پٹنہ ٢٩ /مئی (پریس ریلیز): جب لوگ ٢٨/ مئی کو عید  کے موقع سے قربانیاں دے رہے تھے ٹھیک اس وقت کوئی ساڑھے گیارہ بجے جدید اردو غزل کی بڑی معتبر آواز  بشیر بدر نے بھوپال میں اس دنیا کو الوداع  کہہ دیا، انہوں نے غزل کو نیا رنگ و آہنگ بخشا، انہیں الفاظ سے جو دوسرے شعراء استعمال کرتے ہیں، معنی کی ایک نئی دنیا اور نیا کیف پیدا کیا وہ پچاس سال سے زائد مشاعروں کے بادشاہ رہے،  انہوں نے لالہ و گل کی بھی شاعری کی اور لب و رخسار کی بھی ، حالات زمانہ پر بھی اشعار کہے، ان کی شاعری کا رنگ و آہنگ میرٹھ فساد میں ان کے گھر بار جلنے سے پہلے کا الگ ہے اور میرٹھ سے بھوپال منتقل ہونے کے بعد افکار و خیالات کے اعتبار سے الگ، ان کی شاعری بعد کے دور میں بدلتے ہوئے حالات کی عکاسی کرتی ہے،  لیکن اس میں غزل کی تمام تر رعنائیاں موجود ہیں، وہ حالات کا نوحہ اور ماتم نہیں بلکہ حالات بدلنے کے لیے لوگوں کو مہمیز کرتے ہیں، ان کے پچاس سے زائد اشعار تو زبان زد ہیں، جن کا استعمال لوگ موقع بموقع کرتے رہتے ہیں، ان خیالات کا اظہار نامور عالم دین، نائب ناظم امارت شرعیہ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صدر اردو میڈیا فورم اور کاروان ادب نے اپنے تعزیتی بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بشیر بدر کے انتقال سے جدید اردو غزل کا بڑا نقصان ہوا ہے، وہ شمع بجھ گئی جس کی روشنی سے جدید اردو غزل کو روشنی اور تابندگی ملتی تھی، مفتی صاحب نے کہا کہ اللہ رب العزت نے انہیں طویل زندگی بخشی اکانوے سال کی عمر پائی، فساد کا کرب اور پہلی بیوی کے انتقال کا صدمہ بھی جھیلا، آخر عمر میں خود فراموشی کے شکار ہوئے،  حافظہ نے ساتھ چھوڑ دیا، ادھر کچھ دنوں سے وہ اپنے اشعار سن کر مسکرانے کی ادا بھی بھول گئے تھے ، اللہ مغفرت فرمائے اور اردو غزل کو ان کے جیسا شاعر پھر عطا کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے