ابو احمد مہراج گنج

نظر کا تیر جگر میں رہے تو اچھا ہے

یہ گھر کی بات ہے گھر میں رہے تو اچھا ہے

 داغ دہلوی نے نہ جانے کس عالم میں یہ شعر کہا تھا،وہ عالم جنون تھا ،یاعالم سکون ، لیکن یہ تو یقینی ہے کہ وہ مقام جہاں سے یہ شعر پڑھا گیا وہ متحدہ ہندوستان کا دار الحکومت دہلی ہی تھا۔اور آج بھی اسی دہلی سے ایک تیر چلایا گیا ہے ،یونیفارم سول کوڈ کے نام سے،یہ تیر تیر نیم کش ہوکر رہےگا ،یا جگر کے پار جاۓگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتاۓ گا۔

اس تیر نے دوکام کیا ہے ایک تو اس نے پژمردہ ہوچکے مسلم سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اپنا اعتماد بحال کر نے کا موقع فراہم کردیا ہے تو دوسرا فائدہ اس کا یہ ہوا کہ کچھ بکاؤ قسم کے مولوی نما اسلامک اسکالر ٹی وی چینل پر اپنے ایمان کی قیمت دوگنی وصول کرنے کا موقع پاگئے ہیں ۔آپ نہیں سمجھے تو سمجھ جائیں کہ یونیفارم سول کوڈ کو پاپولر اور ملکی مفادات میں ثابت کرنے کے لیے بھانڈ میڈیا میں آجکل جو بغیر طول و عرض والے بحث و مباحثے ہورہےہیں ان کا مقصد نہ تو اسلامی تعلیمات کو جاننا اور سمجھنا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی بہتر نتائج اخذ کرنا ہے ان مباحث کا مقصد صرف اور صرف اسلامی تعلیمات کو ٹارگٹ کرنا ہوتا ہے،اسلامی تعلیمات میں کیڑے نکالنا ہوتا ہے، عصیبیت کے زہر سے آلودہ سوالوں کے تیر اس سلیقے سے چلائے جاتے ہیں کہ مولوی نما اسلامک اسکالر اینکر کا منھ تکتے رہ جاتا ہے اور اینکر کے سامنے ممیانے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔ ویسے بھی نظر تو لفافے پر ہوتی ہے ۔نہ کہ فریق مخالف کے الزامات کی تردید پر ۔ بقول میرتقی میر

جاتا ہے آسماں لیے کوچے سے یار کے

آتا ہے جی بھرا درودیوار دیکھ کر

یونیفارم سول کوڈ کا ڈرافٹ مرکز کی سرکار کے ذریعے سے منظر عام پر آنا ابھی باقی ہے لیکن اس سے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی ہوڑ لگ گئی ہے ۔

فیس بک کے مفکرین کی آراء اور یوٹیوب کے مبصرین کے تبصرے اور تجزیے ، واٹس ایپ کے پروفیسر اس سیاسی تیر کی توضیح،تشریح اور تفہیم میں اس قدر مستغرق ہوگئے ہیں کہ ان کو اب دوسرے ٹاپک پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں رہی ہے ۔

مسلم شخصیات یعنی علمائے کرام ،واعظین عظام،اور سیاسی لیڈران کی شب کی نیندیں،اور دن کے سکون سب اس یونیفارم سول کوڈ کی نذر ہوچکے ہیں ۔تو وہیں غیر مسلم برادران وطن کی ایک بہت معمولی تعداد اس کو ملکی مفاد میں ثابت کرنے پر آمادہ ہے جبکہ برادران وطن کی اکثریت اس سیاسی ہتھکنڈے کو سمجھ رہی ہے اور اس کا برملا اظہار بھی کررہے ہیں ۔

اب تو لوگ پوچھنے لگے ہیں کہ کیا یونیفارم سول کوڈسے ملک کی خستہ حال معیشت سدھر جائے گی ؟کیا یونیفارم سول کوڈسے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوجائیں گی۔؟کیا یونیفارم سول کوڈ سے ملک سے بیروزگاری کی مار کم ہوجائےگی۔؟کیا یونیفارم سول کوڈ سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی واقع ہوجائےگی؟؟؟یقینا نہیں !! تو پھر سرکار اس کو اتنی اہمیت کیوں دے رہی ہے وجہ صاف ہے کہ اس کو نافذ کرنے سے سرکاری خزانے پرکوئی بوجھ نہیں پڑےگا۔اور بھکت جنوں میں مسلمانوں کو پریشان کرنے کا میسیج بھی پہنچ جائےگا۔

ویسے بھی اگر یونیفارم سول کوڈ نافذ ہوجائے تو نکاح، طلاق، میراث اور گود لینے کے مسائل مسلمانوں کی شریعت کے خلاف ہی جائیں گے ۔لیکن ہم مسلمان بھی ان مسائل میں شریعت کا کتنا پاس لحاظ رکھے ہوئے ہیں یہ غوروفکر کا موضوع ہے ۔ہمارا نکاح شریعت اسلامیہ کے کتنا موافق ہوتا ہے ہم خوب واقف ہیں ۔طلاق جو کہ ابغض المباحات میں سے ہے اس کو ہم کیسے برت رہے ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں،وراثت کا تو پوچھنا ہی کیا کتنے فیصد مسلمان ہیں جو اسلامی قانون وراثت کے تحت وراثت تقسیم کرتے ہیں ۔ان سارے مسائل کے ساتھ جو ناروا سلوک ہم نے روا کر رکھا ہے اس کو طشت از بام کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہے ۔یہ گھر کی بات ہے گھر میں رہے تو بہتر ہے ۔

بالفرض اگر یونیفارم سول کوڈ نافذ ہواتو مسلمانوں کے علاوہ سکھ ،لنگایت،آدی واسی اور دیگر پسماندہ طبقات کے ساتھ ساتھ ہندوں کے بھی بہت سارے رسم و رواج اس کی زد میں آئیں گے بقول راحت اندوری

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

لیکن اس پر توجہ رکھنی چاہیے کہ یونیفارم سول کوڈ کے ذریعہ لگائی گئی آگ کو بجھاتے بجھاتے ہمارا وجود ہی نہ اس کی لپیٹ میں آجائے اور ہم سب سماجی طور پر کنارہ کش کر دیے جائیں۔

یونیفارم سول کوڈ کے فوائد بتانے والے یہ بات بتانا بھول جاتے ہیں کہ پرسنل لا کے نقصان کیا ہیں؟ کیامسلم عورتیں ہی اپنے حقوق کے حصول سے محروم ہیں ؟ دیگر طبقات کی عورتوں کے حقوق پورے طور پر حاصل ہوگئے ہیں ؟اس بابت سرکار نے کوئی ڈیٹا جاری نہیں کیا ۔تین طلاق کو کرمنلائز کرنے کے بعد اب تک کتنے لوگوں نے تین طلاق کا جرم کیا اور کیا سزا ہوئی اس کا بھی کوئی ڈیٹا سرکار نے مہیا نہیں کرایا ۔جس کی وجہ سے سرکار کی نیت پر شک ہونا ضروری ہوجاتاہے ۔کیوں کہ سرکار یونیفارم سول کوڈ کے ذریعہ سماج میں کوئی ریفارم اور اصلاح کی نیت نہیں رکھتی بلکہ اس کا منشور اور منشا اگلے الیکشن کی تیاری اور ہندو مسلمان کے جذبات برانگیختہ کرکے ماحول پیدا کرنا اور اس بیچ دیگر سیاسی جماعتوں پر سبقت حاصل کرنا ہے۔

ان سب کے بیچ ہم مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو اس کے لیے گائیڈ لائن جاری کرنے کی ضرورت ہے نہیں تو مسلمان ویسے بھی سکنڈ لارجیسٹ پارٹی ہیں جو تعلیم سے دور ہیں ان کو جذبات کے گھوڑے پر سوار ہونے دیر نہیں لگتی اور گھوڑسواری کا فن نہ جاننے کی وجہ سے اوندھے منھ گر کر اپنا حلیہ بگاڑ لیتے ہیں ۔اس لئے اس کو عوامی موضوع بنانے کے بجائےسیاسی اور لیگل پوائنٹ آف ویو سے دیکھا جائے اور حتی المقدور کوشش کی جائے کہ اس کے باعث سماج میں دوری اورخلیج پیدا نہ ہو۔سرکار نے شعوری طور پر خوب سوچ سمجھ کر یونیفارم سول کوڈ کا جال بچھایا ہے ۔

جال تو خوب بچھاۓ ہیں شکاری نے مگر

جس میں پھنس جاۓ پرندہ وہی جال اچھا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے