لکھنؤ: ملک کی ممتاز دینی و علمی شخصیت اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاد حضرت مولانا مفتی رحمت اللہ ندوی صاحب کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک اہم علمی و فکری ورکشاپ میں لکچر دینے کے لیے مدعو کیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے شعبہ "تفہیمِ شریعت” کے زیرِ اہتمام 19 اور 20 مئی 2026ء کو ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں ایک دوروزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ائمہ کرام اور دانشوروں کو مسلم پرسنل لا پر ہونے والے اعتراضات کے مدلل جوابات دینے کی تربیت فراہم کرنا ہے۔

بورڈ کے سکریٹری مولانا بلال عبدالحی حسنی نے مفتی رحمت اللہ ندوی کو بھیجے گئے دعوت نامے میں ان کی علمی بصیرت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں "اسلام کا نظامِ میراث” کے عنوان پر لکچر دینے کی درخواست کی ہے۔ وراثت کا یہ موضوع موجودہ دور میں نہایت اہمیت کا حامل ہے، اور مفتی صاحب اس پیچیدہ فقہی مسئلے کی جدید تناظر میں وضاحت کریں گے۔

مفتی رحمت اللہ ندوی کا شمار ان چنندہ اہل علم میں ہوتا ہے جو شریعت کے باریک مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ علمی حلقوں نے بورڈ کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مفتی صاحب کے خطاب سے ورکشاپ کے شرکاء کو اسلام کے عادلانہ نظامِ وراثت کو سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے میں بڑی مدد ملے گی۔

یہ ورکشاپ مئی کے وسط میں منعقد ہوگی جس میں ملک بھر سے ائمہ اور علماء کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے