیاست میں نمایاں ہے۔
دھرتی کی سلگتی چھاتی سے بے چین شرارے پوچھتے ہیں
تم لوگ جنہیں اپنا نہ سکے وہ خون کے دھارے پوچھتے ہیں
سڑکوں کی زباں چلاتی ہے، ساگر کے کنارے پوچھتے ہیں
یہ کس کا لہو ہے، کون مرا، اے رہبرِ ملک و قوم بتا
اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مختلف مسلم تنظیموں، سماجی پلیٹ فارمز اور دانشور حلقوں کی جانب سے مشترکہ بیانات جاری کیے جا رہے ہیں، جن میں نہ صرف ان کارروائیوں کی مذمت کی گئی بلکہ سیاسی رویّوں پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناراضی اب صرف سیاسی قیادت تک محدود نہیں رہی بلکہ سماجی سطح پر بھی پھیل رہی ہے۔
دوسری طرف خود مسلم قیادت کا کردار بھی تنقید سے بالاتر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کئی مواقع پر قیادت نے اجتماعی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔ ٹکٹ کی سیاست، عہدوں کی دوڑ اور آپسی اختلافات نے ایک مضبوط اجتماعی آواز کو کمزور کیا ہے۔ اگر قیادت متحد ہوتی، اصولی موقف اپناتی اور عوامی مسائل کو ترجیح دیتی، تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر مسلمان کب تک ردعمل کی سیاست کریں گے؟ ،کیا ہر انتخاب کے بعد صرف ناراضی ہی مقدر رہے گی؟ ،کیا کوئی طویل مدتی سیاسی حکمتِ عملی تیار کی گئی ہے؟ ،کیا نئی قیادت کو آگے لانے کا کوئی سنجیدہ منصوبہ موجود ہے؟ ۔
اسی دوران بنگلورو میں انہدامی کارروائیوں سے متاثرین، ریزرویشن کے مسائل، حجاب تنازعہ—یہ سب ایسے معاملات ہیں جن پر یا تو خاموشی اختیار کی گئی یا رسمی بیانات دے کر آگے بڑھا گیا۔ اگر ایک برادری کے بنیادی مسائل ہی مسلسل نظر انداز ہوتے رہیں، تو پھر اس کی سیاسی وابستگی کس بنیاد پر قائم رہے گی؟ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب زمینی مسائل پر مضبوط آواز نہیں اٹھتی، تو سیاسی حیثیت خود بخود کمزور پڑ جاتی ہے۔
داونگیرے کا واقعہ ایک انتباہ ہے—صرف کانگریس کے لیے نہیں بلکہ پوری مسلم سیاسی سوچ کے لیے۔ اگر کانگریس اپنی روایتی حمایت "ٹیکن فار گرانٹڈ” لیتی رہی، تو اس کے نتائج 2028 کے انتخابات میں واضح ہو سکتے ہیں۔ اور اگر مسلم قیادت نے بھی خود احتسابی نہ کی، تو سیاسی حاشیہ مزید تنگ ہو جائے گا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ جذبات سے ہٹ کر سنجیدہ سیاسی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ سوال پوچھے جائیں، مگر جواب بھی تلاش کیے جائیں۔ اتحاد کی بات ہو، مگر اصولوں پر۔ حمایت ہو، مگر شرطوں کے ساتھ۔ کیونکہ سیاست میں خاموشی اکثر کمزوری سمجھی جاتی ہے—اور کمزوری کو ہمیشہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
آج داونگیرے کی گونج صرف ایک شہر تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے کرناٹک اور ملک کے سیاسی مستقبل کا آئینہ بن چکی ہے۔ مسلمانوں کے لیے سب سے اہم سوال محض کسی ایک پارٹی کی حمایت نہیں، بلکہ باوقار اور مؤثر سیاسی موجودگی کا ہے۔ وقتی ردِعمل یا جذباتی فیصلوں کے بجائے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جس میں تین راستے نمایاں ہیں۔اوّل، موجودہ سیکولر جماعتوں کی مشروط حمایت—یعنی واضح مطالبات، نمائندگی اور جواب دہی کے ساتھ ،دوم، مقامی سطح پر سیاسی دباؤ گروپس یا اجتماعی پلیٹ فارمز کی تشکیل، جو ٹکٹ، پالیسی اور مسائل پر اثر انداز ہوں ،سوم، طویل مدتی طور پر نئی قیادت کی تیاری اور متبادل سیاسی آواز کی بنیاد۔اصل چیلنج یہ نہیں کہ کون سی پارٹی منتخب کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ کیا مسلمان اپنی سیاسی طاقت کو منظم اور بااثر بنا پاتے ہیں یا نہیں۔

