"مسلمانوں کوورچوئل قربانی کرنی چاہیے "مہاراشٹر کے ایک سیاستدان نے ملک کے مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا ہے۔یعنی مجازی طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے قربانی کا عمل انجام دیں ، یا بکرے کی شکل کا کیک کاٹ لیں اور یہ تسلی کرلیں کہ ہم نے قربانی کرلی ہے۔میرے علم کے مطابق ورچوئل قربانی کا مسئلہ پہلی بار اپنے ملک میں اٹھایا گیا ہے۔آج ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے،ہرچیز میں انٹرنیٹ کا سہارا لیا جاتا ہے،اور سب کچھ آن لائن ہورہا ہے۔ورچوئل کلاس ہوتا ہے،ورچوئل مٹنگیں ہوتی ہیں،تو ورچوئل قربانی کیوں نہیں ہوسکتی یے؟شاید موصوف نے یہ سوچ کر وطن عزیز میں رہنے والے مسلمانوں کو یہ نصیحت دی ہے. ڈیجیٹل انڈیا کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے مسلمانوں کو بھی ڈیجیٹل بنانے کی کوشش کی ہے۔اس پر ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ اسلام میں قربانی کی حقیقت کیا ہے،اور ہرسال جانور ذبح کرکے ہی یہ عبادت کس لئے انجام دی جاتی ہے؟
مذہب اسلام یہ آخری دین ہے آج سے چودہ سو سال
پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان فرمایاکہ:قربانی کے دن اللہ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب عمل کوئی نہیں ہے”یہ ترمذی شریف کی حدیث ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج ہی کے دن کے لئےاور ورچوئل قربانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسقدر کھل کر اور کھول کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات پیش فرمائی ہے کہ "خون بہانا” یہ قربانی ہے،اور ورچوئل طور پر قربانی نہیں دی جا سکتی ہے۔
یہ کہنے کی بات نہیں ہے،سبھی جانتے ہیں کہ مذہب اسلام میں جانوروں پربھی رحم کی تعلیم دی گئی ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جارہا ہے اس پربھی رحم کرنےاور نرمی کرنے کا حکم ہے۔ جانور کی قربانی سے پہلے چھری کوتیز کرنے کی تعلیم دی گئی ہےتاکہ ذبح میں سہولت و آسانی پیدا ہو،نیز جانورکو کم سے کم تکلیف ہو، مگر اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ جانورکو ذبح ہی نہ کرے اور اس کےبدلے اس کی قیمت ہی صدقہ کردے۔ایسا کرنے پر قربانی کا مطلوب جو خون بہانا ہے وہ مفقود ہورہا ہے۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قربانی سے خون کا گہرا رشتہ ہے۔قربانی اور خون یہ دونوں لازم وملزوم ہیں۔ یوں تو مذہب اسلام کا معنی ہی قربانی ہے،ہروہ عمل جو ایک صاحب ایمان اسلام کی حفاظت و اشاعت کے لئے کرتا ہے وہ اس کی طرف سے قربانی کہے جانے کے قابل ہے اور اس پر اجر کثیر کا وعدہ بھی ہے، مگر عیدالاضحٰی والی قربانی کا مذہب اسلام میں بغیر اہراق دم کے تصور نہیں ہے۔یہ ایک صاحب ایمان کی طرف سے خون کا نذرانہ ہےجو اس عظیم واقعہ کی یادگار ہے جسمیں خون بہایا گیا ہے۔
قرآن کریم میں یہ پورا واقعہ لکھا ہوا ہے اور اس کو خود اللہ رب العزت نے بہت بڑا امتحان کہاہے۔خدا کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی خوشنودی کے لئے اپنی سب سے پیاری چیز اکلوتی اولاد کی گردن پر چھری چلائی ہے،چونکہ خدا کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذبح ہونا مقصود نہ تھا بلکہ اپنےخلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لینا مقصود تھا،چنانچہ جب وہ اس بڑے امتحان میں کامیاب ہوگئےتو اللہ رب العزت نے حضرت جبریل علیہ السلام کو جنت سے ایک مینڈھا بھیجا جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح ہوا،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ پر اس کا خون بہایا گیا،نیز قیامت تک کے لئے اس عمل کو اللہ رب العزت نے یادگار بنادیا۔اسی واقعے کی دنیا بھر کے مسلمان قربانی کے دنوں میں نقل کرتے ہیں ۔اور قرآن میں اس بات کا باضابطہ اعلان ہے:اور ہم نے ایک بہت بڑی قربانی کے ساتھ اس کا فدیہ کردیا، اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں اس کا ذکر خیر برقرار رکھا، (الصافات )
یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے،یہ خون کا نذرانہ ہے،اس لئے یہاں خون بہانا عبادت ہے۔شریعت میں ایک صاحب ایمان کو قربانی کا جانور خود اپنےہاتھ سے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ اللہ کی راہ میں خون بہانے والے نیک بندوں کی فہرست میں شامل ہوجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہی رہا ہے کہ آپ خود اپنے ہاتھوں سے قربانی فرماتے اور تکبیر کہتے۔ اسی لئے یہ مسنون ہے کہ آدمی اپنے ہاتھ سے جانور ذبح کرے یا کم از کم اس موقع پر حاضر رہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا:اے فاطمہ!اٹھو اور اپنی قربانی ادا ہوتے ہوئے دیکھو، بیشک جانور کے خون کا پہلا قطرہ بہتے ہی تمہارے تمام گناہ بخش دئے جائیں گے،( رواہ الحاکم فی المستدرك)
مذکورہ بالا احادیث کے علاوہ بہت سی روایات میں خون کا تذکرہ ملتا ہے، کہیں خون بہانا، کہیں خون گرنا، کہیں خون دیکھنا، ان تمام روایات سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ خدا کومحض خون ہی مطلوب ہےاور قربانی کا خون بھی خدا کے حضورپہونچتا ہے تو اس فکر کی اصلاح اور درستگی کے لئے قرآن شریف کی یہ آیت نازل ہوئی کہ :اللہ تک نہ قربانی کے جانور کا گوشت پہونچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس تک تمہارا تقوی پہونچتا ہے،( الحج)
مذکورہ آیت کا مدعا یہی ہے کہ جانور کے خون بہانے سے جو ایک صاحب ایمان کے اندر جذبہ پیدا ہوتا ہے اور تقوی پیدا ہوتا ہے یہ چیزیں خدا کے حضور پہونچتی ہیں۔
قربانی کے جانور کے خون بہانے کی ایک بڑی وجہ صاحب ایمان کو بزدلی وکم ہمتی سے باہر نکالنا بھی ہے۔آج مشاہدہ میں یہ بات آرہی ہے کہ انسان دل کے اعتبار سے بہت ہی کمزور ہوتا چلا جارہا ہے،وہ اپنی جان کا نذرانہ کس طرح پیش کرسکتا ہے جبکہ خون دیکھتے ہی بیہوش ہوجاتا ہے۔شاید کیک کے بکرے کا مشورہ دیکر درحقیقت مسلمانان ہند کو پست ہمت اور بزدل بنانے کی ناپاک کوشش بھی ہے،یہ بات اس لئے کہی جاسکتی ہے کہ اس وقت مختلف موضوعات پر مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کا عمل جاری وساری ہے،ایسے وقت میں قربانی کی اہمیت اور دوچند ہوجاتی ہے۔ درحقیقت اسی خوف سے نکلنے اور بزدلی ترک کرنے کے لئے قربانی والی عبادت مشروع کی گئی ہے۔ قربانہ کیا ہے؟دین کی حفاظت کے لئے وقت پڑے تو اپنی سب سے قیمتی چیز حتى کہ اپنے خون کا نذرانہ پیش کردینے کا نام قربانی ہے۔جانور ذبح کرتے وقت ایک صاحب ایمان سے اس کا عہد بھی لیا جاتا ہے کہ دعا میں یہ کہو کہ میری یہ قیمتی زندگی اور میرا سب کچھ رب العالمين کی امانت ہے اور اس کی خوشنودی کے لئے وقف ہے۔بوقت ضرورت اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے ہم پابند عہد ہیں،قربانی کے جانور کا خون بہانے سے پہلے اپنی دعا میں یہ باتیں بندہ کہتا ہے پھر جانور کی گردن پر چھری چلاکر خون بہاکر اس کی دلیل پیش کردیتا ہے۔یہ قربانی کا سب فلسفہ ہے اوراسی لئے خون سے اس کا بڑا رشتہ ہے۔قربانی کی عبادت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ یعنی اللہ کے دوست ہوئے، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام ذبیح اللہ یعنی اللہ کی راہ میں قربان ہونے والے کے لقب سے نوازے گئے۔اس عظیم جذبہ کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے،اور اس واقعے کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے اور قربانی کے عظیم مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اس موقع پر جانور کا خون بہانا ایک ضروری عمل ہے۔ورچوئل قربانی اس کا حل نہیں ہے۔
مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری
۲۷/مئی ۲۰۲۶بروز چہار شنبہ
