تحریر : مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی (مدیر البعث الاسلامی ندوة العلماء لکھنؤ )

ترجمانی :محمد ارقم سندیلوی
عید الاضحی محبت، وارفتگی، بے لوث عشق ووفا اور اخلاص کی عید ہے۔ یہ مبارک دن ہر سال اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں، مسرتوں اور شادمانیوں کے ساتھ عالمِ انسانیت پر جلوہ فگن ہوتا ہے۔ اس روز قلب و جاں میں فدائیت و جاں نثاری ،اور ایثار و قربانی کا جذبہ تازہ ہوتا ہے، اور فضا کے ہر گوشے سے تسبیح و تحمید، تلبیہ و تکبیر کی روح پرور صدائیں بلند ہوتی ہیں۔
عید الاضحی ایک طرف عظیم ترین عبادت اور اسلام کے نمایاں شعائر میں سے ایک ہے، تو دوسری طرف یہ ایسی مقدس عبادت بھی ہے جس میں خواہشاتِ نفس کی پیروی، شہوات کی غلامی، بے جا خیالات کی آزادی اور طبیعت و مزاج کی خود مختاری کا ادنیٰ سا تصور بھی باقی نہیں رہتا۔ بندۂ مؤمن اس دن اپنے رب کے حکم کے آگے سراپا تسلیم و رضا بن جاتا ہے۔
عید کو عید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بار بار خوشی، فرحت اور مسرت لے کر آتی ہے۔ لیکن عید الاضحی کی خوشی محض ظاہری سرور و انبساط کا نام نہیں، بلکہ تکبیراتِ تشریق جب ہر فرض نماز کے بعد زبانوں پر جاری ہوتی ہیں تو یہ بندے کو گناہوں اور نافرمانی سے دور رکھنے کا ذریعہ بنتی ہیں، اور دل کے اندر اللہ تعالیٰ سے تعلق و وابستگی کی تجدید بھی کرتی ہیں۔
عید الاضحی صرف خوشی، مسرت اور سعادت و خوش بختی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ربانی عید بھی ہے، جس میں مسلمانوں کا جماعت کے ساتھ دو رکعت نمازِ عید ادا کرنا بندگی، اتحاد اور اجتماعیت کی خوب صورت عکاسی کرتا ہے۔ اور یہ ایک انسانی عید بھی ہے، کیونکہ اس میں قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اور انسانی حقوق کی پاسداری کا فریضہ انجام دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ایک اجتماعی عید بھی ہے، جس میں ملاقاتیں، زیارتیں اور باہمی روابط مسلمانوں اور دیگر لوگوں کے درمیان محبت و خیرخواہی کو فروغ دیتے ہیں۔ یہی وہ روشن پہلو ہیں جن کی بنا پر مسلمانوں کی عیدیں ایک منفرد اور امتیازی شان رکھتی ہیں۔ اسلیے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "ہر قوم کے لیے ایک عید (خوشی کا دن) ہوتا ہے اور یہ ہماری عید ہے۔ صحیح البخاری) 952)
اسی کے ساتھ یہ بھی کہ عید الاضحی ہر سال ہمارے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے درمیان نسبتِ ایمانی کو تازہ کرتی ہے۔ وہ عظیم ہستی جنہوں نے اپنی ایمانی زندگی میں وفا و تسلیم کا ایسا دلکش، دل آویز اور بے مثال نمونہ پیش کیا کہ اپنے جگر کے ٹکڑے، آنکھوں کی ٹھنڈک اور روح کے سکون، فرزندِ ارجمند سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر قربانی کے لیے پیش کر دیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس بے مثال فداکاری، جاں نثاری اور تسلیم و رضا کو شرفِ قبولیت بخشا، اور اسے قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے یادگارِ وفا اور نشانِ بندگی بنا کر دوام و ہمیشگی عطا فرما دی۔ پھر خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اپنی زبانِ مبارک سے اعلان فرمائیں.قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ” آپ کہہ دیجیے! بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے