محمد یوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
۱۔ ضرورتِ اخلاقیات
میں نے شوبھن بابو پر سخت اعتراض کیا اور کہاکہ ’’یہ کیابیچ رہے ہونالائق انسان ،اگر انسانیت نوازی کی خو ہے تواس کے ساتھ ساتھ انسانوں کو اخلاق بھی سکھاؤ‘‘شوبھن ہنس پڑا اور بولا’’وہ سب تو ٹھیک ہے ورماجی، لیکن مجوزہ اخلاق کوسیکھنے کیلئے آج کے انسان کے پاس وقت ہی کہاں ہے ؟آج انسان کو صرف عام اخلاق ہی نہیں سیاسی ، تعلیمی ، قانونی ، صحافتی ، مذہبی ،ادبی ، معاشرتی اور سب سے بڑھ کر آن لائن ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کی اخلاقیات کی بھی ضرورت ہے ‘‘
میں نے کہا’’تم ٹھیک کہتے ہو، تمہاراگیان بھی مجھ سے زیادہ ہے لیکن اس کے لئے پہل کون کرے گا؟مطلوبہ چیز مارکیٹ میں ہونی چاہیے تب ہی گاہک بھی پیدا ہوتے ہیں‘‘
شوبھن بابوجواب دینے ہی والاتھاکہ ایک خاتون گاہک دوکان میں داخل ہوکر زیرجامہ ملابس طلب کرنے لگی۔ وہ اُدھر مصروف ہوگیااور میں وہیں بیٹھے بیٹھے آن لائن ہوگیا۔
۲۔ حوصلہ شکنی نہ ہوسکی
حوصلہ افزائی نے اس کو ادب کے آسمان پر پہنچادیا۔ حالانکہ میں نے کہابھی تھاکہ اس کی تحریروں پر تنقید کیاکریں ۔ بجائے تنقید کے تعریف ہوتی رہی ۔ آج اس کے سامنے کوئی ٹہر نہیں سکتا۔ تم ہی سوچو کہ یہ سب ہماراکیادھرا ہے کہ نہیں ؟
دراصل ادب میں بھی اچھوت ازم ہوناچاہیے، ورنہ ہر ایراغیراہمارے لئے اذیت کاسامان پید اکرتارہے گا۔ اب بھگتو ۔ ہماری تحریریں پیچھے رہ جائیں گی اوروہ کرشن چندر بناپھرتارہے گا۔ کبھی بھی زیادہ لکھنے والے کو راستہ نہ دو۔ کم لکھنے والے کو خوش آمدید کہو، سمجھے نا؟
۳۔ جمالیات کا المیہ
آوارہ عورتوں نے ریل اور سوشیل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارم پرفوراً قبضہ جمالیا۔ رہ گئی انسانی جمالیات وہ کباڑا ہوکر رہ گئی۔ عورت جس کے رنگ روپ اور ریشے ریشے سے جمال کی کرنیں پھوٹتی تھیں، اس نے ہوس کے زاغ اڑائے اور جمالیات کے شاہین کو کفن پہناکر مسکرانے لگی ۔ اِدھر مرد حیرت زدہ کھڑایہ سوچ رہاہے کہ کیاسے کیاہوگیا۔ کیوں کہ زندگی کااوپری حصہ دل سمیت مرچکاہے۔چہرے پوری طرح مسخ ہوچکے ہیں کہ یہی کچھ کب تک دیکھ سکتے ہیں ؟
۴۔نیا آئیڈیا
مختلف امور پر مشاورت ہواکرتی ہے تاکہ پروگرام اچھے سے اچھے اور انسانی مزاج کے قریب تر رکھ کر مرتب کئے جائیں ۔اس کے لئے سبھی سے دریافت کیاجاتاتھاکہ پروگرام کی نوعیت کیاہویاکوئی نیا آئیڈیا ہے تو بتلائیں۔
یہ پرانی باتیں ہیں، اب ایسا کچھ نہیں ہے۔ سبھی لوگ بڑے اور سمجھدار ہوچکے ہیں(اور شاید عقل کل بھی)۔ اسلئے دوسرے سے کچھ دریافت کرنا ،ان سے بات کرنا ، نئے پروگرام کے لئے ان کے مشوروں کوشامل رکھنا ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ اگر کوئی مشورہ ہوبھی تو خود کودے لیں۔ تنظیم کے ذمہ داروں کو نہیں ۔
۵۔ سمندر کی اوقات
وہ بڑا آدمی بن چکاتھا اور میں بڑے آدمیوں سے ملنے سے شروع ہی سے پرہیز کرتاہوں ۔ میری یہ پرہیزگاری کسی حسد، جلن یااحساس کمتری کی وجہ سے نہیں ہے۔ سوچتاہوں کہ بڑاآدمی مصروف ہوگااور میرے ملنے سے اس کی روٹین متاثر ہوگی ۔ سوچ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اسلئے اس کو اس کے حال( اور جال) پر چھوڑ دیاجائے ، جہاں وہ گھومتاہوا(ہمیشہ پھنسا)رہے گا۔اسے کہتے ہیں سمند ر کو اس کی اوقات میں رکھ کر بے فکر ہوجانا۔
۶۔ خال خال
’’توفیق یہ ہے کہ رب کہے اور بندہ سنے اور اس پر عمل کرتے ہوئے سرخروہوجائے‘‘ رابعہ کی بات سن کر میں بھی سنجیدہ ہوگئی ۔ میں نے کہا’’توفیق تو رب کے ہاتھ ہے ؟‘‘ رابعہ نے میری بات کو کاٹتے ہوئے کہا’’عمل کرانابھی اسی کے ہاتھ ہے ۔ وہ کہے گاتب ہی انسان عمل کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوگا‘‘
حیرت اور فکرمندی سے میں اس سے دریافت کرنے لگی ’’توپھر؟‘‘
وہ بولی ’’توپھر یہ کہ صراط مستقیم سیدھی لکیر جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔اس پر راز کے پردے پڑے ہوئے ہیںاوریہ پردے ان کے لئے پڑے ہیں جو غوروفکر کرتے ہیں۔ ورنہ بے دریغ عمل کرنے والے تو لاکھوں ملیں گے ۔علم اور ایمان کی بنیاد پر عمل کرنے والے خال خال پائے جاتے ہیں ‘‘
میں ابھی بھی سوچ میں غرق ہوں کہ رابعہ نے کہناکیاچاہاہے ؟
