انسان کو علم ہی اللہ سے جوڑ تا ہے، علم کا حصول وقت کا تقاضہ! مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی

سہارنپور 7 مئی(احمد رضا): جامعۃ الطیبات حبیب گڑھ سہارنپور میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قومی سیکریٹری، ممتاز عالم دین حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی تشریف آوری کے موقع پر ایک پروقار اور خصوصی تہنیتی و اصلاحی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس نشست کی صدارت معروف علمی و ادبی شخصیت، صاحبِ طرز خطیب و قلم کار مفتی محمد صادق مظاہری (چیئرمین برائٹ ایجوکیشنل اینڈ کلچرل سوسائٹی و شیخ الحدیث معہد اصغر جامعۃ الصالحات رسولپور) نے فرمائی۔ پروگرام کا آغاز  جامعہ کی طالبہ عزیزہ رہنما اشرف نے نہایت پرسوز آواز میں تلاوتِ کلام پاک سے کیا۔ اس کے بعد علمہ مہردین نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانہٗ عقیدت پیش کیا۔پروگرام کے مہمانِ خصوصی حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں علم، اخلاق اور معاشرتی ذمہ داریوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا: کامیابی کا معیار دولت یا شہرت نہیں، بلکہ اللہ کے نزدیک وہی لوگ سرخرو ہوں گے جن کے اخلاق و کردار بلند ہوں گے اور جن کے دلوں میں خشیتِ الہٰی ہوگی۔”
انہوں نے علم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے علم کی ضرورت ہے جو بندے کا رشتہ اپنے خالق سے استوار کرے اور اسے ایک بہترین انسان بنائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وہ علم جو معاشرے میں فتنے اور بگاڑ کا سبب بنے، وہ حقیقی علم نہیں ہے۔ مولانا نے خاص طور پر طالبات اور خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "شرم و حیا اور پردہ مسلم خاتون کی حقیقی شناخت اور وقار ہے۔” انہوں نے موجودہ دور کے نت نئے فتنوں سے خود کو بچانے اور اسلامی اقدار پر سختی سے کاربند رہنے کی تلقین فرمائی۔
انہوں نے جامعۃالطیبات کا تعلیمی نظام ،نظم و نسق کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور جامعہ کے ناظم حضرت مولانا محمد یعقوب بلند شہری صاحب کو مبارکباد پیش کی۔
اپنے صدارتی خطاب میں مفتی محمد صادق مظاہری نے کہا کہ تعلیم ہی وہ زینہ ہے جس پر چڑھ کر انسان ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی تعلیم حاصل کی جائے جس کا اثر انسان کی شخصیت اور گفتگو سے ظاہر ہو، تاکہ دنیا اسے دیکھ کر کہے کہ یہ ایک مہذب اور تعلیم یافتہ فرد ہے۔ انہوں نے دینی و اسلامی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔پروگرام کے روحِ رواں اور مفکرِ ملت حضرت مولانا محمد یعقوب بلند شہری صاحب کے صاحبزادے، حضرت قاری سعید الظفر صاحب نے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جامعۃ الطیبات کے تعلیمی نظام، نظم و نسق اور طالبات کی اخلاقی تربیت کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کی اور ادارے کے مقاصد پر روشنی ڈالی اس اہم نشست میں خاص طور پر۔۔۔۔۔  حضرت قاری محمد اسماعیل تھانوی (مہتمم جامعہ ارشاد البنات، دیوبند) مولانا عبدالماجد بنٹہ، مولانا محمود الظفر ندوی، قاری عبدالسبحان رحمانی قاری شاہ جہاں، مولانا سعود الظفر مظاہری، بھائی عبداللہ (کپڑے والے)، قاری محمد دانش۔خواتین کے حلقے میں جامعہ کی ناظمہ عائشہ صدیقہ، پرنسپل کریم بانو، رابعہ افتخار، دانشتہ عاقل، ناظرین نسیم، ثناء جبیں، عافیہ رحمن، علمہ نور، زینب خدیجی ڈاکٹر فرح صدیقی اور شبنور قاسمیہ کے علاوہ بڑی تعداد میں معلمات، طالبات اور شہر کی معزز خواتین موجود تھیں۔پروگرام کا اختتام نہایت رقت آمیز دعا پر ہوا، جس میں ملک و ملت کی سلامتی اور مولانامحمد یعقوب بلند شہری کیلئے شفایابی  اور طالبات کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے