مسرت جہاں
عالم اسلام اس وقت جس انتشار، خلفشار، بے یقینی اور عدم استحکام کا شکار ہے، وہ کسی ایک دن، کسی ایک حادثے یا کسی ایک سیاسی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی عمل کی پیداوار ہے۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ امتِ مسلمہ، جو کبھی اتحاد، قوت، فکری برتری اور تہذیبی وقار کی علامت تھی، آج داخلی اختلافات، سیاسی کمزوریوں، معاشی انحصار اور بیرونی دباؤ کے درمیان گھری ہوئی ہے۔ اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس مسئلے کا سنجیدہ، غیر جذباتی، متوازن اور تحقیقی جائزہ لیں، تاکہ ہم جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ نتائج تک پہنچ سکیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے اپنے آغاز ہی سے ایک ایسی عالمی برادری کی بنیاد رکھی جس میں رنگ، نسل، زبان، جغرافیہ اور قبائلی تفریق کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اسلام نے انسان کو انسان سے جوڑا، مساوات کا تصور دیا اور ایک ایسی اجتماعی شناخت عطا کی جسے امت کہا گیا۔ یہی وہ وحدت تھی جس نے صحراؤں میں بکھرے قبائل کو ایک منظم قوت میں تبدیل کر دیا۔ مدینہ کی ریاست سے لے کر خلافتِ راشدہ تک، پھر بنو امیہ، بنو عباس اور خلافتِ عثمانیہ تک مسلمانوں نے نہ صرف وسیع علاقوں پر حکمرانی کی بلکہ علم، فلسفہ، سائنس، طب، فنون، قانون اور تہذیب کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ بغداد، دمشق، قرطبہ، قاہرہ اور استنبول جیسے شہر علم و دانش کے مراکز بنے۔ اس دور میں اتحاد ہی ان کی سب سے بڑی طاقت تھا۔
مسلمانوں کی ترقی کا راز صرف عسکری قوت نہ تھا بلکہ ان کی فکری تازگی، علمی ذوق، اخلاقی اصول، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور بھی تھا۔ جب ایک قوم کے اندر مقصدیت ہوتی ہے تو وہ دنیا کی قیادت کرتی ہے۔ مسلمان صدیوں تک اسی اصول پر قائم رہے۔ انہوں نے مختلف نسلوں، زبانوں اور علاقوں کو ایک وسیع تہذیبی دائرے میں جمع رکھا۔ اسی لیے ان کے دور کو انسانی تاریخ کے روشن ادوار میں شمار کیا جاتا ہے۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ داخلی کمزوریاں ابھرنے لگیں۔ اقتدار کی کشمکش، سلطنتوں کے درمیان رقابت، فرقہ وارانہ اختلافات، ذاتی مفادات، عیش پرستی، علمی جمود اور عدل و انصاف سے دوری نے اس مضبوط نظام میں دراڑیں ڈال دیں۔ جب کسی قوم کے اندر سے اس کی فکری، اخلاقی اور انتظامی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں تو بیرونی طاقتوں کے لیے اس پر غلبہ حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہی کچھ مسلم دنیا کے ساتھ بھی ہوا۔
یورپ میں سائنسی انقلاب، فکری بیداری اور صنعتی ترقی نے مغربی اقوام کو نئی قوت عطا کی۔ انہوں نے جدید اسلحہ، بحری طاقت، صنعتی پیداوار اور معاشی تنظیم کے ذریعے دنیا پر اثر و رسوخ بڑھایا۔ ایشیا اور افریقہ میں نوآبادیاتی نظام قائم ہوا۔ مسلم دنیا جو اس وقت داخلی طور پر کمزور ہو چکی تھی، ان طاقتوں کا آسان ہدف بن گئی۔ ایک کے بعد ایک مسلم خطے بیرونی تسلط میں آتے گئے۔ کہیں براہِ راست قبضہ ہوا، کہیں سیاسی اثر و رسوخ قائم کیا گیا اور کہیں معاشی انحصار کے ذریعے کنٹرول حاصل کیا گیا۔
’’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی اس سلسلے کی سب سے مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہوئی۔ اس کے تحت مسلمانوں کو مذہبی، نسلی، لسانی اور جغرافیائی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا۔ مصنوعی سرحدیں قائم کی گئیں جنہوں نے نہ صرف زمینوں کو بلکہ دلوں کو بھی جدا کر دیا۔ برصغیر میں ہندو مسلم اختلافات کو ہوا دینا ہو، عرب دنیا کی نئی نقشہ بندی ہو، افریقہ میں قبائلی تقسیم ہو یا وسط ایشیا میں سیاسی بندشیں، ہر جگہ یہی پالیسی کارفرما نظر آتی ہے۔
خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ اس عمل کا ایک اہم سنگِ میل تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ مرکزی نظام ختم ہو گیا جو صدیوں سے مسلمانوں کو ایک لڑی میں پروئے ہوئے تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد سلطنتِ عثمانیہ ٹوٹ گئی اور اس کے حصوں کو مختلف طاقتوں کے زیرِ اثر نئی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس تقسیم کے نتیجے میں مسلم دنیا چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گئی، جن میں اکثر باہمی تعاون کے بجائے اختلافات کو فروغ ملا۔ یہی تقسیم آج بھی مسلم ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی، سرحدی تنازعات اور عدم اعتماد کی صورت میں موجود ہے۔
مغربی استعمار کا اثر صرف سیاسی نہ تھا بلکہ فکری اور ثقافتی سطح پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ تعلیمی نظام، زبان، ذرائع ابلاغ اور سماجی اداروں کے ذریعے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس میں مغرب کو ترقی، عقلانیت اور برتری کی علامت جبکہ مشرق کو پسماندگی، جذباتیت اور کمزوری کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں مسلم معاشروں میں احساسِ کمتری اور فکری انحصار پیدا ہوا۔ بہت سے معاشرے اپنی تہذیبی جڑوں سے دور ہوتے گئے اور دوسروں کی فکری نقالی کو ترقی سمجھنے لگے۔
عصرِ حاضر میں میڈیا اور عالمی بیانیہ اس عمل کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کو اکثر منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ چند افراد یا گروہوں کے اعمال کو پوری امت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف عالمی سطح پر تعصب بڑھتا ہے بلکہ خود مسلم دنیا میں بھی ذہنی انتشار پیدا ہوتا ہے۔ نوجوان نسل ایک طرف اپنی شناخت کے سوال سے دوچار ہے اور دوسری طرف جدید دنیا میں مقام حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ اس صورتِ حال نے امت کے اندر اعتماد کی کمی، فکری بے سمتی اور مزید تقسیم کو جنم دیا ہے۔
تاہم ایک سنجیدہ تجزیہ یہ بھی بتاتا ہے کہ تمام تر ذمہ داری بیرونی قوتوں پر ڈال دینا حقیقت کا ادھورا ادراک ہے۔ مسلم دنیا کے اندر موجود مسائل جیسے کمزور حکمرانی، بدعنوانی، ناانصافی، تعلیمی پسماندگی، فرقہ واریت، اقربا پروری، ادارہ جاتی کمزوری اور باہمی عدم تعاون بھی اس زوال میں برابر کے شریک ہیں۔ جب ریاستیں اپنے شہریوں کو انصاف، تعلیم، روزگار اور تحفظ فراہم نہ کر سکیں تو بیرونی مداخلت کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔
مسلم دنیا کے کئی ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، مگر اس کے باوجود عوام غربت، بے روزگاری اور عدم استحکام کا شکار ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ بہتر حکمرانی کی کمی ہے۔ جہاں قانون کی حکمرانی کمزور ہو، احتساب غیر مؤثر ہو، اور قومی وسائل چند ہاتھوں میں محدود ہو جائیں، وہاں ترقی پائیدار نہیں رہتی۔
ایک اور اہم مسئلہ باہمی عدم اعتماد ہے۔ امتِ مسلمہ کے مختلف ممالک کے درمیان تجارت، تعلیم، سائنس، دفاع اور ثقافت کے میدان میں جتنا تعاون ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہو سکا۔ اکثر ممالک ایک دوسرے کو حریف سمجھتے ہیں، شریک نہیں۔ اگر یورپی ممالک صدیوں کی جنگوں کے بعد تعاون کے ادارے بنا سکتے ہیں تو مسلم دنیا کیوں نہیں؟ یہ سوال ہمارے لیے غور طلب ہے۔
فرقہ وارانہ کشیدگی بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔ مذہبی اختلافات کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں معاشرے تقسیم ہوئے، ریاستیں کمزور ہوئیں اور بیرونی قوتوں کو مداخلت کا موقع ملا۔ اسلام کی اصل تعلیم اخوت، عدل اور رواداری ہے، مگر عملی دنیا میں ان اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔ جب دین کو اصلاح کے بجائے سیاست کا ہتھیار بنایا جائے تو انتشار بڑھتا ہے۔
تعلیم کا بحران بھی نہایت اہم ہے۔ کئی مسلم ممالک میں تعلیم کا معیار کمزور ہے، تحقیق کے مراکز محدود ہیںاور جدید سائنس و ٹیکنالوجی میں خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کی جاتی۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان اس وقت ترقی یافتہ تھے جب وہ علم کے علمبردار تھے۔ آج بھی اگر امت کو دوبارہ عزت حاصل کرنی ہے تو اسے تعلیم، تحقیق، اختراع اور فکری آزادی کو فروغ دینا ہوگا۔
معاشی خود انحصاری بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب کوئی قوم خوراک، ٹیکنالوجی، صنعت، اسلحہ، ادویات اور مالی نظام میں دوسروں کی محتاج ہو تو اس کی سیاسی آزادی بھی محدود ہو جاتی ہے۔ مسلم ممالک اگر اپنے وسائل، منڈیوں اور انسانی صلاحیتوں کو باہم جوڑ لیں تو وہ ایک بڑی معاشی قوت بن سکتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امتِ مسلمہ اپنی تاریخ سے سبق سیکھے اور ایک نئی فکری و عملی حکمتِ عملی اختیار کرے۔ محض ماضی کے کارناموں پر فخر کافی نہیں، حال کے مسائل کا حل اور مستقبل کی تیاری ضروری ہے۔ تعلیم اور شعور کو فروغ دینا، سائنسی میدان میں سرمایہ کاری، معاشی تعاون، نوجوان نسل کی تربیت، خواتین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا، انصاف پر مبنی حکمرانی قائم کرنا اور باہمی اتحاد کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ایک متوازن اور مثبت بیانیہ پیش کرنا بھی ناگزیر ہے۔ مسلم دنیا کو صرف ردِعمل کی سیاست سے نکل کر تخلیقی کردار ادا کرنا ہوگا۔ دنیا کو یہ دکھانا ہوگا کہ اسلام صرف ایک مذہبی شناخت نہیں بلکہ عدل، علم، خدمتِ خلق، اخلاق اور انسانی وقار کا پیغام ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی تقسیم ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں داخلی کمزوریاں اور بیرونی استعمار دونوں شامل ہیں۔ اس مسئلے کا حل بھی اسی وقت ممکن ہے جب ہم جذبات کے بجائے شعور، تحقیق اور اصلاح کی بنیاد پر اپنے حالات کا جائزہ لیں۔ اگر امت اپنی اصلاح کرے، اتحاد کو اپنائے، اختلاف کو تہذیب میں بدلےاور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق خود کو ڈھالے تو وہ دوبارہ ایک مؤثر اور باوقار مقام حاصل کر سکتی ہے۔
آج کا اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کو سنوارنے کے لیے تیار ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو امت کا زوال مقدر نہیں، ایک عارضی مرحلہ ہے۔ اگر جواب نفی میں ہے تو وسائل، آبادی اور تاریخ کے باوجود کمزوری ہمارا تعاقب کرتی رہے گی۔ تاریخ نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے، اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس میراث کو بیداری میں بدلتے ہیں یا حسرت میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مضمون نگار ماہر تعلیم اور سیاسی تجزیہ کار ہیں )
