ڈاکٹر سراج الدین ندوی
9897334419
اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔اللہ نے انسانوں کو پیدا کرکے یوں ہی نہیں چھوڑ دیا ہے کہ وہ بھٹکتے پھریں۔ جس طرح اللہ نے انسان کی تمام ضروریات پوری کرنے کا نظم کیا، ٹھیک اسی طرح اس نے انسان کو زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا۔ اسی طریقہ کا نام ’’ اسلام ‘‘ ہے۔ مختلف زمانوں میں اللہ مختلف قوموں میں جو انبیاء اور رُسل بھیجتا رہا وہ سب اسی دین کو پیش کرتے رہے اور آخر میں حضرت محمد ؐ اسی دین کو تمام انسانوں کے لیے لائے۔اللہ نے آنحضور ؐ کو آخری نبی بناکر بھیجا اور ان پر قرآن نازل کرکے اسلام کو آخری دین کی حیثیت سے تمام لوگوں کے لیے مکمل کردیا۔اب قیامت تک اسلام ہی سچا دین ہے ۔آخرت میں اسلام کے علاوہ کوئی دین قابل قبول نہ ہوگا۔اسلام مکمل نظام زندگی ہے ۔اسلام اللہ کا عطا کردہ وہ طریقۂ زندگی ہے جو انسانی زندگی میں پیش آنے والے تمام مسائل کا واحد حل ہے اور ان تمام مشکلات سے انسان کو نجات دیتا ہے جن میں وہ عرصہ دراز سے مبتلاہے۔ اسلام ان تمام سوالوں کا تشفی بخش جواب دیتا ہے جن کا اطمینان بخش جواب کسی دوسرے کے پاس نہیں ہے۔
بھارت ایک سیکولر ملک ہے ۔جس کا اپنا ایک آئین ہے ۔اس آئین میں شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے ،اس کی تبلیغ کرنے ،کسی بھی مذہب کو قبول کرنے ،اپنے مذہبی اداروں کو قائم کرنے نیز انھیں چلانے کا اختیار حاصل ہے ۔آئین میں یہ بھی درج ہے کہ بھارت کے شہری اپنے عائلی قوانین پر عمل کرنے کے لیے آزاد ہیں ۔لیکن آئین کے رہنما اصولوں میں یہ بات دفعہ 44کے تحت درج کی گئی ہے کہ رائے عامہ ہموار کرکے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول قوانین وضع کیے جائیں گے ۔اس رہنما اصول کا فائدہ اٹھا کر کچھ سماج دشمن عناصر وقفہ وقفہ سے یونیفارم سول کوڈ کی آواز اٹھاتے رہتے ہیں ۔اسی کی آڑ میںملک میں کئی مرتبہ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کوشش کی گئی ہے ۔
1963میں حکومت نے ایک کمیشن مقرر کرنا چاہا تھا، جس کا مقصد مسلم پرسنل لا میں تبدیلی پر غور و فکر اور اس کے لیے عملی راہوں کی تلاش تھا، مسلمانوں کی ہمہ گیر مخالفت کے نتیجہ میں یہ کمیشن مقرر نہیں کیا گیا۔ اور وزیر قانون نے پارلیمنٹ میں یہ کہہ کر بحث ختم کردی کہ حکومت اس وقت (مسلم پرسنل لا) میں کوئی ترمیم کرنا مناسب نہیں سمجھتی۔
1972ء میں پارلیمنٹ میں لے پالک بل پاس کیا گیا جو تمام مذاہب کے لیے تھا۔ اس بل کی رو سے منہ بولے بیٹے کو سگے بیٹے کے تمام حقوق حاصل ہو رہے تھے۔ اس وقت کے وزیر قانون ایچ آر گوکھلے نے اس بل کو یکساں سول کوڈ کی جانب پہلا قدم بتایا تھا۔ اس بل کا اثر یہ ہوا کہ مسلمانوں کے کئی حلقوں میں بے چینی پیدا ہو گئی۔ چنانچہ مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ کی تحریک پر دار العلوم دیوبند کے سابق مہتمم قاری محمد طیب قاسمیؒ نے 13،14 مارچ، 1972ء کو دیوبند میں اہل فکر کا ایک اجلاس بلایا جس میں ملک بھر کے علماء اور دانشور جمع ہوئے۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ مسلم عائلی قوانین کے تحفظ کے لیے ممبئی میں ایک نمائندہ اجلاس منعقد ہونا چاہیے۔چنانچہ27،28 دسمبر، 1972ء کو ممبئی میں ایک بڑا اجلاس منعقد ہوا۔ ایک طرف لاکھوں عوام کا مجمع تھا تو دوسری طرف حنفی، شافعی، مقلد، غیر مقلد، دیوبندی، بریلوی، شیعہ، سنی، داؤدی بوہرہ، سلیمانی بوہرہ، جماعت اسلامی ہند،جمعیۃ اہل حدیث اور جمعیت علمائے ہند غرض یہ کہ تمام مسلم فرقوں، مسلکوں اور جماعتوں کے رہنما موجود تھے اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تاسیس پر اتفاق ہوا۔اس میں مولانا علی میاں ؒ نے فرمایا تھا:’’کہ اللہ کا شکر ہے کہ آج شریعت اسلامیہ کی حفاظت کے لیے اگر ایک طرف دیوبندی ہیں تو دوسری طرف بریلوی بھی سر سے کفن باندھ کر آئے ہیں،یہ ملی اتحاد خواہ کسی سبب سے بھی ہوا ہو،مگر خوش آئند ہے۔‘‘ لہٰذا 7 اپریل، 1973ء کو حیدرآباد، دکن میں بورڈ کی باقاعدہ تاسیس عمل میں آئی۔ قاری محمد طیب قاسمیؒ اس کے پہلے صدر اور منت اللہ رحمانیؒ پہلے معتمد عمومی منتخب ہوئے۔مسلم پرسنل لاء بورڈ نے حکومت کے خلاف متبنیٰ بل کے سلسلہ میں عوامی تحریک چلائی۔اور حکومت کو مجبور کیا کہ اس بل سے مسلمانوں کو مستثنی قرار دیا جائے۔چنانچہ حکومت کو بورڈ کی بات ماننا پڑی۔
1978میں شاہ بانو کیس سامنے آیا اور عدالت عظمیٰ کے ذریعہ شریعت میں مداخلت کی گئی ۔اس کے خلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھر پور تحریک چلائی،جس کے نتیجہ میں حکومت کوعدالت کے اس فیصلہ کو کالعدم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں بل پاس کرنا پڑا۔اس کے علاوہ بھی مختلف عدالتوں ،مختلف فاشسٹ تنظیموں ،حکومت کے وزراء کی جانب سے پرسنل لاء کو ختم کرکے یونفارم سول کوڈ کے نفاذ کی بات کہی جاتی رہی ہے ۔موجودہ حکومت اپنے سیاسی اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے اس ایشو کو ہوا دے رہی ہے ۔
’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ یا ’’یکساں شہری قانون‘‘ سے مراد وہ قوانین ہوا کرتے ہیں جو کسی بھی مخصوص خطہ زمین پر آباد لوگوں کی سماجی اور عائلی زندگی کے لیے بنائے گئے ہوں، ان قوانین کے تحت ہر فرد کی شخصی اور خاندانی زندگی کے معاملات آتے ہیں اور نکاح و طلاق، فسخ و ہبہ، وصیت و وراثت اور تبنیت جیسے امور انھیں قوانین کے ذریعہ حل کیے جاتے ہیں، ان قوانین کے نفاذ میں کسی شخص کے مذہب، اس کی تہذیب اور رسم و رواج کا خیال نہیں کیا جاتا، ان چیزوں سے بالکل الگ ہوکر ہر مذہب کے ماننے والے کے لیے ایک قانون ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ ہے۔ اور اسی قانون کے تحت نکاح اور طلاق جیسے امور بھی انجام پاتے ہیں، یعنی سول کوڈ کے ذیل میں وہ سارے امور آجاتے ہیں جن کا تعلق پرسنل لا سے ہوتا ہے۔
مسلمانوں کے لیے ہندوستان میں ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو اپنی مذہبی ہدایات کے خلاف نکاح و طلاق جیسے معاملات انجام دینا ہوں گے، وصیت اور وراثت کے معاملہ میں بھی انھیں اپنی شریعت کے بجائے دوسرے قوانین پر عمل کرنا ہوگا، اسی طرح دوسری مذہبی اقلیتوں کو بھی اپنے مذہبی احکام اور رسوم و رواج کے برعکس،اس نئے قانون کی پابندی کرنا پڑے گی۔اس طرح تمام مذہبی اقلیتوں کے پرسنل لاء معدوم ہوکر رہ جائیں گے۔نیفارم سول کوڈ کی حمایت میں عام طور پر چار دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔
۱) دستور کے رہنما اصول کی دفعہ (۴۴) کے پیش نظر ملک کے تمام باشندوں کا ’’سول کوڈ‘‘ ایک ہونا چاہیے۔ دستور کے یہ رہنما اصول دراصل وہ خاکے ہیں جو ملک کے مستقبل کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ حکومت کو ایسی راہ اختیار کرنی چاہیے جس پر چل کر رہنما اصول کے مقاصد پورے ہوسکیں۔
۲) ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، سیکولرزم کا لازمی تقاضہ ہے کہ ملکی قوانین مذہبی پابندیوں سے آزاد ہوں، اس لیے یونیفارم سول کوڈ کے ذریعہ غیر مذہبی عائلی قوانین کا نفاذ ہونا چاہیے۔
۳) مذہبی قوانین پرانے ہیں، زندگی کی دوڑ میں اب ان کی کوئی افادی اہمیت باقی نہیں رہ گئی ہے، وہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں، نہ ان میں سماجی پیچیدگیوں کے حل کرنے کی صلاحیت ہے، بدلتے ہوئے سماج کے لیے منجمد تعلیمات کا قدیم مجموعہ کبھی بھی مفید نہیں ہوسکتا، اس لیے ’’مذہبی قوانین‘‘ کی جگہ نئے قوانین کو نافذ کرنا ضروری ہے تاکہ ایک طاقت ور سماج کی تشکیل ہوسکے۔
۴) ہندوستان میں مختلف مذہب کے ماننے والے موجود ہیں، ان میں یکجہتی کے جذبہ کو فروغ دینے اور اتحاد کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے شخصی قوانین یکساںہوں۔
حالانکہ یہ چاروں باتیں غیر معقول ہیں ۔اس لیے کہ رہنما اصولوںمیں یہ بات بھی درج ہے کہ یونیفارم سول کوڈ کسی پر زبردستی ،بزور قوت نہیں تھوپا جائے گا،سیکولرزم کا مطلب ہے کہ حکومت کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوگا وہ جملہ مذاہب کا یکساں احترام کرے گی ،مذہب کوئی الکٹرانک مشین نہیں ہے کہ پرانی ہوجانے پر کام کرنا چھوڑ دے۔’’منجمد تعلیمات کاقدیم مجموعہ ‘‘ کا لفظ اسلام کے لیے مناسب نہیں کیوں کہ اس کے قوانین سدا بہار ہیں ۔ہندوستان مسلمانوں کی آمد کے بعدسے یکجہتی کے باب میں مضبوط ہوا ہے ۔ یکجہتی کا تعلق اس بات سے نہیں ہے کہ تمام لوگ ایک ہی مذہب کے ماننے والے ہوں ،یہ تو اخلاقی اقدار کی مضبوطی سے قائم رہتی ہے۔
اس وقت ایک مرتبہ پھر یکساں سول کوڈ کی تلوار ملک کی مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے سر پر لٹک رہی ہے ۔جو تمام اقلیتی تہذیبوں کے لیے سم قاتل ہے ۔لاء کمیشن آف انڈیا نے اس سلسلہ میں ایک ریفرنڈم شروع کردیا ہے ۔جس کا وقت صرف ایک ماہ ہے ۔لاء کمیشن کی عجلت پسندی سے حکومت کی نیت پر شک پیدا ہونا لازمی ہے ۔ہماری ذمہ داری ہے کہ لاء کمیشن کے ریفرنڈم میں حصۃ لیتے ہوئے یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت کریں۔لاء کمیشن پر وقت بڑھانے کے لیے دبائو بنائیں ،مختلف اقلیتوں کا ایک بورڈ تشکیل دیں ،سیاسی جماعتوں پر اس کی مخالفت کے لیے اثر انداز ہوں اور مسلم تنظیمیں اسلامی عائلی قوانین کی صداقت و حقانیت اور افادیت کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔
