ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی
استاد دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ

امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد ان تاریخی شخصیات میں سے ہیں جنکا نام ملک، قوم، سیاست اور صحافت کی دنیا میں آج بھی ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بیک وقت مفسر قرآن، بہترین خطیب، انشا پرداز، باکمال سیاست داں اور بصیرت افروز صحافی تھے، جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے قوم کی فکری رہنمائی اور ذہنی بیداری کا فریضہ انجام دیا۔ ان کی صحافت صرف خبروں کی ترسیل یا حالات کی عکاسی تک محدود نہیں تھی بلکہ انکی تحریریں ہمہ گیر اور فکری ہوا کرتی تھیں جن کا مقصد غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی شمع روشن کرنا تھا۔
مولانا آزاد کی صحافتی زندگی کا آغاز ایسے دور میں ہوا جب برصغیر ہند سیاسی غلامی، فکری جمود اور سماجی انتشار کا شکار تھا۔ اس ماحول میں انہوں نے الہلال اور بعد ازاں البلاغ جیسے جرائد جاری کیے جنہوں نے نہ صرف اردو صحافت کو ایک نیا اسلوب عطا کیا بلکہ مسلمانوں میں سیاسی شعور، دینی حمیت اور قومی یکجہتی کے جذبات کو بھی فروغ دیا۔
مولانا نے اپنے قلم کو انگریزوں کی استبداد کے خلاف ڈھال بنایا جس کی پاداش میں انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں لیکن وہ برابر ہندوستان کی آزادی کے لئے جد و جہد کرتے رہے اور اپنی تحریروں کے ذریعہ لوگوں کو بیدار کرتے رہے۔ مولانا ایک نڈر اور جری صحافی تھے جو حق کو حق اور باطل کو باطل لکھتے تھے اور ظالم کے خلاف انکا قلم تیغ آبدار ہوا کرتا تھا۔بقول مفکر اسلام سید ابو الحسن علی ندوی کہ ” وہ( مولانا ابو الکلام آزاد ) ایسے مقالات تحریر کرتے جو آگ کے قلم سے تحریر ہوتے تھے”-(المسلمون فی الھند،ص181)
مولانا آزاد اور ندوۃ العلماء:
دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کو جن مختلف خصوصیات کی بنا پر دیگر اسلامی اداروں کے درمیان نمایا مقام و مرتبہ حاصل ہے ان ہی چند خصوصیات میں ایک اہم خصوصیت دار العلوم کی بے لوث اور قابل قدر صحافتی خدمات ہیں-مولانا آزاد خدا داد صلاحیتوں کے مالک تھے- وہ ایک پیدائشی صحافی تھے- لیکن سچ یہ ہے کہ مولانا آزاد کو ایک نامور اور عالمی صحافی بنانے میں دار العلوم ندوۃ العلماء کا ترجمان” الندوہ” کا اہم رول رہا ہے-علامہ شبلی سے مولانا آزاد کی ملاقات و رفاقت اور پھر ان کا "الندوہ” کے سب ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دینے کی وجہ سے ان کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی اور وہ آسمان صحافت پر چمکے-
بقول ڈاکٹر سلیم الرحمن خاں ندوی کہ ” مولانا آزاد کی اسلامی صحافت کا بالفعل آغاز و نشوونما اس وقت سے ہوتا ہے جب انہوں نے ندوۃ العلماء کے آرگن”الندوہ” کی ادارت سنبھالی” –
مولانا محمد اسحاق جلیس رقمطراز ہیں”تحریک ندوۃ العلماء کا ترجمان ماہنامہ ” الندوہ” کا پہلا شمارہ اگست 1904ء مطابق جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ منظر عام پر آیا، رسالے کے دو ایڈیٹر تھے مولانا حبیب الرحمن خان شروانی اور علامہ شبلی نعمانی ۔
