اسماعیل قمر بستوی

مسجدیں خالی ہیں اب بھیڑہے بازاروں میں

یہ خبر آج ہی چھپوادو تم اخباروں میں

سوچکی قوم مری چادرِ غفلت اوڑھے

کل کبھی نام تھا جس کایہاں بیداروں میں

وہ گداگر نہیں دنیا میں کیا حاکم ہوگی

عیب ہی عیب ہوجس قوم کےکرداروں میں

جن سے دنیا میں ادا ہی نہیں ہوتے سجدے

نام ان کا بھی ہے جنت کے طلبگاروں میں

سر اٹھا کر انھیں جینے کامزا کیا معلوم

سر جھکائے جو کھڑے آج ہیں درباروں میں

ہوش میں آئے گی کب قوم نہیں ہے معلوم

یہ ابھی مست ہےپازیب کی جھنکاروں میں

آج بیدار وہی لوگ ہیں دنیا میں قمر

نام جن کا کہ سیاست کےہے گلیاروں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے