مقام: پرسیا کرہیا گوشایئں، ضلع سدھارتھ نگر، یوپی
خطیب: حافظ محمد حامد محمدی صاحب
تحریر: حافظ صفی الرحمن فرقانوی
عید الاضحیٰ کے مبارک موقع پر مقام پرسیا کرہیا گوشایئں ضلع سدھارتھ نگر یوپی میں خطیب حافظ محمد حامد محمدی حفظہ اللہ نے نہایت ہی مؤثر، فکر انگیز اور ایمان افروز خطاب فرمایا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں قربانی کی حقیقت، اس کی فضیلت، اخلاص کی اہمیت اور مسلمانوں کی ذمہ داریوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا۔
انہوں نے فرمایا کہ عید الاضحیٰ امت مسلمہ کے لیے خوشی، عبادت اور قربانی کا عظیم دن ہے۔ دنیا کے ہر حصے میں رہنے والا مسلمان، چاہے عربی ہو یا عجمی، کالا ہو یا گورا، سب اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانی پیش کرتے ہیں۔ یہ عظیم عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو زندہ کرنے کا ذریعہ ہے۔
حافظ محمد حامد محمدی نے فرمایا کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ قربانی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا اور دل کے اندر اخلاص پیدا کرنا ہے۔ اگر قربانی میں دکھاوا، شہرت یا ریاکاری شامل ہو تو ایسی قربانی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
“لَن يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ”
(سورۃ الحج: 37)
ترجمہ: “اللہ تعالیٰ تک نہ ان جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
انہوں نے مزید فرمایا کہ حقیقی قربانی یہ ہے کہ انسان جانور کے ساتھ ساتھ اپنی برائیوں، گناہوں، خواہشاتِ نفس اور شیطانی راستوں پر بھی چھری چلائے۔ صرف جانور ذبح کر دینا کامیابی نہیں، بلکہ اپنے نفس کو قابو میں کرنا اور اللہ کے حکم کے سامنے جھک جانا اصل کامیابی ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے عظیم واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بڑھاپے کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اولاد عطا فرمائی، پھر اسی محبوب بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم دیا گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، جبکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی صبر و فرمانبرداری کی عظیم مثال قائم کی۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
“يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِيْ إِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ”
(سورۃ الصافات: 102)
ترجمہ: “اے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کیجیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”
خطیب محترم نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو مال و دولت دیا ہے تو اسے چاہیے کہ اللہ کی راہ میں بہترین اور خوبصورت جانور قربان کرے، کیونکہ اللہ کی بارگاہ میں محبوب چیز پیش کرنا ایمان کی علامت ہے۔
اسی کے ساتھ انہوں نے معاشرے میں پائی جانے والی بعض غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض لوگ قربانی کے وقت منہ میں گٹکا یا پان رکھ کر جانور ذبح کرتے ہیں، جو سنتِ نبوی اور اسلامی آداب کے خلاف ہے۔ قربانی ایک عظیم عبادت ہے، اس لیے اسے پاکیزگی، ادب، سادگی اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے فرمایا کہ ہر مسلمان کے دل میں یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ جانور کی جگہ ہمیں قربانی کا حکم دے دے تو ہم بھی اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکا دیں۔ یہی کامل ایمان کی علامت ہے۔
خطیب حافظ محمد حامد محدی نے یہ بھی واضح فرمایا کہ قربانی مرد بھی کر سکتے ہیں اور عورتیں بھی، اور قربانی کے ایام 10، 11، 12 اور 13 ذی الحجہ تک ہیں۔
آخر میں انہوں نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہماری قربانیوں کو قبول فرمائے، ہمارے دلوں میں اخلاص پیدا فرمائے، ہمیں ریاکاری سے بچائے اور سنتِ ابراہیمی پر صحیح معنوں میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