اس ماہنامہ میں علوم اسلامیہ کی تجدید ، عقل و نقل کی تطبیق ، معقول و منقول اور قدیم و جدید کے موازنہ اور عربی نصاب تعلیم پر تحقیقی مضامین شائع ہوتے تھے ، اس رسالے نے طبقہ علماء کے جمود میں حرکت پیدا کی ، ان کے خیالات میں انقلاب پیدا کیا ، انہیں جدید مباحث سے روشناس کرایا، اسلام اور علوم اسلامیہ کی خدمت کے نئے طریقوں ، زبان و اسلوب کے انداز اور پیرائے سے متعارف کرایا ۔۔۔۔ ” الندوہ” کا اثر نوجوان علماء اور منتہی طلبہ پر پڑا اور انہوں نے اسکے طرز نگارش ، اسلوب بیان کو قبول کیا ، چند ہی شماروں کے بعد ” الندوہ” نے اپنی افادی حیثیت اہل نظر سے منوا لی ۔
” الندوہ” کے تیار کردہ نوجوان اہل قلم خود دارالعلوم ندوۃ العلماء کے طلبہ کو اس سے بہت فائدہ پہنچا، اس دور کے جن ندوی فضلاء نے تصنیف و تحریر کے میدان میں ممتاز مقام حاصل کیا ان کی تحریر کی ابتداء اسی دبستاں میں ہوئی ، استاذ الاساتذہ مولانا سید سلیمان ندوی کا علم حدیث پر ایک مضمون ان کے زمانۂ طالب علمی میں ” الندوہ” میں شائع ہوا تو اسے پڑھ کر خواجہ الطاف حسین حالی نے مولانا شبلی نعمانی کو لکھا” سب سے زیادہ اس بات کی خوشی ہے کہ دارالعلوم نے اپنی تعلیم کا نہایت عمدہ نمونہ پہلی بار پیش کیا ہے ” فبارک اللہ فیها وفی طلبتها وفی تعلیمها ” مجھے امید نہیں بلکہ یقین ہے کہ عربی کی کامل تعلیم اور انگریزی کی بقدر ضرورت تعلیم ہماری قوم میں ایسے لائق مضمون نگار اور مصنف پیدا کرے گی کہ محض انگریزی تعلیم آج تک ویسا ایک بھی پیدا نہیں کر سکی”مولانا عبدالسلام ندوی ، اکرام اللہ خان ندوی ، عبدالرحمن نگرامی ندوی ، ضیاء الحسن علوی ندوی ، خواجہ عبدالواجد ندوی وغیرہ علمی دنیا میں ” الندوه ” کے ذریعے معروف ومتعارف ہوئے۔
الندوہ نے متعدد ایسے اشخاص کو روشناس کیا جو مستقبل میں علم و فن، ادب وصحافت اور معاشرت و سیاست کے میدان میں ممتاز مقام پر فائز ہوئے ،ان میں اہم شخص مولانا ابوالکلام ازاد ہیں ، اکتوبر 1905ء سے مارچ 1906ء تک مولانا آزاد "الندوہ "کے سب ایڈیٹر رہے ، اس وقت تک وہ علمی حلقوں میں روشناس نہیں ہوئے تھے ، ندوہ میں قیام ، مولانا شبلی کی تربیت اور اپنی خداداد ذہانت و صلاحیت کی بدولت وہ برابر ترقی کرتے گئے ، الندوہ میں ان کے مضامین نے انہیں پورے ملک میں شہرت بخشی- 1906ء میں وہ” وکیل "امرتسر سے وابستہ ہو گئے ، 1912ء میں انہوں نے اپنا شہرہ افاق ہفت روزہ ” الہلال ” نکالا اتحادِ اسلامی اور سیاسی نظریات میں ان پر مولانا شبلی کے فیض صحبت کا اثر آخر تک نمایاں رہا "(تاریخ ندوۃ العلماء حصہ اول،ص309-311)
مولانا ابوالکلام آزادؒ لسان الصدق سے لے کر ہفتہ وار پیغام تک تقریباً 16 اخبارات و جرائد کی ادارت سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے ایک بار بھی اپنی نظریاتی اور فکری اساس سے گریز نہیں کیا۔ ہفتہ وار” الہلال” مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت کا نقطۂ عروج تھا اور انہوں نے اس کے ذریعے مسلمانوں کے اندر انگریزوں کے خلاف صور پھونکنے کا کام انجام دیا۔ "الہلال” کی اشاعت 25 ہزار تک پہنچ گئی اور یہ صحافت کا ایک اعلیٰ معیار قرار پایا۔ انگریزوں نے پھر الہلال کی اشاعت پر تیغ زنی کی اور آخرکار 2 سال کی اشاعت کے بعد اس مقبول عام اخبار کی اشاعت بند کرنی پڑی، جس کے ازالے کے لیے مولانا آزاد نے البلاغ کا اجرا کیا۔مولانا آزاد کی صحافتی زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے- ان ادوار کو مشقی دور، ارتقائی دور اور دور عروج کے نام دیے گئے ہیں-
مشقی دور کے ضمن میں 1899 سے 1905 تک کو شامل کیا گیا ہے- یہ دور” نیرنگ عالم” کے اجراء سے” لسان الصدق” کی بندش پر ختم ہوتا ہے- مولانا آزاد کا پہلا رسالہ نیرنگ عالم ہے جس کا اجراء 1899 میں ہوا -انہوں نے یہ گلدستہ شاعری کی تکمیل سمجھ کر نکالا تھا- اسی عرصے میں مولانا آزاد کے اندر مضمون نگاری کا ذوق بھی پیدا ہوا جس کی تکمیل کے لیے "المصباح ” کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا لیکن وہ کچھ ہی عرصے جاری رہ کر بند ہو گیا- بعد ازاں 1902 میں مولانا آزاد نے مولانا احمد حسن کے احسن الاخبار کو اپنے ہاتھ میں لے لیا –
نومبر 1903 میں مولانا آزاد نے لسان الصدق جاری کیا یہ ایک تعلیمی ,اصلاحی , علمی اور ادبی ماہنامہ تھا”لسان الصدق” مئی 1905 تک جاری رہا اور اس کے بند ہونے تک ہی مولانا آزاد کی صحافت کا مشقی دور اپنے اختتام کو پہنچا-
مولانا آزاد کی صحافت کا ارتقائی دور الندوہ کے نائب مدیر کی حیثیت سے شروع ہو کر وکیل امرتسر کے دور ثانی پر ختم ہوتا ہے- اس دور میں انہوں نے وقت کے مسائل اور علمی افکار کے بارے میں جو کچھ لکھا وہ پورے اعتماد کے ساتھ لکھا- وہ الندوه لکھنو سے 1905 کے اواخر میں وابستہ ہوئے اور 1906 کے ابتدائی مہینوں میں اسے چھوڑ کر وکیل امرتسر چلے گئے- غالبا 1906 کے ابتدائی مہینوں میں انہوں نے خود اپنا اخبار نکالنے کا فیصلہ کیا- 1912 میں” الہلال” کا اجراء ان کے اسی خواب کی تعبیر تھی- الندوہ سے وکیل "کے دور ثانی تک جو سفر انہوں نے کیا تھا وہ ارتقائی سفر تھا – "الہلال "کے اجراء کے ساتھ مولانا آزاد کی صحافت کا عروج شروع ہوتا ہے- 1912 سے شروع ہو کر "الہلال "مختصر اور طویل وقفوں کے بعد دسمبر 1927 میں ختم ہوتا ہے- اس دور میں انہوں نے پورے اعتماد کے ساتھ اپنے قلم کی جولانیوں کو بروئے کار لانے کا کام کیا- اس دور میں انہوں نے ادب اور صحافت کو اپنے معاصرین میں سب سے زیادہ متاثر کیا اور اپنی تحریروں سے مسلمانوں کے مذہبی اور سیاسی افکار میں انقلاب برپا کر دیا- مولانا ازاد کی صحافت کا دور عروج "البلاغ” کی بندش 1916 پر ہوتا ہے جس کے بعد وہ تقریبا 11 سال تک صحافت کی زندگی سے دور قومی اور ملی تحریک کا حصہ بنے رہے , تاہم اس دوران قید و بند کے زمانے میں تصنیف و تالیف اور مطالعے میں منہمک رہے-
1927 میں الہلال کے دور ثانی کے موقع پر حالات یکثر تبدیل ہو چکے تھے اور ان کی مصروفیات قومی اور ملکی خدمت کے میدانوں میں بہت بڑھ چکی تھیں اس لیے انہیں اپنے معاون مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا پڑا- اسی دوران بعض دیگر اخبارات سے بھی ان کا تعلق رہا- مثلا 1921میں مرکزی خلافت کمیٹی کا ترجمان پیغام جاری ہوا جو مولانا آزاد کی نگرانی اور مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کی ادارت میں شائع ہوا اس دوران 1923 میں الجامعہ کے نام سے ایک ماہانہ عربی رسالہ مولانا ازاد کی ادارت میں نکلنا شروع ہوا لیکن اس کا سارا کام مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کرتے تھے اور مولانا آزاد کی اسے صرف رہنمائی حاصل تھی”( اردو صحافت کا ارتقاء ،ص،78-80)
ان رسائل و جرائد کی فہرست اور سنیں، جن سے مولانا آزاد کا تعلق رہا ۔
(1) نیرنگ عالم 1899
(2) المصباح (1900)
(3) خدنگ نظر ( 1900 -1902)
(4) ايڈورڈ گزٹ شاہجہاں پور (1903- 1904)
(5) احسن الاخبار ( 1902)
(6) تحفہ احمدیہ ( 1899 -19 00)
(7) لسان الصدق (20 نومبر 1903-5 مئی 1905 )
(8) الندوہ ( 1905- 1906)
(9) وکیل امرتسر (1906 -1908)
(10) دارالسلطنت، کلکتہ( 1907)
(11) الہلال ( 13 جولائی 1912- 18 نومبر 1914)
(12) البلاغ (12 نومبر 1915- 13 اپریل 1916)
(14) اقدام (1915)
(15) الجامعہ، عربی ( اپریل 1923- مارچ 1924)
(16) الہلال، بار دوم 10جون 1927-
دسمبر1927(ایضا،ص،87-88)
عبد السلام خورشید لکھتے ہیں کہ” مولانا ابو الکلام آزاد کے لئے صحافت ایک تجارتی مشن نہ تھی،بلکہ ان کی صحافت ایک دعوت،فریضہ،ذمہ داری،اور بلند مقاصد کی خدمت کا ایک ذریعہ تھی”
اس طرح مولانا آزاد کی صحافت مختلف رسالوں اور جرائد کے ذریعہ پروان چڑھی جو نہ صرف حالات و واقعات سے روشناس کرانے تک محدود تھی بلکہ اردو زبان وادب کا شاہکار ہونے کے ساتھ ساتھ حق و صداقت اور سچی صحافت کا جامع مرقع بھی تھی۔
کلیم الدین احمد لکھتے ہیں کہ ”مولانا آزاد کی تحریر میں ایک غیر معمولی قوت تھی ، وہ کھلی تلوار ، موجیں مارتا ہوا سمندر، تیز رفتار آندھی بلکہ وہ عصائے موسی تھی کہ جو وہ جھوٹ بولتے تھے اُسے وہ نگل جاتی تھی ، فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ (الاعراف: ۱۱۷) ( کہ اُس نے اُن کے سارے بنائے ہوئے ( سانپوں کو ایک ایک کرکے ) نگلنا شروع کیا ) (سخن ہائے گفتنی،ص،120)
یوسف علی مہر رقمطراز ہیں کہ ”الہلال“ تنہا وہ اخبار تھا، جو حکومت کی سیاست پر سخت تنقید کرتا تھا، نتیجہ یہ ہوا کہ برطانوی کابینہ میں اس کی بابت سوالات اٹھے اور اس سے فورا مالی ضمانت طلب کی گئی۔“( ابو الکلام آزاد ،ص،109)
پروفیسر ملک زادہ منظور احمد تحریر کرتے ہیں کہ ”مولانا آزاد ”الہلال“ میں اپنے قلم سے بجلیاں گراتے تھے، اپنے قلم سے پھول اور موتی بکھیرتے تھے، انہوں نے قرآنی لہجے میں یہ بات تاکید سے کہی کہ عزت مسلمانوں کے لیے ہے اور غلبہ ہمیشہ حق کو ہوتا ہے، ا سی لہجہ میں انہوں نے جنگ طرابلس اور شہداء ترک کے قصے ، قرآن کریم کی تعلیمات کی تفسیر اور احکام شرعیہ کو بیان کیا ”-(مولانا آزاد فکر وفن،ص،204 بحوالہ ہندوستان میں اسلامی صحافت کی تاریخ اور ارتقاء )
الغرض : خلاصہ کلام یہ ہے کہ مولانا ابو الکلام آزاد کی
” الندوہ” سے وابستگی اور خاص طور سے علامہ شبلی اور مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی( جو کہ فکری و ذہنی ہم آہنگی کے سبب دونوں ایک جان دو قالب تھے) سے علمی رفاقت اور مشارکت کی وجہ سے مولانا آزاد کو غیر معمولی فائدہ ہوا- مولانا آزاد کی سب ایڈیٹری صرف ایک صحافتی تشکیل کا ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ ان کی فکری تشکیل کا بھی بنیادی مرحلہ تھا۔ رسالہ "الندوہ” کے ذریعہ مولانا کے اندر علمی، ادبی اور صحافتی مہارت پیدا ہوئی جس نے انہیں اپنے عہد کا ایک بے مثال مفکر، ادیب اور رہنما بنا دیا۔
نتیجتاً بعد میں انہوں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جس کو تاریخ ہند کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتی-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے