ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ڈائریکٹر مرکز تعلیم القرآن ۔دہلی

قرآن مجید دنیا کی واحد کتاب ہے جسے اپنے نزول کے زمانے ہی میں شدید مخالفت، اعتراضات اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ کفارِ مکہ نے کبھی اسے شاعری قرار دیا، کبھی جادو کہا، کبھی کاہنوں کا کلام بتایا اور کبھی اسے پہلے لوگوں کی کہانیوں کا مجموعہ قرار دے کر اس کی حقانیت مشتبہ بنانے کی کوشش کی۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قرآن نے اپنے دفاع کے لیے کسی بیرونی دلیل کا انتظار نہیں کیا بلکہ خود ان اعتراضات کو نقل کیا اور پھر ان کا ایسا مدلل، حکیمانہ اور فیصلہ کن جواب دیا کہ مخالفین لاجواب ہو گئے۔ چنانچہ قرآن کا مطالعہ کرنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ کتاب نہ صرف ہدایت کا سرچشمہ ہے بلکہ اپنی صداقت کی سب سے بڑی گواہ بھی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ کفارِ مکہ نے قرآن پر کیا کیا اعتراضات کیے اور قرآن نے اپنی ہی زبان میں ان کا کیا جواب دیا۔مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے جو حضرت جبرئیلؑ کے واسطے سے خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا اور قیامت تک انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یہ بات کہی گئی ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے ۔مثال کے طور پر سورہ سجدہ میں فرمایا گیا :تَنزِیلُ الْکِتَابِ لَا رَیْبَ فِیہِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِینَ (السجدہ:2)’’اس کتاب کا نازل ہونا اس میں کوئی شک نہیں، تمام جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔‘‘سورہ اعراف میں کہا گیا:
وَإِنَّہُ لَتَنزِیلُ رَبِّ الْعَالَمِینَ • نَزَلَ بِہِ الرُّوحُ الْأَمِینُ • عَلَیٰ قَلْبِکَ لِتَکُونَ مِنَ الْمُنذِرِینَ (الشعراء:192-194)
’’اور بے شک یہ تمام جہانوں کے رب کا نازل کیا ہوا کلام ہے۔ اسے امانت دار فرشتہ (جبرئیلؑ) لے کر اترا ہے۔ آپ کے دل پر، تاکہ آپ خبردار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘۔سورہ فصلت میںمزید وضاحت کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا کہ :
وَإِنَّہُ لَکِتَابٌ عَزِیزٌ • لَا یَأْتِیہِ الْبَاطِلُ مِن بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہِ تَنزِیلٌ مِّنْ حَکِیمٍ حَمِیدٍ (فصلت:41-42)
’’اور بے شک یہ ایک زبردست کتاب ہے، اس میں باطل نہ آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکمت والے، خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔‘‘
مگرکفار و مشرکین اس بات کو ماننے کو تیار نہیں تھے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ حضرت محمد ؐ کو کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص وضع کرکے دیتا ہے ،کوئی کہتاکہ یہ جادو کا اثر ہے ،کچھ لوگ کہتے یہ شاعری ہے ،کوئی اسے کہانت قرار دیتا تو کوئی گزرے وقتوں کی کہانیاں کہہ کر مذاق اڑاتا۔غرض حضرت محمد ﷺ کی دعوت کے مقابلے میں کفار و مشرکین نے مختلف اعتراضات اٹھائے۔ قرآن نے ہر اعتراض کا مدلل جواب دیا۔ذیل میں کفار کے اعتراضات اور قرآن کے ذریعہ ان اعتراضات کے دیے گیے جوابات ملاحظہ کیجیے :۔
یہ پرانی کہانیاں ہیں
وَقَالُوا أَسَاطِیرُ الْأَوَّلِینَ اکْتَتَبَہَا (الفرقان:5)’’انہوں نے کہا یہ تو اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھوا لیا ہے۔‘‘
قرآن نے اس کے مقابلے میں اپنی صداقت اور اعجاز کو بطور دلیل پیش کیا:
قُلْ أَنزَلَہُ الَّذِی یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (الفرقان:6)
’’کہہ دیجیے اسے اس ذات نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہے۔‘‘
کوئی انسان سکھاتا ہے
إِنَّمَا یُعَلِّمُہُ بَشَرٌ (النحل:103)’’انہیں کوئی انسان سکھاتا ہے۔‘‘
قرآن نے کہا جس شخص پر الزام لگایا جا رہا تھا وہ اس درجے کی فصاحت والا کلام پیش ہی نہیں کر سکتا۔
لِّسَانُ الَّذِی یُلْحِدُونَ إِلَیْہِ أَعْجَمِیٌّ وَہَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِینٌ (النحل:103)
’’جس کی طرف یہ نسبت کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے جبکہ یہ قرآن صاف عربی میں ہے۔‘‘
یہ جادو ہے
إِنْ ہَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ یُؤْثَرُ (المدثر:24)’’یہ تو بس ایک جادو ہے۔‘‘
قرآن نے بتایا کہ یہ جادو نہیں بلکہ ہدایت ہے:
إِنْ ہُوَ إِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعَالَمِینَ (القلم:52)
’’یہ تو سارے جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘
یہ شاعری ہے
وَیَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِکُوا آلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (الصافات:36)’’اور وہ کہتے ہیں: کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کے کہنے پر چھوڑ دیں؟‘‘
قرآن نے جواب دیا کہ یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے ۔قرآن مجید نے شعراکے بارے چند حقائق بھی پیش کیے اور اس جانب متوجہ کیا کہ کیا ان میں سے کوئی ایک صفت بھی تمہیں حضرت محمد ؐ میں نظر آتی ہے جو تم اپنے شعراء میں دیکھتے ہو۔
وَمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِیلًا مَّا تُؤْمِنُونَ (الحاقہ:41)’’یہ کسی شاعر کا کلام نہیں، تم بہت کم ایمان لاتے ہو۔‘‘
یہ کاہن (نجومی) کا کلام ہے
قرآن نے کفار کے اس اعتراض کو نقل نہیں کیا بلکہ اعتراض نقل کیے بغیر جو جواب دیاوہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کفار مکہ نبی اکرم ﷺ کو کاہن کہتے تھے اور قرآن مجید کو کسی کاہن کاکلام گردانتے تھے ۔
وَلَا بِقَوْلِ کَاہِنٍ قَلِیلًا مَّا تَذَکَّرُونَ (الحاقہ:42)’’اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے، تم بہت کم نصیحت لیتے ہو۔‘‘
قرآن نے کفار مکہ کو یہ بھی چیلنج دیا کہ اگر یہ انسانی کلام ہے تو تم بھی اس جیسی کوئی سورۃ بنالائو ،یا ایک ہی آیت بنا کر دکھا دو۔
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرَاہُ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہٖ مُفْتَرَیَاتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ (سورہ ھود13 )’’کیا کہتے ہیں وہ کہ تو نے قرآن خود بنا لیا ہے، کہہ دو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس کو بلا سکو بلا لو اگر تم سچے ہو۔‘‘
وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا شُہَدَآئَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ (البقرہ23)’’اور اگر تمہیں اس چیز میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تواس جیسی ایک سورت لے آؤ، اور اللہ کے سوا جس قدر تمہارے حمایتی ہوں بلا لو اگر تم سچے ہو۔‘‘
قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْرًا (88 بنی اسرائیل)’’کہہ دو اگر سب آدمی اور سب جن مل کر بھی ایسا قرآن لانا چاہیں تو ایسا نہیں لا سکتے اگرچہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مددگار کیوں نہ ہو۔‘‘
عرب کے نامور خطیبوں، شاعروں اور ادیبوں نے قرآن کے اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہ اس کے اسلوب، فصاحت اور تاثیر کا ہم پلہ کلام پیش نہ کرسکے۔ ۔قرآن کا یہ چیلنج قیامت تک کے لیے ہے ،آج کے دور میں جب کہ علم اپنے معراج کمال کو پہنچا ہوا ہے ،لوگ عربی ادب میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں ،لیکن قرآن مجید کو جب پڑھتے ہیں تو ان کا دل کہہ اٹھتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے۔
قرآن مجید کا کمال یہ ہے کہ اس کو دل کی زبان سے پڑھنے والا اور دل کے کانوں سے سننے والا خود پکار اٹھتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے ۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کے اثرات کے تعلق سے بھی چند حقائق بیان کیے ہیں ،جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے ۔ملاحظہ کیجیے :۔اگر یہ پہاڑ پر نازل ہوتا تو پہاڑ کی کیا کیفیت ہوتی۔
لَوْ أَنزَلْنَا ہَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَیٰ جَبَلٍ لَّرَأَیْتَہُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللَّہِ (الحشر:21)
’’اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا۔‘‘
اور اہل ایمان جب قرآن سنتے ہیں تو ان کی کیا کیفیت ہوتی ہے ۔
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًا (الأنفال:2)
’’مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں، اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ ان کے ایمان میں اضافہ کر دیتی ہیں۔‘‘
وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَی الرَّسُولِ تَرَیٰ أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (المائدہ:83)
’’اور جب وہ اس (کلام) کو سنتے ہیں جو رسول پر نازل کیا گیا تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں، اس وجہ سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا۔‘‘
اللَّہُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِیثِ کِتَابًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُودُ الَّذِینَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ثُمَّ تَلِینُ جُلُودُہُمْ وَقُلُوبُہُمْ إِلَیٰ ذِکْرِ اللَّہِ (الزمر:23)
’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا… اس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔‘‘
قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے پر اس کی درج ذیل معجزاتی صفات بھی دلالت کرتی ہیں۔مثلا ً
٭ قرآن مجید کو ایک معصوم بچہ بھی حفظ کرلیتا ہے ،ایک نابینا بھی حافظ ہوجاتا ہے،یہ اس کلام کا معجزہ ہے ،ورنہ دس بیس صفحے کی کتاب بھی زبانی یاد کرنا بہت مشکل ہے اور اگر یاد ہوبھی جائے تو یاد رکھنا مشکل ہے ۔مگر اللہ کے کلام کی یہ خوبی ہے کہ وہ سماج کے کند ذہن بچوں کو بھی قوم کا امام بنادیتا ہے۔
٭ یہ کلام ہر وقت تروتازہ معلوم ہوتا ہے ،اس کا ایک بھی مضمون ایسا نہیں جسے کوئی یہ کہہ کر نکال دے کہ اس مضمون کی آج کے زمانے میں ضرورت نہیں۔
٭ قرآن مجید میں وہ تاریخی حقائق بھی بیان کیے گئے جنھیں دنیا نہیں جانتی تھی ،اس نے عربوں کو انھیں کے علاقے کی بعض قوموں کی تاریخ بتائی ،اس نے کعبے کو ڈھانے کے لیے ابرہہ کا واقعہ اس طرح بیان کیا کہ جیسے حضرت محمد ﷺ خود اس وقت موجود ہوں ،جب کہ یہ واقعہ آپ کی ولادت سے چالیس پہلے ہوا تھا۔
٭ قرآن مجید اگرچہ سائنس کی کتاب نہیں، لیکن اس میں کائنات، فطرت اور تخلیقِ انسانی سے متعلق ایسی نشانیاں بیان کی گئی ہیں جنہوں نے مختلف ادوار میں اہلِ علم و تحقیق کو غور و فکر پر آمادہ کیا ہے جس کے نتیجے میں بے شمار سعید روحوں نے قرآن کے دامن حق میں پناہ حاصل کی۔
٭ اس کو پڑھتے وقت لگتا ہے کہ یہ خاص میرے لیے ہی لکھا گیا ہے ۔قاری اگر بنظر غائر مطالعہ کرے گا تو قرآن کے الفاظ میں اپنا تذکرہ پائے گا ۔کروڑوں اور اربوں انسانوں کے دلوں کی یہ کیفیت کسی اور کلام میں نہیں پائی جاتی ۔
غرض یہ اللہ کی کتاب ہے ۔یہ معجزاتی کلام ہے ،اس کو دیکھنا بھی ثواب ہے ،اس کو پڑھنا نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے،اس کو سمجھنے سے زمین و آسمان تک کے دروازے کھل جاتے ہیں ، اس پر عمل کرنے والی قوم کو اللہ تعالیٰ دنیا میں عزت، سربلندی اور قیادت سے نوازتا ہے۔ ۔ آج بہت سے مسلمان قرآن کو تلاوت اور ثواب تک محدود کرکے بیٹھ گئے ہیں، جبکہ یہ کتاب زندگی کی رہنمائی، فکری بیداری اور امت کی سربلندی کے لیے نازل کی گئی تھی۔ جب مسلمانوں نے اسے سمجھا، اس پر عمل کیا اور اسے دنیا تک پہنچایا تو وہ انسانیت کے رہنما بن گئے، اور جب اس سے اپنا تعلق کمزور کرلیا تو عزت و وقار بھی ہاتھ سے جاتا رہا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن کو صرف پڑھیں ہی نہیں بلکہ سمجھ کر پڑھیں، اس پر عمل کریں اور اس کے پیغام کو پوری انسانیت تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ یہی قرآن کا حق ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے