کرناٹک کی دوسری بڑی زبان اردو او ردیگر زبانیں باہر
بیدر۔ یکم مئی (محمدیوسف رحیم بیدری): اخباری اطلاعات کے مطابق بنگلور سٹی پولیس نے ملک میں پہلی مرتبہ 112ایمرجنسی ریسپانس سسٹم (ERS) کو کثیرلسانی ٹیکنالوجی کے ساتھ متعارف کراتے ہوئے دعویٰ کیاگیاہے کہ ایک اہم سنگ میل پار کیاہے۔ اس جدید نظام کا افتتاح وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور اور ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایم اے سلیم کے ہاتھوں پولیس کمشنر دفتر بنگلور میں عمل میں آیا۔ اس نئی سہولت کے تحت اگر کوئی شہری 112پر کال کرتاہے اور زبان کی رکاوٹ درپیش ہوتو کال خود کار طورپر کال کرنے والے کی زبان میں ترجمہ کرے گی۔ پولیس کے مطابق بنگالی، گجراتی، اڑیہ، منی پوری، کشمیری، نیپالی اور آسامی زبانوں کے علاوہ غیرملکی تین زبانوں ہسپانوی، فرانسیسی اور عربی اس طرح 10زبانوں میں ایمرجنسی ریسپانس سسٹم کام کرے گا۔ اس سسٹم میں پہلے سے ریاست کی سرکاری زبان کنڑا شامل ہے۔ اور ریاست کرناٹک کی دوسری سب سے بڑی زبان اردو اور اسی طرح پڑوسی ریاستی زبانیں تمل، ملیالم، تیلگو اورمراٹھی شامل نہیں ہیں تو اس کی کیاوجہ ہوسکتی ہے؟ اگر ہم بنگلور کی بات کریں تو بنگلورو میں اردو، تمل، ملیالم، تیلگو اور مراٹھی بولنے والے مذکورہ زبانوں سے زیادہ ہیں۔ تلو زبان تو خود ریاست کرناٹک کی زبان ہے، جو اس میں شامل نہیں ہے۔ اور سب سے بڑھ کر سامنے کی بات یہ ہے کہ اردو زبان کو 112خدمات میں شامل نہ کرنے کی وجہ کیاہوسکتی ہے؟ اردو بولنے والوں کو یہ خدمات نہیں دی جائے گی تو اس کاسبب وزیر داخلہ جی پرمیشور اور پولیس سربراہ ڈاکٹر ایم اے سلیم بتاسکتے ہیں؟ سناہے کہ ڈاکٹر ایم اے سلیم تو محبِ اردو ہیں اور اردو کتابیں آج بھی پڑھتے ہیں۔ جب سے یہ خبر سامنے آئی ہے، اردو ہی نہیں تمل، ملیالم، تیلگو، تلو اور مراٹھی بولنے والوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔
