بیدر۔ 3/مئی (پریس ریلیز): جینئس کڈس کلب نئی کمان بیدر کی جانب سے آج 3/مئی اتوار کو آزادی ء اظہار کے عالمی دن (World Press Freedom Day)کے موقع پر اردو صحافیوں کے ساتھ ایک تقریب کااہتمام کیاگیاجس میں جینئس کڈس کلب کے چیرمین جناب محمد عبدالجمیل صاحب نے اپنی جانب سے حاضر صحافیوں کی شالپوشی اور گلپوشی کے ذریعہ انہیں تہنیت پیش کی اور تحفہ میں فائل دی۔ بعدازاں  آزادی ء اظہار کے عالمی دن کے حوالے سے مکالمہ کیاگیاجس میں حصہ لیتے ہوئے سینئرصحافی جناب عبدالصمد منجووالا نے کہاکہ ”صحافت بے باکانہ طریقے سے انجام دینے کانام ہے۔ دباؤ میں کی جانے والی صحافت کو صحافت کہنا مشکل ہے۔ صحافت کے اساتذہ نے ہم کو بتایاتھاکہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور ہاتھوں سے لکھنے، اور کوئی رکاوٹ آتی ہے تو ہر سطح پر اس کامقابلے کے لئے تیار رہنا،اور سچ لکھنا ہی صحافت ہے۔ خوف یاڈر کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔ جب میں نے عیدگاہ بیدر کے معاملے میں لکھاکہ عیدگاہ کے احاطہ میں شادی خانہ نہیں بنایاجاسکتا ہے، یہ منشائے وقف کے خلاف ہے۔ تب مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں تک دی گئیں۔ میں نے کہہ دیاتھاکہ آپ جوچاہیں کریں، میں نے جو لکھاوہ درست لکھاہے۔ لیگل نوٹس بھیجناہے تو ضرور بھیجیں۔ صحافی کاکام دراصل حقائق لکھناہوتاہے۔ جناب یوسف رحیم صاحب نے بیدر کی ایک درگاہ کے احاطہ میں زیر تعمیر فنکشن ہال کے بارے میں لکھاتو ان کے خلاف درگاہ کے ذمہ داروں نے پولیس میں شکایت کی جب کہ جو حقائق تھے انھوں نے اپنی رپورٹ میں اس کااظہار کیاتھا۔
اردو کے سینئر صحافی جناب محمد شجا ع الدین نے اس موضوع پر مکالمہ جاری رکھتے ہوئے کہاکہ شہر بیدر میں اس قدر کثرت سے اسکول اور کالجس ہیں کہ بیان کے باہر ہے لیکن کسی نے بھی ”ورلڈپریس فریڈم ڈے“ نہیں منایا۔ میں جمیل صاحب کو مبارک باد پیش کرتاہوں کہ انھوں نے اردو صحافیوں کواپنے ہاں مدعو کیا۔ تہنیت اور اس دن کی مبارک باد پیش کی۔ ہندوستان کی آزادی سے لے کر آج تک اردو صحافی کاکسی نے ہاتھ نہیں پکڑا۔ الیکٹرانک میڈیا میں پڑھے لکھے افراد ہیں لیکن سوشیل میڈیا کی حالت ناگفتہ بہہ ہے۔ صحیح اور غلط کو دیکھے بغیر صحافت نہیں کی جاسکتی۔ انھوں نے افسوس کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ آج کل پرنٹ میڈیا (اخبارات) کی حالت خستہ ہوچکی ہے۔ اردو، انگریزی، کنڑی، ہندی، تیلگواور مراٹھی اخبارات کی فروخت آدھی ہوکر رہ گئی ہے۔ میری اردو داں طبقہ سے گزار ش ہے کہ وہ کم ازکم ایک اردو اخبار خریدیں اور اس کو اپنے مطالعہ میں رکھیں۔ اسی عمل سے اردوصحافت کی بنیادی مدد کی جاسکتی ہے“
اردو صحافی جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے مکالمہ کی شروعات میں کہاکہ آپ مانیں یانہ مانیں، صحافیوں کوحکومتوں نے ڈرا رکھاہے۔ صحافیوں پر حملہ ہوسکتاہے۔ کیس بھی ہوسکتاہے، وہ غائب بھی کئے جاسکتے ہیں۔ بے وجہ کاعوامی غیض وغضب اور حکومتی ناانصافی کاسامناصحافیوں کوکرنا پڑرہاہے۔بیجاپور کے ایک اردو صحافی کے گھر کو جلانے کاعزم کیاگیاتھا۔ لہٰذا عوام سے اپیل ہے کہ وہ براہ کرم صحافت اور صحافیوں کادل سے ساتھ دیں۔ صحافت کی طاقت کو سمجھیں۔ صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔اور جمہوریت کی بقا اور اس کے استحکام کے لئے صحافت ضروری ہے۔ صحافت سے متعلق جو بھی منفی باتیں ہیں وہ گودی میڈیا کی دین ہیں۔ اس خراب تصویرکو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ پریس فریڈم ڈے پر یہی پیغام میرااپناہے۔
   سینئر صحافی جناب سید یداللہ حسینی نے جینئس کڈس کلب کے چیرمین جناب محمد عبدالجمیل کا شکریہ اداکرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیاکہ اس طرح کی مزید تقاریب توقع ہے کہ جمیل صاحب آئندہ بھی منعقد کریں گے۔
جناب محمد عبدالجمیل چیرمین جینئس کڈس کلب بید رنے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ پریس کے بارے میں مجھے زیادہ علم نہیں ہے لیکن ٹیوٹر (موجودہ ایکس) پر ری ایکٹ کرتارہتاہوں۔ایک رپورٹ میں بتایاگیاکہ اسرائیل کی جانب سے 253صحافیوں کاقتل کیاگیاہے تو میں نے تجویز پیش کی کہ نتن یاہو کی ویڈیوز نہ دکھائے جائیں۔ البتہ نتن یاہو کا پیغام ضرور دنیا تک پہنچے۔ ویڈیو نہ دکھاکر احتجاج درج کیاجاسکتاہے۔ کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس نے صر ف پیغام دکھایا،اور چند دِن تک ویڈیوزنہیں دکھائیں۔ موصوف نے اپنے کڈس کلب کی بابت بتایاکہ یہاں نرسری سے بچوں کو الف ب سکھائے جاتے ہیں۔ جب کہ انگلش اور حساب بنیادی ہوتے ہیں۔ اہل بیدر کے جو بھی مشورے ہیں وہ ہمیں قبول ہیں، ہم پوری کوشش کریں گے کہ نئی نسل جینئس کڈس کلب کے توسط سے پختہ علم حاصل کرے۔ اور خوب ترقی کرے۔ موصوف نے صحافیوں کے علاوہ حافظ انس عارض، حافظ محمد حمزہ عافی، محمد خزیمہ خیر، محمد عمیس خیر کا بھی شکریہ اداکیا۔ تمام صحافیوں کو کڈس کلب کی کلاسیس بتائی گئیں اور کہاگیاکہ وہ پروجیکٹر کے ذریعہ بھی طلبہ کی تربیت کرتے ہیں۔ پروگرام کاآغاز حافظ حمزہ عافی کی تلاوت قرآن سے ہواتھا۔ شکریہ پرتقریب کا اختتام عمل میں آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے