محمدیوسف رحیم بیدری

۱۔بنگالی بابا
  بنگالی بابا غالباً دل جلے تھے ، کہہ رہے تھے ’’اصل میں SIRاس طرح ہوناچاہیے کہ چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا کے آدھارکارڈ،برتھ سرٹیفکیٹ ، ووٹر کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس ، ذات سرٹیفکیٹ وغیرہ نمایاں حروف کے ساتھ اخبارات میں اشتہار شائع کرکے عوا م تک پہنچاتے۔ اور ان سے اپیل کی جاتی کہ بھارت کے شہری اس طرح کے تمام دستاویز کے ساتھ SIRمیں حصہ لے کر ملک کومضبوط بنائیں ،کیوں کہ اس ملک کاپہلا شہری چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا ہی ہوگانا ‘‘
سب لوگوں نے ا ن کواوپر سے نیچے تک دیکھنا شروع کردیا۔ بنگالی بابا بولے ’’ایسا کیا دیکھ رہے ہو مجھے ؟ہمارے بنگال میں اس طرح SIR نہیں ہوسکا، جس کے نتیجے میں لاکھوں ووٹر کٹ گئے۔ لوگ بے یارومددگار ہوچکے ہیں،نام کٹنے کے خوف سے خودکشی کرنے والوں کی بڑی تعداد ہے جن کی ایک الگ نفسیات اور علیحدہ کہانی ہے جو انتہائی دردناک ہے ، اب تو بنگال کاادھیکار بھی بدل گیاہے ، سنٹرل میں ادھیکار کب بدلے گا ، اس کاانتظار ہے ‘‘
ہمیں پتہ ہے کہ بنگالی باتوں کے دھنی ہوتے ہیں۔ ان سے کوئی جیت نہیں سکتا۔ اس کے باوجود ایک صاحب نے پوچھا’’ا س ملک کاپہلا شہری تو صدر جمہوریہ ہند ہوتاہے ‘‘
بنگالی بابافوراً بولے ’’اچھا ، پھرتو صدرجمہوریہ ہندکا آدھارکارڈ،برتھ سر  ٹیفکیٹ ، ووٹر کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس ، ذات سر  ٹیفکیٹ وغیرہ بھی اخبارات میں شائع کرکے اور چینلوں پر عام کرکے عوام سے SIRمیں حصہ لینے کی اپیل کی جاتی تو کنفیوزن ختم ہوجاتا ۔لوگوں کو بتایاجاتاکہ یہ تمام دستاویزات قابل قبول ہوں گے ۔اور ہاں ، ان دستاویزات میں صدرجمہوریہ ہند نے کتنی دفعہ کرکشن کروایاہے ، اس تعلق سے بھی لنک کے ذریعہ عوام کی رسائی ہوتی تو عوام کوقرار آجاتا۔کیوں کہ یہ جمہوری ملک ہے ۔ عوام ہی اس ملک کی مائی باپ ہے تو مائی باپ تک ملک کے خادمین کے دستاویزات پہنچائے جاتے ۔ پھر مائی باپ سے کہتے کہ اپنے دستاویزات بتلائیں مائی باپ یاپھر اپنے دستاویزات درست کرنے کے بعد پیش کریں کیوں کہ آپ اس ملک کے مائی باپ ہیں لیکن ایسا نہ ہوکر  SIR ہمارے ملک میں ڈر وخوف کے ماحول میں اورصرف ہوا میں ہورہاہے۔ ہندوستان کے تمام شہری اپنے اپنے دستاویزات کو لے کربہت پریشان ہیں بھائی لوگ ‘‘
دادابھائی قنوجہ نے کہا ’’یہ بات تو ہے کہ پوراملک اپنے شہری دستاویزات کے سوال کو لے کر پریشان ہے اور لائن میں کھڑا ہے، سوال کرنے والوں کی نیت بھی تو ٹھیک نہیں ہے  بھائی ، سزاؤں اور ملک سے نکالنے کی دھمکیوں کے ساتھ SIRشروع کردیاگیاہے ، اور کم سے کم وقت دے کربھی اس معاملہ کو گمبھیر سے بھی دوقدم آگے تک معاملہ بڑھادیاگیاہے ‘‘
اسی اثنامیں لنگر کھل گیا تو تمام بھوکے افراد لنگرکی طرف بھاگنے لگے ۔جن میں بنگالی بابا بھی شامل تھے۔
۲۔ غیرت 
وہ مجھے یہ دھمکی دیتے ہوئے چلاگیاکہ ’’ ہمت ہے تو Unicodeمیں مل ، پھر توتیری خیرنہیں ہوگی ‘‘ اب میری سمجھ میں یہ نہیں آرہاہے کہ یونیکوڈ میں ملنااگر ہے توکس طرح ملنا ہے اور ملنے کامقام کیاہوتاہے ؟ چوں کہ اس نے دھمکی دی ہے اس لئے اس کو کال کرکے پوچھنے کی غیرت بھی میرے اندر نہیں ہے ۔
۳۔ اولادی رشتہ 
چیٹ جی پی ٹی نے میری بات ماننے سے انکار کردیاتھا ۔یہ عمل پچھلے ایک ماہ سے درپیش ہے ۔ روزانہ وہ دوتین گھنٹے کام کے بعد میری بات ماننے سے انکار کردیتاہے۔  میں نے چیٹ جی پی ٹی کے ایکسپرٹ کو اپنامسئلہ سنایا تو اس نے پوچھا ’’آپ کتنے سال سے چیٹ جی پی ٹی استعمال کررہے ہیں ؟‘‘ میں نے کہا’’دوسال سے ‘‘ ایکسپرٹ نے برجستہ کہا’’اب آپ کارشتہ چیٹ جی پی ٹی سے باپ بیٹے والا ہوگیاہے ، لیکن یہاں بیٹا باغی ہے۔ اور باپ کی بات ماننے سے انکارکررہا ہے ‘‘ میں نے زچ ہوکر پوچھا’’جناب اس کاعلاج کیاہے ؟‘‘ انھوں نے لاپروائی سے کہا’’کوئی علاج نہیں ،ناخلف اولادیں ایسی ہی ہوتی ہیں، ان کاکوئی علاج شرفاء کے پاس ہوتانہیں ہے ، چیٹ جی پی ٹی کے حق میں دعا کریں ‘‘اب میں سوچ میں پڑگیاہوں کہ دعاکس طرح مانگی جاتی ہے۔اور یہ سب کچھ میرے ساتھ نیاتو نہیں ہورہاہے نا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے