جواہر لال نہرو پولی ٹیکنک محمودآباد کی گولڈن جوبلی تقریبات کا شاندار آغاز

لکھنؤ (پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری): تکنیکی تعلیم کے ممتاز ادارے جواہر لال نہرو پولی ٹیکنک، محمودآباد (سیتاپور) میں آج گولڈن جوبلی تقریبات کا آغاز نہایت وقار اور شان و شوکت کے ساتھ عمل میں آیا۔ نصف صدی پر محیط اس درخشاں تعلیمی سفر کے جشن نے ادارے کی خدمات اور اس کی تعلیمی روایت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔
اس موقع پر سابق کارگزار وزیر اعلی ڈاکٹر عمار رضوی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے تقریب کا افتتاح کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے نہایت باریکی سے ادارے کے قیام کے پس منظر کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اتر پردیش حکومت میں وزیرِ تعلیم کے منصب پر فائز تھے، اسی دور میں 28 اکتوبر 1975 کو اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کا بنیادی مقصد دیہی اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو تکنیکی تعلیم سے آراستہ کر کے انہیں خود کفیل بنانا تھا۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ علم ایک لازوال دولت ہے جسے نہ کوئی چرا سکتا ہے اور نہ ہی وقت کی گرد اسے ماند کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی علم انسان کو خود اعتمادی، شعور اور ترقی کی راہوں پر گامزن کرتا ہے اور زندگی کے ہر مرحلے میں اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی ادارے محض ڈگریاں دینے کے مراکز نہیں ہوتے بلکہ کردار سازی، ہنر مندی اور سماجی شعور کی آبیاری کے اہم مراکز بھی ہوتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ آج یہ ادارہ ایک مستحکم اور باوقار تعلیمی مرکز بن چکا ہے، جہاں سے فارغ ہونے والے طلبہ ملک و بیرون ملک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ انہوں نے اساتذہ اور انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے ادارے کی کامیابی کی اصل بنیاد قرار دیا اور کہا کہ جواہر لال نہرو پولی ٹیکنک گزشتہ نصف صدی سے اسی روایت کو نہایت ذمہ داری اور کامیابی کے ساتھ نبھا رہا ہے۔
تقریب کی صدارت محمودآباد کی رکن اسمبلی آشا موریہ نے کی، جنہوں نے اپنے خطاب میں ادارے کی تعلیمی و سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ خطے کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
تقریب میں شریک افراد کی بڑی تعداد نے اس موقع کو نہایت سنجیدگی اور دلچسپی کے ساتھ محسوس کیا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، تعلیمی حلقوں کے نمائندگان اور سابق طلبہ کی موجودگی نے تقریب کو مزید باوقار بنا دیا۔ شرکاء نے مقررین کے خیالات کو توجہ سے سنا اور اپنی بھرپور شرکت کے ذریعے اس تاریخی لمحے کو یادگار بنا دیا۔
ادارے کے سنہری سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ 1975 میں محدود وسائل سے شروع ہونے والا یہ ادارہ آج جدید سہولیات سے آراستہ ایک وسیع و عریض کیمپس میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں معیاری تعلیم کے ساتھ عملی تربیت کا بھی موثر انتظام ہے۔ مختلف تکنیکی اور انجینئرنگ شعبوں میں فراہم کی جانے والی تعلیم نے اسے خطے کے نمایاں اداروں میں شامل کر دیا ہے۔
تقریب کے اختتام پر ادارے کی جانب سے مہمانانِ گرامی کو یادگاری مومینٹو پیش کیے گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر رضوی کے علاوہ علاقائی ممبر اسمبلی آشا موریہ، منیجنگ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر ہارون رضوی،ڈاکٹر سیما سنگھ، عارف رضوی، ڈاکٹر شکیل قدوائی، رمیش واجپئی، عتیق احمد،شہاب الدین خان،مرزا اسلم بیگ،ابوشحمہ انصاری،عبد اللہ خان،پردیپ بلیا وغیرہ موجود رہے۔ ادارہ کے اسٹاف سی پی ترپاٹھی، پرنسپل، اجے سنگھ، جیوتی کمار، معراج فاطمہ، منیشا پاٹھک، کمل ورما، مامون عالم، برج بھوشن پانڈے، ونود مشرا، جمیل حسن نقوی، راگھویندر پرتاب سنگھ، روی پرکاش یادو، حشمت علی وغیرہ نے شکریہ ادا کیا۔یہ اطلاع ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے